مطیع اللہ جان نے کشمالہ سے کیا پوچھا؟

فرحان احمد خان

مطیع اللہ جان نے کشمالہ طارق سے انٹرویو کے آغاز میں ان کا تعارف کرایا اور پھر خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے سوالات کیے ۔ کشمالہ طارق نے اپنے ماضی کی خواتین کے لیے کی گئی کاوشوں کا حوالہ دیا ۔ اس بیچ مطیع اللہ جان نے سوال کیا کہ آپ کے نزدیک ”ہراسمنٹ” کی کیا تعریف ہے تاکہ ناظرین کو سمجھ آ سکے ۔ کشمالہ طارق نے اس کا کچھ نہ کچھ جواب دیا ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک خواتین کے حقوق پر بات ہوتی رہی ۔

مطیع اللہ جان نے دوران گفتگو سوال کیا کہ ایک آمر کے دور میں آپ خصوصی نشست پر پارلیمنٹ کا حصہ بنیں ، اس وقت جو درخواست آپ نے اپنی پارٹی یعنی قاف لیگ کو دی تھی اس میں اپنی کیا کوالیفکیشن لکھی تھی جس کی بنیاد پر آپ خود کو خصوصی نشست کی اہل سمجھتی تھیں؟ اس سوال کا جواب آئیں بائیں شائیں تھا ۔ اسی ذیل میں کشمالہ نے مشرف عہد کی تعریف کی کہ اس دور میں خواتین کو پارلیمنٹ میں زیادہ نمائندگی ملی اور کچھ قوانین کا حوالہ بھی دیا ، جن کے بننے کا کریڈٹ کشمالہ اپنے نام کرتی ہیں ۔

مطیع اللہ جان نے ایک اور سوال کیا کہ آپ نے انسانی حقوق کے لیے اپنی خدمات کا حوالہ دیا ، مشرف دور میں بلوچستان میں مسنگ پرسنز اور پھر مشہور شازیہ ریپ کیس کے حوالے سے آپ نے کوئی آواز اٹھائی؟ کشمالہ کا جواب نفی میں تھا انہوں نے کور کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ”میں کسی حکومتی عہدے پر نہیں تھی ” ۔۔ لیکن وہ اس وقت غصے میں آ چکی تھیں اور باربار کہہ رہی تھیں: ”ڈونٹ پُٹ یور ورڈز اَن مائی ماوتھ” ۔

مطیع اللہ نے ایک سوال یہ بھی پوچھا کہ ایک آمر کے دور میں پارلیمنٹ کا حصہ بننے پر آپ کو کوئی پچھتاوا ہے؟ کشمالہ کا جواب تھا : ”نہیں کوئی شرمندگی نہیں ، جس نے جو اچھا کام کیا ، اسے اس کا کریڈٹ ملنا چاہیے ۔” مشرف کے بارے میں یہ بات کشمالہ کہہ تو چکی تھیں لیکن دِل میں شاید انہیں احساس ہوا ہو کہ ابھی 15 دن قبل انہیں مسلم لیگ نواز کی حکومت ایک عہدے سے نوازا ہے ، اور مسلم لیگ نواز تو مشرف کی مخالف ہے ، اس لیے اس سوال کے بعد اُن کے لہجے میں ذرا بدلاو آ چکا تھا۔

دو چار سوالات کے بعد انہوں نے کہا کہ ”مطیع! آپ کو مشرف آج بہت کیوں یاد آ رہا ہے؟”آپ نیگیٹو مائنڈ کے ساتھ آئے ہیں ، ہمیں تو خواتین کے حوالے سے مثبت پیغام دینا تھا” ۔ مطیع اللہ جان نے مسکراتے ہوئے کہا : جی جی دیجیےمثبت پیغام ضرور ۔ کشمالہ نے ”مثبت پیغام” دیا ۔

اس کے بعد چند منٹ کے لیے گفتگو ہموار رہی پھر مطیع اللہ جان نے سوال کیا کہ آپ وکیل بھی ہیں ، آپ جس قانون کے تحت اس عہدے (وفاقی محتسب برائے خواتین) پر تعینات ہوئی ہیں، کیا اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گی کہ وہ کیا ہے؟ کشمالہ نے رُوکھے انداز میں کہا کہ یہ اپوانٹنگ اتھارٹی سے پوچھیں ۔ مطیع نے پوچھا: اچھا یہ فرمائیے کہ آپ کے ادارے کا دائرہ کار کیا ہے؟ کشمالہ نے پھر وہی جواب دیا ۔۔۔ پھر کہا کہ ”تمام وفاقی اور صوبائی ادارے ہمارے ماتحت آتے ہیں” ۔ مطیع کا اگلا سوال تھا : کیا عدلیہ بھی آپ کے ادارے کے تحت آتی ہے؟ کشمالہ کا پارہ چڑھ چکا تھا ، انہوں نے جواب نہیں دیا ۔

