رضا ربانی کا زرداری کو پیغام

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے زرداری کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے

سینٹ سے عابد خورشید

چیئرمین سینٹ رضاربانی نے سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں 12 مارچ کو ہوا اور ایوان کی صدارت کا موقع ملا تو ریاست کے اداروں کے مابین تقسیم اختیارات کے حوالے سے اپنی رولنگ کی دستاویز ایوان میں پیش کروں گا _

چئیرمین سینٹ رضاربانی نے الوداعی خطاب میں کہا کہ 12 مارچ 2015 کو حلف اٹھایا تھا تو سب سے پہلے اثاثے سامنے رکھے تھے، میرا وعدہ تھا جب منصب سے ہٹوں گا تو دوبارہ اثاثے بتاؤں گا، آج سیاسی طور پر ادنی سیاسی کارکن کے جس مقام پر ہوں جس میں دو خواتین شامل ہیں، ایک میری والدہ اور دوسری سیاسی ماں بینظیر ہیں۔

رضا ربانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بات پر یقین رکھتا ہوں کہ گردن کٹوا لو لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرو،
مجھے اس بات پر فخر ہوگا اگر میرا نام ان اسپیکروں میں شامل ہو جنہوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے پارلیمان بالادست ہے،
یہ بھی درست ہے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے ۔
سینیٹ کے ریٹائرڈ ہونے والے باون اراکین کا الوداعی اجلاس بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ نو منتخب اراکین بارہ مارچ کو حلف لیں گے _

چیئرمین سینٹ رضاربانی نے سینیٹ اجلا س سے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے لازم ہے کہ ایگزیکٹو کا آرڈینس جاری کرنے کا اختیار ختم کیا جائے ۔ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے آئین کے آرٹیکل 89 کو ڈیلیٹ کر دیا جائے ۔
چئیرمین نے الوداعی خطاب اپنے اثاثوں کی تفصیلات سیکرٹری سینیٹ کو دیں اور کہا کہ 12 مارچ 2015 کو حلف اٹھایا تھا تو سب سے پہلے اثاثے سامنے رکھے تھے،  میرا وعدہ تھا جب منصب سے ہٹوں گا تو پھر دوبارہ اثاثے بتاؤں گا _

چیئرمین رضاربانی کا کہنا تھا کہ میں آج سمجھتا ہوں پارلیمنٹ کی بالادستی کے آرٹیکل 89 کو ڈیلیٹ کردیا جائے، پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے لازم ہے کہ ایگزیکٹو کا آرڈینس جاری کرنے کا اختیار ختم کیا جائے۔۔

اجلاس کے دوران فرحت اللہ بابر اور جہانزیب جمال دینی نے چئیرمین کو پرچیاں دیں،  اس پر رضاربانی نے کہا کہ میں نے فیصلہ کر لیا اب میں کیا کر سکتا ہوں۔

چیئرمین سینٹ نے اپنا خطاب ذوالفقار علی بھٹو کے اس قول پر ختم کیا کہ میں تاریخ کے قلم کے ہاتھوں مرنے کی بجائے بندوق کی نالی سے مرنا پسند کروں گا۔ سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا.

لگتا ایسا ہے کہ رضا ربانی آصف زرداری کی جانب سے  مسلم لیگ ن کے متفقہ امیدوار چیئرمین سینیٹ کی نفی سے وہ اپنی سیٹ زرداری کو واپس کرنا چاہتے ہیں اور وہ پیپلز پارٹی پر قربان ہو سکتے ہیں لیکن زرداری کے ہاتھوں مرنے کو ترجیح نہیں دینا چاہتے اور اپنا حلف نہیں اٹھائیں گے _

بارہ مارچ کو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین