سینٹ الیکشن کے ہر پہلو پر ایک نظر

بڑے ایوان کا بڑا انتخاب ، بڑی منڈی کی بازگشت
کس اکائی میں میں کس کی کیا پوزیشن ہے یا ہوگی ؟
سینیٹ انتخاب میں کون فائدے اور کون خسارے میں؟
کہاں کتنے ووٹ درکار اور کون خلفشار کا شکار؟

رپورٹ:عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com

سینیٹ آف پاکستان کے104میں سے نصف (52)ارکان ہر 3سال میں اپنی6سالہ مدت مکمل کرکے ریٹائر ہوتے ہیں۔ سینیٹ ہمارا بڑا ایوان ہے مگر جب بھی سینیٹ کے انتخابات ہوتے ہیں تو ہارس ٹریڈنگ کی باتیں زبان زد عام ہوتی ہیں ،جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑے ایوان میں سب سے بڑی ’’منڈی ‘‘لگی ہے ۔ اس بار تو بازگشت پاکستانی روپے میں نہیں بلکہ ڈالر ، پاؤنڈ اور یورو کی کرنسی میں بیرون ملک ادائیگی کی باتیں ہورہی ہیں۔خبریں ہیں کہ مختلف اکائیوں میں مختلف کیٹگریوں اور ترجیحات کے حساب سے الگ الگ ریٹ طے ہوئے ہیں ۔بالترتیب فاٹا،بلوچستان ،خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ پراربوں اور کروڑوں کی باتوں بازگشت ہے ۔بعض حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجموعی طور پر سینیٹ انتخاب میں 10سے 12ارب روپے کی خرید و فروخت ہوئی ہے۔اگر یہ دعوے ،خبریں اور باتیں کلی یا جزوی طور پر درست ہیں تویہ بہت بڑا المیہ ہے اور ذمہ دارادرواں کو اس کا نوٹس لیکر ہر دو طرف ملوث عناصر کو نشان عبرت بنانا چاہئے ۔

اس بار بھی نصف(52)ارکان اپنی 6سالہ مدت11مارچ2018ء کو پوری کر رہے ہیں ، جن میں 33جنرل ، 9ٹیکنوکریٹ ،8خواتین اور 2اقلیتی سینیٹرز شامل ہیں۔11مارچ کو سندھ اور پنجاب سے 12، 12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے11، 11، فاٹا سے 4اور وفاقی دارالحکومت سے 2سینیٹرز ریٹائر ہونگے ۔ریٹائر ہونے والوں میں ہر صوبے سے 7جنرل ، 2ٹیکنوکریٹ اور2خواتین کی نشستوں منتخب ہونے والے سینیٹرز ہیں،جبکہ پنجاب اور سندھ سے ایک ایک ا قلیتی سینیٹر بھی ہے۔ فاٹا سے 4جنرل اور وفاقی دارالحکومت سے ایک جنرل اور ٹیکنوکریٹ نشست پر منتخب ہونے والا سینیٹر ریٹائر ہوگا۔سب سے زیادہ سینیٹرزپیپلزپارٹی کے ریٹائر ہونگے جن کی تعداد 18ہے اور پیپلز پارٹی کی پنجاب اور خیبر پختونخواسے ایوان بالا میں نمائندگی ختم ہوگی ، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کی ایوان بالا میں نمائندگی مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان ہے ۔
سبکدوش ہونے والے سینیٹرزمیں اسلام آباد سے جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے عثمان سیف اﷲ خان اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پرق لیگ (اب ن لیگ سے امیدوار) کے سینیٹر مشاہد حسین سیّد، بلوچستان سے جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے نوابزادہ سیف اﷲ مگسی، سردار فتح محمد حسنی، محمد یوسف، جمعیت علماء اسلام (ف) کے حافظ حمد اﷲ ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے میر اسرار اﷲ خان زہری، مسلم لیگ (ق) کے سعید الحسن مندوخیل، عوامی نیشنل پارٹی کے ایڈووکیٹ محمد داؤد خان اچکزئی، خواتین کی مخصوص نشستوں پر بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کی نسیمہ احسان، مسلم لیگ (ق) کی روبینہ عرفان، علماء و ٹیکنو کریٹ نشستوں پر جمعیت علماء اسلام (ف) کے مفتی عبدالستار اور پیپلز پارٹی کے روزی خان کاکڑ شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا سے جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے احمد حسن، حاجی سیف اﷲ خان بنگش، عوامی نیشنل پارٹی کے باز محمد خان، شاہی سیّد، جمعیت علماء اسلام (ف) کے محمد طلحہ محمود، تحریک انصاف کے محمد اعظم خان سواتی، مسلم لیگ (ن) کے نثار محمد، خواتین کی مخصوصی نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کی زاہدہ خان اور پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد، ٹیکنو کریٹ کی مخصوص نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کے الیاس احمد بلور اور پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر شامل ہیں۔ فاٹا سے سبکدوش ہونے والوں میں محمد صالح شاہ، ملک نجم الحسن، ہدایت اﷲ اور ہلال الرحمن شامل ہیں۔ سندھ سے جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی، کریم احمد خواجہ، مختار احمد عاجز دھامرا، بیرسٹر مرتضی وہاب، ایم کیو ایم پاکستان کے مولانا تنویر الحق تھانوی، سیّد طاہر حسین مشہدی، مسلم لیگ فنکشنل کے سیّد مظفر حسین شاہ، خواتین کی مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی سحر کامران اور ایم کیو ایم پاکستان کی نسرین جلیل، ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کے تاج حیدر اور ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر محمد فروغ نسیم جبکہ غیر مسلموں کی ایک نشست پر پیپلز پارٹی کے ہری رام شامل ہیں۔ پنجاب سے جنرل نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، ایم حمزہ، محمد ظفر اﷲ خان، سعود مجید، سیّد آصف سعید کرمانی، آزاد سینیٹر محمد محسن خان لغاری، مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی نزہت صادق اور پیپلز پارٹی کی خالدہ پروین، ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) کے محمد اسحاق ڈار جبکہ غیر مسلموں کی خالی ہونے والی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے کامران مائیکل شامل ہیں۔


نئے سینیٹرز کے لئے پولنگ3مارچ2018ء کو(آج) چاروں صوبائی اور قومی اسمبلی میں ہوگی ۔ متوقع انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو سب سے زیادہ فائدہ اور اس کی نشستیں32سے 35ہونے کا امکان ہے(بلوچستان میں حکومتی تبدیلی اور ن لیگ میں بغاوت نہ ہوتی اور 21فروری 2018ء کے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار آزاد نہ ہوتے تو ن لیگ کو مجموعی طور پر 17سے 20نشستیں ملنے کا امکان تھا ، اب خدشہ ہے ن لیگ کو 3سے6نشستوں کا نقصان ہوگا)، جبکہ تحریک انصاف ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی بھی فائدے میں رہے گی ،تاہم عوامی نیشنل پارٹی بھی خسارے میں رہے گی۔
سندھ میں پیپلزپارٹی سینیٹ کی تمام 12نشستوں کے حصول کے لئے کوشاں ہے ۔سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے 94ہیں جس کی بنیاد پر پیپلزپارٹی 4 جنرل ایک ٹیکنو کریٹ ، ایک خاتون اور ایک اقلیتی نشست باآسانی جیت سکتی ہے،تاہم پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کو مجموعی طور پر 120سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے،اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پیپلزپارٹی مجموعی طور پر 11نشستوں میں کامیاب ہوگی۔ بظاہر امکان یہی ہے کہ پیپلزپارٹی کیلئے 10سے زائد نشستوں کا حصول کافی مشکل ٹاسک ہے ، تاہم حکومتی جماعت ہونے، اپوزیشن کے انتشار اور خاص قوتوں کے تعاون کا بھرپور فائدہ پیپلزپارٹی کو مل سکتاہے۔


سندھ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ایم کیوایم پاکستان اس وقت شدید خلفشار ، گروپ بندی اور مایوسی کا شکارہے۔ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی کی مایوسی کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اسمبلی میں آنا ہی چھوڑ دیاہے،جبکہ ایم کیوایم کے مرکزی رہنماء اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خوجہ اظہار الحسن 23فروری کے اجلاس میں واضح طور پر کہاہے کہ ایم کیوایم کے انتشار کی صورت میں وہ آئندہ اسمبلی میں آئیں گے اورنہ ہی سینیٹ کے انتخابی عمل میں شریک ہوں گے۔سندھ اسمبلی ریکارڈ کے مطابق ایم کیوایم کے 50ممبران ہیں جو اس وقت6 گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں سے12سے 15ممبران ڈاکٹر فاروق ستار کے ایم کیوایم پاکستان ( پی آئی بی گروپ) ،10سے 12ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ایم کیوایم پاکستان(بہادرآباد گروپ) ،7پاک سرزمین پارٹی ، 4ایم کیوایم لندن،1پیپلزپارٹی اور15کے قریب ارکان اتشار سے مایوس ہوکر عملًا لاتعلق ہوچکے ہیں اور امکان ہے کہ ان میں سے بعض خفیہ رائے شماری میں پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں گے ۔4نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن رکھنے والی جماعت ایم کیوایم پاکستان انتشارکے باعث اب اس کا کوئی بھی گروپ انفرادی طورپر ایک نشست جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تادم تحریر الیکشن کمیشن میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بہادر آباد گروپ اورڈاکٹر فاروق ستار کے بی آئی بی گروپ کی پارٹی کے نام ، جھنڈے اور انتخابی نشان کے لئے قانونی جنگ جاری ہے ، جس کے حق میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئے اس کی پوزیشن میں کچھ بہتری آئے گی مگر یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ انفرادی طور پر وہ کوئی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔امکان ہے کہ یہ قانونی جنگ الیکشن کمیشن تک ہی محدود نہیں رہے گی ۔ اب دونوں گروپ متحدہوں یا الگ الگ رہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گاکہ ایم کیوایم کی آپس کی لڑائی نے اس جماعت کو مکمل طور پر سیاسی میدان میں مفلوج کردیاہے۔


ایم کیوایم کے متبادل کے طور پرپاک سرزمین پارٹی اپنے آپ کو پیش کررہی ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم اور تحریک انصاف سے منحرف ہوکر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان سندھ اسمبلی متحرک ہوئے ۔3 مارچ 2016ء سے 28دسمبر 2017ء تک منحرف ہونے والے 8 ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے اور اس دوران مراعات بھی حاصل کرتے رہے۔ پاک سرزمین پارٹی سندھ اسمبلی کے ایوان میں سرگرم ہوگئی اور اس کے سینیٹ کے لئے 4 امیدوار بھی ہیں۔پاک سرزمین پارٹی کے پاس 8ووٹ ہیں جبکہ سینیٹ کی ایک جنرل نشست کیلئے کم از کم 21ووٹ درکار ہیں۔سندھ میں مسلم لیگ (ف) بھی سینیٹ کی ایک نشست کیلئے کوشاں ہے ، جس کے پاس 9ووٹ اپنے ہیں ،ذرائع کے مطابق ن لیگ کی قیادت کی ہدایت پر گورنر سندھ محمد زبیر نے ن لیگی ارکان کو گورنر ہاؤس بلاکرمسلم لیگ(ف) کی حمایت کا کہا ہے۔ن لیگ کے7 ارکان میں سے ایک رکن پہلے ہی منحرف ہوکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوچکاہے جبکہ ایک رکن سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم مسلم لیگ(ف) کے اتحاد ی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ باقی5 ارکان میں سے بھی بیشتر پیپلزپارٹی کی حمایت کریں گے۔صوبے میں تحریک انصاف بھی صرف3ووٹوں کے ساتھ کم سے کم 55ووٹوں والی نشست کے لئے کوشاں ہے۔سندھ میں یہ باز گشت بھی ہے کہ ایک ووٹ کی قیمت دو کروڑکی حد کو کراس کرچکی ہے۔
مسلم لیگ فنکشنل ، پاک سر زمین پارٹی اور تحریک انصاف کے مابین جنرل نشست مسلم لیگ فنکشنل ،ٹیکنو کریٹ کی نشست پرتحریک انصاف اور اقلیتی نشست پر پاک سر زمین پارٹی کے امیدوار کی حمایت کے فارمولہ طے ہوا ہے تاہم تادم تحریر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔اس کی مفاہمت میں جنرل نشست پر مسلم لیگ فنکشنل کا امیدوار سابق وزیر اعلیٰ سندھ سینیٹر سید مظفر حسین شاہ کے با آسانی کامیابی کا امکان ہے تاہم باقی دونوں نشستوں کے لئے مطلوبہ کم سے کم 55 ووٹ(ہر ایک کے لئے الگ الگ) ملنابہت مشکل ہے۔
وفاق میں دو نشستوں کے لئے 6امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے ایک ٹیکنو کریٹ نشست کے لئے 2 اور ایک جنرل نشست کے لئے 4امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔وفاق کے سینیٹر کا انتخاب قومی اسمبلی کے 342 میں سے 340 ارکان کریں گے جبکہ وفاق میں ایک نشست کے لئے 171 ووٹ درکار ہیں قومی اسمبلی میں عددی حساب سے یہ دونوں نشستیں مسلم لیگ ( ن )کے حمایت یافتہ امیدواروں مشاہد حسین سید اور محمد اسد علی خان جو نیجو کے حصے میں آنا یقینی نظر آتاہے۔


پنجاب میں سینٹ کی 12 نشستوں کے لئے پولنگ ہوگی اور 20امیدوار میدان میں جن میں سے 7جنرل نشستوں کے لئے 10، دو ٹیکنوکریٹ نشستوں کے لئے5، دو خواتین نشستوں کے لئے 3اور ایک اقلیتی نشست کے لئے 2امیدوار میدان میں اترے ہیں۔ عددی اعتبار سے پنجاب میں 12میں سے11نشستیں مسلم لیگ ( ن ) کے باآسانی حاصل کرسکتی ہے ،جن میں 6 جنرل ،2 ٹیکنو کریٹ 2 خواتین اور ایک اقلیتی نشست شامل ہے تاہم ایک جنرل نشست پر اپوزیشن اور ن لیگ کے مابین سخت مقابلہ ہوسکتا ہے۔اپوزیشن کی تین بڑی جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ق ) اور پیپلز پارٹی کے پاس 46 ووٹ ہیں جبکہ ایک جنرل نشست کے لئے پنجاب میں.01 46ووٹ درکار ہیں۔یہ تینوں جماعتیں متحد ہوتی ہیں تو ایک جنرل نشست پرکامیابی مل سکتی ہے ،مگرتینوں جماعتیں اپنے امیدواروں کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ 21 فروری 2018ء عدالتی کے فیصلے کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ ( ن ) کو سخت مشکلات کا سامنا ہوگا تاہم یکم مارچ کو نہال ہاشمی کی نااہلی سے خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ن لیگ کے ارکان اسمبلی اب تک متحد ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ یہ اتحاد 3مارچ (آج ) بھی برقرار رہتا ہے یا نہیں؟پنجاب میں تحریک انصاف توجہ دے تو چوہدری محمد سر ور کی نشست نکالنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔اپوزیشن نے پنجاب میں ن لیگ سے ایک سے زائد نشست چھینے کی کوشش کی تو اس کو کم سے کم 47 ارکان توڑنے پڑیں گے جو بظاہر کافی مشکل ہے حالانکہ 21 فروری کے عدالتی فیصلے کے بعد ارکان اسمبلی کے لئے قانونی طور پر یہ آسان ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کو ووٹ دیں اور پارٹی قانونی پر ان کی گرفت بھی نہ کر سکے ،تاہم اخلاقی طور پر ان ارکان کے لئے مشکلات کا سامنا ہوگا۔
اس وقت سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال بلوچستان کی ہے،جہاں پر 11 نشستوں کے لئے 25 امیدوار میدان میں ہیں اور بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں اور ہارس ٹریڈنگ کی بازگشت ہے۔اسمبلی میں موجود عدد کے حساب سے مسلم لیگ ( ن ) کا پلہ بھاری تھا تاہم ان کی حکومت کی تبدیلی کے بعد اب مسلم لیگ ( ن ) کے لئے 2 سے 3 نشستوں کا حصول بھی مشکل ہوا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کی بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ مسلم لیگ ( ن ) کو سینیٹ میں زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول سے روجائے ۔یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ آزاد ارکان میں ایک نصف درجن کے قریب امیدواروں کوپس پردہ پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور بلوچستان اسمبلی میں پیپلزپارٹی کا ایک بھی رکن نہیں ہے لیکن پیپلز پارٹی کے حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ 4 سے 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔اس وقت بلوچستان میں بنیادی طور پر4گروپ کام کر رہے ہیں ۔ایک اتحاد پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) ثنا اﷲ زہری کے حامی ارکان کا ہے جن کی مجموعی تعداد 27 ووٹ ہیں اور اگر یہ گروپ اپنے ارکان کو جوڑے رکھنے میں کامیاب رہاتو اس کے حصے میں 5 نشستیں آئیں گی ،جن میں 3 جنرل ،1 ٹیکنو کریٹ اور 1 خواتین نشست ۔ دوسرا گروپ جمعیت علماء اسلام ( ف ) اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے پاس 12ارکان ہیں۔یہ دعویٰ درست ہے تو اس گروپ کو 2 جنرل نشستوں کے لئے مزید4 ووٹ کی ضرورت ہے۔تیسرا گروپ موجود وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی سر براہی میں قائم ہے جس کے بارے میں دعویٰ ہے کہ ان کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور اس گروپ کے پاس18سے20 ارکان ہیں اور اس کے حصے میں 2 جنرل نشستیں ہی آسکتی ہیں۔چوتھا گروپ 6سے8ارکان پر مشتمل ہے ۔ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک خاتون نشست کا فیصلہ یہی گروپ کرسکتاہے۔بلوچستان کے سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ کے گروپ کے امیدوارآزاد حیثیت میں جیت کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونگے۔