مطیع اللہ نے ضابطہ پڑھتے ہوئے سوال کیا کہ اس عہدے کے لیے 15 سال بطور وکیل پریکٹس لازم شرط ہے ، یعنی جو شخص ہائی کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو ، وہ اس عہدے پرلگایا جا سکتا ہے ، کیا آپ نے 15 برس پریکٹس کی ہے ۔ کشمالہ کا جواب تھا کہ یہ مجھ سے نہیں اپوائنٹنگ اتھارٹی سے پوچھیں ۔ مطیع اللہ نے یہ بھی پوچھا کہ آپ کی اپوائنٹمنٹ کے بعد جنسی ہراسگی کے کتنے کیس رپورٹ ہوئے ، جواب تھا 9، پھر سوال کیا گیا کہ چارج لیتے وقت کتنے تھے ؟ کشمالہ نے پہلے لاعلمی کے سے انداز میں غصہ دکھایا اور پھر کہا 510 ، ”ایگزیکٹ بتا رہی ہوں” ۔

یہ تو تھا مطیع اللہ جان اور کشمالہ طارق کے درمیان ہونے والے مکالمے کا خلاصہ، میرا خیال ہے ہے کہ بہت سے لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ کشمالہ طارق کے غصہ ہو جانے کی وجہ کیا تھی ۔ جو میں سمجھا وہ مختصراً یہ ہے :

1۔ کشمالہ گفتگو کے بہاو میں مشرف کے بارے میں جن خیالات اظہار کر چکی تھیں ، ان کو وفاقی محتسب کا عہدہ دینے والی مسلم لیگ نواز کے لیے وہ قطعی پسندیدہ نہیں ہیں، سو انہیں احساس ہوا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ۔

2۔ کشمالہ سے مطیع اللہ جان نے شازیہ ریپ کیس اور مسنگ پرسنز کے بارے میں سوال کیا، تو ان کے انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کی قلعی کھل گئی ۔ یہ کھلا تضاد تھا، سو کشمالہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ آشکار ہو ۔

3۔ کشمالہ نے جو عہدہ نواز لیگ کی حکومت سے لیا ہے ، اس کے بارے میں قانون سے لاعلمی ، محکمے کے دائرہ اختیار سے لاعلمی وغیرہ بھی کشمالہ کی کمزوریوں کو عیاں کرتے ہیں ۔

مجموعی طور پر یہ ایک ایسا انٹرویو تھا جس کی ابتداء ہموار تھی لیکن جوں جوں یہ آگے بڑھا تو تلخی بڑھتی گئی ، کشمالہ نے اس بیچ مطیع اللہ جان پر ایک الزام بھی لگایا ، لیکن مطیع اللہ جان نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ آپ آن ائیر بتائیے کہ وہ کیا تھا ، لیکن کشمالہ گول کر گئیں۔ انٹرویو میں کشمالہ طارق کو سخت مشکل سوالات کا سامنا رہا اور ان کی شخصیت اور سیاسی کرئیر کے بہت سے تضادات سامنے آئے ۔ بار بار پارٹیاں بدلنا بھی زیر بحث آیا ، اس لیے جب انٹرویو مکمل ہوا تو کشمالہ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ ٹی وی پر چلے ۔ اس کے بعد اسی دفتر کے عملے نے مطیع اللہ جان اور ان کی ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش کی اور انہیں حبس بے جا میں رکھا ، اور ہاتھا پائی میں مطیع اللہ جان کے کپڑے بھی خراب ہوئے اور انہیں خراشیں بھی آئیں ۔

انٹرویو بہرحال رات دس بجے نشر ہو ہی گیا ، مطیع اللہ جان کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے سافٹ ہدف کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان کے کریڈیٹ پر اس سے بڑے کئی انٹرویوز بھی ہیں ۔ ہاں انہوں نے ایسے لوگوں میں ایک کا آج انتخاب کیا ، جو ہر چڑھتے سورج کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مفادات سمیٹتے ہیں ۔ کشمالہ طارق اس سے قبل بھی میڈیا نمائندوں سے سخت بلکہ توہین آمیز لہجے میں بات کرتی رہی ہیں ۔ ماضی میں اعزار سید جب ڈان نیوز کے رپورٹر تھے تو ان کے ایک سوال پر کشمالہ طارق اس قدر سیخ پا ہوئیں کہ کیمرا توڑنے کی دھمکی بھی دے دی تھی ۔ آج جو ہوا وہ اسی رویے کا تسلسل تھا۔ سو یہ تھی ساری کہانی !

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے