ن لیگ کو دن میں دو ریلیف

ہردن، ہر روز، انکشافات ہی انکشافات، کبھی ڈار صاحب کے خزانوں کی لمبی فہرست منظر عام پر، تو کبھی نیب کی پھرتیوں کی کہانی، کبھی وہ خزانے منجمد کر دیے جو اب ڈار کے ہیں ہی نہیں، مگر یہ کیا، یہ کیسا انکشاف ہوا، جو رپورٹ نہ ہوا، عدالتی بورڈ پر کیسز کی فہرست آویزاں تھی، جائزہ لیا تو دماغ گھوم گیا، خود کو جھنجوڑا، پھر پڑھا، مگر اسحاق ڈار کے نام کے آگے شہادت کی بجائے اشتہاری اور جائیداد ضبطگی کی کارروائی کے الفاظ لکھے گئے تھے، پہلا سوال ذہن میں آیا آج تو شہادتیں ریکارڈ ہونی ہیں، اور ویسے بھی اشتہاری کی کارروائی کیونکر شروع ہوسکتی ہے، ابھی تو وزیرخزانہ کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری نہیں ہوئے، پھر ایسی کارروائی کیوں ہوسکتی، عدالتی اہلکار سے پوچھا، اس نے فورا دوسرے ساتھی کو ڈانٹا اور کہا یہ کیا لگا دیا ہے، نئی لسٹ آویزاں کرنے کو کہا،لسٹ تبدیل ہوگئی مگر کئی سوال ذہن میں چھوڑ گئی، کیا عدالتی عملے کی غلطی تھی یا پھر جان بوجھ کر یہ غلطی سرزد کی گئی، کیا سب کچھ عجلت میں تو نہیں ہورہا، ایسے غلطیوں سے فائدہ کسی اور کو نہیں بلکہ ملزم کو ہوگا، بڑا کیس ہے، بڑی احتیاظ کا متقاضی ہے، میڈیا،قوم اور نگران جج نگرانی کررہے، کسی کی چھوٹی سی غلطی کیس پر بڑا اثر چھوڑ سکتی ہے، جس سے شفاف احتساب کا خواب خواب ہی رہ جائے گا، خیر بات انکشافات کی طرف نکل گئی، مگر دیکھا جائے تو آج کا دن ن لیگ کے نام رہا تو غلط نہ ہوگا، پہلی بار احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کی بات مانی گئی، نیب نے عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی استدعا کردی، ڈار کے وکلاء نے میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرایا اور کہا ڈار صاحب چل پھر نہیں سکتے تو عدالت کیسے آئیں، عدالت نے وکلاء کی بات مانی اور قابل ضمانت وارنٹ گرفتارکا فیصلہ ہی برقرار رکھا، بات یہاں ختم نہیں ہوتی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نواز شریف کی سنی گئی، سابق وزیراعظم کے وکیل نے دلائل دیے الزام ایک، متعدد گواہ بھی ایک، پھر تین ریفرنس کیوں، نیب پراسیکوٹر نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے جناب، نواز شریف وکیل نے سندھ ہائیکورٹ کے عدالتی فیصلے سامنے رکھ دیے، بتایا نیٹوکنیٹنرکیس میں نیب نے کراچی کی احتساب عدالت میں 49 ریفرنسز دائر کرڈالے، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے انکو ایک ریفرنس میں بدل دیا، ستاون دیگر ریفرنسز کو 17 ریفرنسز میں بدلنے کی عدالتی نظیر بھی پیش کردی، جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کیا یہ دلائل ٹرائل کورٹ میں نہیں دیے تھے، وکیل نے جواب دیا دیے تو تھے مگر فاضل جج نے ایک ہاتھ سے درخواست لی دوسرے سے واپس کردی، سپریم کورٹ نے کہاں لکھا ہے کہ تین ریفرنسز مشین میں ڈالنے ہیں اور سزا نکال لینی ہے، سپرم کورٹ نے ریفرنسز دائر کرنے کا کہا اب ٹرائل کورٹ کو اپنے اختیارات استعمال کرنا ہیں، وکیل کے بھاری بھرکم دلائل میں دبے نیب پراسیکوٹر نے نکلنے کی کوشش کی تو جسٹس عامر فاروق نے سوال پوچھنا چاہا، مگر پراسیکوٹر پوری قوت سے دلائل کی دلدل سے نکلنے میں مصروف تھے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے غصے میں کہا پہلے میری بات سنیں، کیافاضل جج نے درخواستیں مسترد کرنے کی تحریری وجہ دی، لیگی وکیل نے بتایا کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، دلائل مکمل ہوئے عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا، ساتھ کھڑے نیب پراسیکوٹر نے اپنے ساتھی کو کہا نواز شریف کی درخواست منظور ہوجائے گی، گویا دلائل سننے کے بعدوہ بھی نوشتہ دیوار پڑھ چکے تھے، عدالت نے فیصلہ سنایا تو 19 اکتبوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اور احتساب عدالت میں نواز شریف کی مسترد شدہ درخواستیں بحال کردیں، احتساب عدالت کو حکم دیا دوبارہ کیس سن کر فیصلہ کیا جائے، یوں مشکلات میں گھری شریف فیملی کو پہلا ریلیف مل گیا، انکشافات سے شروع ہونے والا دن ریلیف پر ختم ہوگیا!!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button