عمران خان اور قدوس بزنجو کی جلد بازی

زرداری اور’’دیگر‘‘ کا کھیل مشکل میں!!
تحریر:عبدالجبارناصر
غیریقینی صورتحال کے بعد سینیٹ الیکشن اپنے وقت پر توہوگئے مگراس وقت چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا حتمی مرحلہ باقی ہےاورامید ہے کہ12مارچ 2018کو یہ مرحلہ بھی عافیت سے مکمل ہوگا۔سینیٹ انتخابات سے قبل ایک جماعت یا گروپ کو محدود کرنے کے لئے جو کوششیں ہوتی رہیں ان کا سوائے اس کے کوئی نتیجہ نہیں نکلا کہ بلوچستان کی سب سے بڑی جماعت کا مکمل صفایا کردیاگیا اوریہ کوشش اب بھی جاری ہے۔(بعض لوگ بعض سینیٹرزکے نوٹیفکیشن کو روکنے اوراسحاق ڈارکے خلاف درخواست کو اسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں)اس میں اصل کردار کس کا ہے حتمی طورپرکچھ کہنا مشکل ہے اور اس کا حتمی فیصلہ اب تاریخ خود ہی کرے گی،تاہم پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جمہوریت بچانے کے لئے کرداراداکیاہے حالانکہ بلوچستان اسمبلی میں ان کی ایک بھی نشست نہیں ہے اور یہ بات بھی زبان زد عام ہے کہ زرداری صاحب نے بلوچستان میں خوب سرمایہ کاری کی اوراس کے کچھ اثرات بھی نظر آ رہے ہیں۔
سینیٹ سے قبل ہی لوگوں کو نمبرز کا تقریباً اندازہ تھااور یہ بھی یقینی نظر آرہاتھاکہ دو بڑی اپوزیشن جماعتیں پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کی باہمی مفاہمت کے بغیرچیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے حکمراں اتحاد سے چھیننانہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگا،یہ موقع تحریک انصاف کے لئے امتحان بھی تھا اورایک بال میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کوگیم سے آؤٹ کرنے کا موقع بھی! مگر خان صاحب کی جلد بازی نے نہ صرف ان کی اپنی جماعت کو مشکل میں ڈال دیا بلکہ زرداری صاحب اور ’’دیگر‘‘کے تیار کھیل کو بھی عملاً خراب کردیاہے۔
خان صاحب گزشتہ 5 سال میں نوازشریف،آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان ، محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر عبدالمالک اور اسفند یار ولی خان کے حوالے سے جو زبان استعمال کرچکے ہیں اس کے بعد ان کے پاس 2 ہی راستے تھے (1)وہ پیپلزپارٹی کو مجبور کرتے کہ دونوں امیدواروں کا تعلق پیپلزپارٹی ،ن لیگ ، جے یو آئی اور دیگر مخالفین سے نہ ہو تو وہ حمایت کے لئے تیار ہیں،بصورت دیگر وہ کسی اور راستے کا انتخاب کریں گے۔(اب خان صاحب نے یہی بات کی ہے مگراخلاقی نقصان کے بعد)۔(2)یہ دونوں بڑی جماعتوں اوران کے اتحادیوں سے الگ ہوکراپنے سابقہ موقف پر قائم رہتے،کیونکہ ممکنہ انتخابات سرپر ہیں اور دونوں بڑی جماعتوں کے ساتھ بالواسطہ یابلاواسطہ تعاون سے ان کے بیانئے کو شدید نقصان کا خدشہ تھا اور ہے۔خان صاحب کو چاہئے تھاکہ وہ اپنے پتے آخری وقت تک شونہ کرتے جس طرح دیگر کئی جماعتوں نے حتمی طور پر شو نہیں کئے ہیں۔
مگر خان صاحب شاید کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھے اور انہوں نے وہ غلطی کردی جس کو ’’سیاسی حلالہ‘‘ ہی کہا جاسکتاہے، بھاگم بھاگ بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کے پاس پہنچ گئے اورسینیٹ میں اپنے 13ووٹ غیر مشروط طور پر ان کی جھولی میں ڈال دیئے اور بلوچستان میں بغاوت پر شاباش بھی دے ڈالی(یہ حرکت کوئی باشعور سیاسی کارکن نہیں کرسکتاہے) حالانکہ روز اول سے یہ بات واضح تھی کہ میر سرفراز بگٹی ہوں یا میر عبدالقدوس بزنجوان کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں بلکہ وہ تو صرف مہرے ہیں اور فی الحال ان کی ’’ظاہری ڈور‘‘زرداری صاحب کے پاس ہے اور ’’حقیقی ڈور‘‘ ’’اصل‘‘کے پاس ہی ہے۔ بنیادی طور پر خان صاحب نے کیمو فلاج کرکے بالواسطہ زرداری صاحب سے مفاہمت کی کوشش کی مگر یہ طریقہ اتنا بھونڈا تھاکہ چند لمحے بھی حقیقت کو پوشیدہ نہیں رکھ سکا اورواقعی ایسا لگا کہ خان صاحب نے پوری جماعت ہی ’’قدوس فرنچائز‘‘ کے ذریعے زرداری صاحب کو فروخت کردی ہے اور بزنجو صاحب بھی شاید خان صاحب سے بھی کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھے کہ انہوں نے خان صاحب کی ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد میڈیا کے سامنے خان صاحب کی دی ہوئی ’’امانت‘‘ زرداری صاحب کے سپرد کردی اور زرداری صاحب بھی اپنی سیاسی مہارت کے باوجود غالباً خوشی میں یہ سمجھ نہ سکے کہ اس وقت خان صاحب کے ’’ تحفے‘‘ کی اعلانیہ قبولیت سے بنا بنایا کھیل خراب ہوسکتا ہے اورخان صاحب کا’’تحفہ‘‘قبول کرنے کا اعلان کردیا۔اس پر نہ صرف حامیوں کو شدید صدمہ پہنچا بلکہ مخالفین کو بھرپور حملے کا بہترین موقع ملااور حملہ ہوا بھی۔ اب خان صاحب اور ان کے حامی صفائیاں پیش کر رہے مگر پائوں کے نیچے سےبہت حد تک زمین سرک چکی ہے۔
خان صاحب اور میر عبدالقدوس بزنجو کی بچکانہ سیاست نے نہ صرف نوازشریف مخالف بننے والے اتحاد، زرداری صاحب کی مبینہ سرمایہ کاری اور’’مخصوص کھیل‘‘ کو خراب کردیاہے بلکہ ن لیگ اور اس کے اتحادیوں کی مشکلات بھی آسان کردی ہیں۔

متعلقہ مضامین