سینیٹ انتخابات کے حوالے سے خیبر پختونخواہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے کیونکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان اورفاٹا کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ میں بھی بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کی گئی ہے اور نتائج توقع کے برعکس ہو سکتے ہیں ۔خیبر پختو نخواہ میں 11 نشستوں کے لئے 27 امیدوار میدان میں ہیں۔اسمبلی میں موجود ارکان اسمبلی کے حساب سے تحریک انصاف 5 سے 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتی ہے تاہم ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ایک درجن کے قریب ارکان شدید ناراض ہیں اور اگر یہ ارکان اپنی وفادرای تبدیل کرتے ہوئے کسی اور امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں تو تحریک انصاف ایک جنرل نشست سے محروم ہو گی۔یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ( ن ) کے مابین خفیہ معاہدہ ہوا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے۔اس طرح ان کے مجموعی ارکان کی تعداد 75 کے قریب بنتی ہے جن کے ذریعے وہ 5 جنرل 1 ٹیکنو کریٹ اور 1 خاتون نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دونوں جماعتوں میں 2 اور 5 نشستوں کا معاہدہ ہوا ہے۔خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد 6 ہے جو ایک جنرل نشست کے لئے بھی پورے نہیں ہیں ،لیکن پیپلز پارٹی نے تینوں کیٹگریوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارا ہے۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا سے 2 سے 3 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی اور اس کے لئے ہر سطح پر ہر طرح کی کوشش کی جارہی ہے ۔جمعیت علماء اسلام(ف) ،قومی وطن پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگرکے ارکان کی مجموعی تعداد33 سے زائد بنتی ہے۔جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ اندرون خانہ ان کے مابین مفاہمت ہو چکی ہے اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ جماعتیں 2 جنرل ،1 ٹیکنو کریٹ اور 1 خاتون نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔خیبر پختونخوا کے بارے میں بھی فی الحال واضح طور پر کچھ کہنا کافی مشکل ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر مالی اخراجات اور ووٹرز کے لئے مراعات کی بازگشت ہے۔
بلوچستان کے بعد سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال فاٹا کی ہے جہاں پر صرف 4 جنرل نشستوں کے لئے 24 امیدوار میدان میں ہیں اور ووٹرز کی تعدادصرف 11ہے۔ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے 4 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا ہے اور باقی جماعتوں کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے فاٹا ہمیشہ بدنام رہا ہے اور اس بار بھی فاٹا اور بلوچستان کے حوالے سے کروڑ نہیں اربوں روپے کی باز گشت ہے۔یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر صورت فاٹا ، خیبر پختونخوااوربلوچستان سے 5 سے8 نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ میں اس بار سب سے زیادہ اہم کردار پیپلز پارٹی کا رہا ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ سینیٹ انتخابات جس طرح اس بار متنازع ہوئے اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔غالباً ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ آف پاکستان میں کسی جماعت کے عددی برتری کو کم سے کم کرنے کے لئے پہلے سینیٹ انتخابات کو روکنے کی کوشش کی گئی ناکامی پر ایک صوبے میں کسی جماعت کی حکومت کی تبدیلی گئی ۔بعض حلقے ن لیگ کے جماعت کو بطور جماعت انتخابی عمل باہر ہونے کو بھی اسی سے جوڑتے ہیں۔بھر حال اب فیصلہ تاریخ کرے گی ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے