صحافی اور شکرا

محمد امنان
گئے دنوں کی بات ہے جنگل میں ہو کا عالم تھا، جنگل کے چرند پرند اور نباتات سوگ میں ڈوبے گئے تھے،  معاملہ کیا تھا سب کو پتہ تھا مگر کوئی بول نہیں رہا تھا کیونکہ سب اندر سے ڈرے ہوئے تھے یا پرائی آگ میں اپنا دامن جلانے سے بچ رہے تھے ۔

اصل میں ہوا یوں کہ جنگل میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ جانور کی موت پر لاش صحیح طرح سے ٹھکانے لگائے جائے گی مردار کھانے والے جنگل سے باہر کہیں اپنا ٹھکانہ بنا لیں، جنگل میں مردار کھانے کی اجازت نہیں ہے _ "شکرا” پورے جنگل کی خبر دینے پر معمور کیا گیا کیونکہ عقاب کی برادری میں شکرا کئی ہزار میٹر کی بلندی سے بھی ہر چیز کو واضح دیکھ سکتا تھا، طے پا گیا اجلاس ختم ہو گیا_

سب جانور متفق ہو گئے، سب نے فیصلے کا خیر مقدم کیا لیکن گیدڑ اور گدھوں کی سوچ میں پیدائش کے وقت سے فتور تھا_ انہوں نے وقتی طور پہ فیصلہ مان لیا اور جنگل کے باہر ٹھکانے لگا لئے، سانپ چونکہ ڈسے بغیر رہ نہیں سکتا تھا اس لئے گدھوں اور گیدڑوں نے سانپ کو ورغلانا شروع کر دیا_ چند دنوں بعد سانپ نے ایک ایک کر کے مختلف معصوم جانوروں کو ڈسنا شروع کیا اور رات کے اندھیرے میں گدھوں اور گیدڑوں نے مردہ جانور کھانا شروع کر دئیے _

شکرے کو دال میں کچھ کالا محسوس ہوا تو اس نے الو سے مشورہ کیا اور بغیر کچھ بتائے گیدڑوں اور گدھوں پر نظر رکھنا شروع کر دی،  جنگل میں سب کو پتہ چل چکا تھا کہ حالات بدل رہے ہیں مگر شکرے کی قابلیت پر بھروسہ کر کے سب چین کی نیند سوتے رہے،  شکرا مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا اچانک سے گدھوں اور گیدڑوں میں مردار کی بجائے زندہ ماس کھانے کی خواہش جاگنے لگی_

ایک رات گیدڑ نے سردار گدھ کی شہ پر ہرن پر جھپٹا مارا،  شور مچانے پر دیگر ہرنیاں بھی جمع ہو گئیں اور معاملہ رات میں رفع دفع ہو گیا_ صبح شکرا اور اس کے ساتھی جب گیدڑوں اور گدھوں سے اس معاملے کی بابت دریافت کرنے گئےتو گیدڑوں نے بڑے گیدڑ کے حکم پر شکروں پر حملہ کروا دیا شکرے تعداد میں تھوڑے تھے اور قانون کے مطابق لڑنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث زخمی ہو گئے دیگر ساتھیوں اور بڑوں کو اس بات کا علم ہوا تو سب نے شکروں کے حق میں احتجاج کیا مگر قانون پر عمل کروانے اور حفاظت کرنے والے جعلی شیروں کو شکار کا لالچ دے کر گدھوں اور گیدڑوں نے ساتھ ملا لیا اور بیچارہ شکرا خبر رسانی اور سچ پہنچانے کی پاداش میں تنہا رہ گیا_

شکرے کا لہو بہتا رہا، سب نے چپ سادھ لی، بات آئندہ کے لئے ٹال دی گئی اور شکرا بیچارہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا_ سچ دکھانے کی سزا شکروں کو یوں ملی کہ بزرگ شکروں نے بھی حالات سے وقتی طور پہ سمجھوتا کر لیا اور جوان شکرے دل ہی دل میں کڑھتے رہ گئے ۔۔۔۔۔۔

اس کہانی میں بیان شدہ گیدڑ اور گدھ سول اسپتال فیصل آباد کی انتظامیہ اور ایم ایس سے مشابہت رکھتے ہیں جنہوں نے ایک عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے وارڈ بوائے کو بچانے کی غرض سے میڈیا کے شکروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر اپنے ‘فرائض’ نبھانے کی کوشش کی ہے _

ملک میں صحافیوں یا فیلڈ ورکرز پر ہونے والے ظلم پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کیونکہ ہر ڈیپارٹمنٹ صحافیوں پر تشدد سے دلی راحت پاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ ہم صحافی جھوٹ کو سر بازار لٹکا دیتے ہیں اور یہ ہی ہمارا جرم ہے_  پورا جنگل بھی خلاف ہو جائے لیکن شکرا اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹے گا_

دنیا میں جب بھی ظلم نے پر پھیلائے ہیں
تب تب میرا قلم بھی ہے تلوار بن گیا

گیدڑوں اور گدھوں کے لئے میرے پاس ایک پیغام ہے،  نوجوان شکرے عوام تک خبریں پہنچانے کے لیے اسی طرح گھوم رہے ہیں،  انداز بیاں اور قلم کا ہتھیار لئے _

اس تحریر بے فائدہ کا مقصد جذبات دکھانا یا ہمدردی حاصل کرنا نہیں ہے_ شکرے اب بھی اپنی ڈیوٹی پر ہیں _

متعلقہ مضامین