قابل مذمت کالم نگار

غفران عباسی

ویسے تو میں کسی کے خلاف نہیں لکھتا لیکن صاحب آج بات برداشت سے آگے نکل چکی ہے اسی لیے آپے سے باہر ہو رہا ہوں ۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہمیں ادب سے بہت لگاؤ ہے اور ہو بھی کیوں نا ۔ جس ادب کو بنانے میں غالب، میر، داغ، ساغر اور دیگر شعراء اور لکھاریوں نے زندگیاں صرف کر دیں وہاں کچھ بڑے نام نہاد بھانڈ اپنے آپ کو شاخِ زعفران گنتے ہیں اور ادب کے نام پر چورن اور پھلکیاں بیچنے میں مصروف ہیں ۔

موصوف چونکہ وزنی ہیں بلکہ بہت زیادہ وزنی ہیں اسی وجہ سے ان میں عقل بھی کم ہی پائی جاتی ہے ۔ لمبے قد کے حامل افراد میں عقل کی کمی ہوتی ہے یہ تو سنا تھا لیکن وزنی حضرات میں عقل بلکل بھی نہیں ہوتی یہ آج معلوم ہوا. بروز اتوار صبح سویرے ہی موصوف کا ایک کالم نظر سے گزرا جو کہ روزنامہ جنگ میں شائع ہوا ہے. ابتدائی چار پانچ سطور پڑھنے کے بعد ہی ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ۔
کیا کہنے آپ کے واہ واہ ۔ اس سلسلے کو وہاں ہی روکنا پڑا. یہاں موصوف کے حوالے سے کچھ اور بھی بتاتا چلوں کہ آج کل بڑی کرپشن کی داستانیں مشہور ہیں اور اڑھائی دن کی بادشاہت میں ایک سرکاری ادارے کو لوٹتے رہے. سنا ہے چائے کے معاملے میں بھی موصوف بڑے مہنگے ہیں اور ناک چوٹی میں گرفتار ہیں (یعنی نازک مزاج ہیں) . حلال کی چائے شاید انہیں راس ہی نہیں آتی. خیر مجھے ان کرپشن سے کوئی سروکار نہیں ۔ سرکار کا معاملہ ہے سرکار ہی جانے. لیکن جنابِ والا ادب، اردو اور قومی ورثہ کے ساتھ بلدکار کرنے پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے ۔ بھلے کوئی کہے اتنی سے جان، گز بھر کی زبان ۔

اسی حوالے سے گزارش یہ ہے کہ ایک تو لکھتے ہوئے تربیت آڑے آرہی ہے. دل تو چاہتا ہے کہ ساری حدیں عبور کر کے آپ کی ‘بے عزتی’ خراب کروں جس پر آپ کو بہت ناز ہے لیکن کیا کریں زمانے کی بنائی ہوئی گھٹیا روایات سامنے آجاتی ہیں وگرنہ جی تو بہت کچھ کرنے کو چاہتا ہے ۔ اب زرا مدعے کی طرف آتا ہوں. ایک تو آپ کو زرا لکھنا نہیں آتا ۔ اتوار، چائے اور تیسرے جنس کے علاوہ آپ کے پاس اس کالم میں لکھنے کو کچھ بھی نہیں . اور دوسرا دو تین الفاظ کے علاوہ تحریر میں اور بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جو کہ یقیناً آپ میں نہیں ہیں. تیسری مذمت کا مستحق وہ اخبار اور اسکا ایڈیٹر ہے جو بنا پڑھے آپ کی خرافات کو چھاپنے میں دیر نہیں لگاتا اور اس طرح عوام کا وقت ضائع کرنے میں آپ دونوں برابر کے شریک ہیں اور تنقید کے مستحق ہیں.

ایک نامی گرامی اخبار اور اس کے ایڈیٹر ہونے کے ناطے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تمام تحاریر کو پڑھے اور اس کے بعد صرف کارآمد تحریر کو چھاپے مگر یہاں تو گنگا الٹی بہتی ہے جیسے آپ لکھنے میں نہلے ہیں ویسے ایڈیٹر بھی پڑھنے کے حوالے سے دہلا ہی ہوگا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اختیار بدستِ مختار (صاحب اختیار جو چاہے سو کرے) .۔

یوں ایک اور درخواست تمام بڑے نام نہاد ادیبوں اور ایڈیٹروں سے کرنا چاہتا ہوں کہ حضور آپ کی بڑھکوں اور بونگیوں کی بدولت ادب آئے روز گھاٹے میں جا رہا ہے. اور اگر یہی کام کسی میرے جیسے متوسط درجے کے اناڑی سے ہوتا تو اخبار بھی پابندی لگا دیتا اور سستا ادبی طبقہ بھی چیختا لیکن اب یہ بونگی بہت بڑے وزنی شخص سے ہوئی، لہذا سب مٹی ڈالنے کا کام کریں گے اور کریں بھی کیوں نا ۔ اجارہ داری ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں اور آفرین ہے اس اخبار پر جس نے ایسی فضول ترین تحریروں کو چھاپنے کا ٹھیکا اٹھایا ہوا ہے ۔

متعلقہ مضامین