زندہ ہے عمران فاروق زندہ ہے

تحریر: فیاض محمود

 

عمران فاروق قتل نہیں ہوا ۔۔ عمران فاروق زندہ ہے ۔۔ میں کوئی سیاسی نعرہ نہیں لگا رہا ۔ قانونی سچ بتا رہا ہوں ۔۔ چلیں آپ کو کمرہ عدالت لئے چلتا ہوں  ۔۔ عدالت میں ایک خاتون جج کے سامنے کھڑی دہائی دے رہی ہے _

’’جج صاحب میرے خاوند کو پھانسی دے دیں،  کیس چلا کر الٹا لٹکا دیں۔ روز روز کی پیشیوں سے خدارا جان چھڑا دیں‘‘ _

خاتون کی کمرہ عدالت میں چیخ و پکار نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ خاتون جو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملزم معظم کی اہلیہ ہیں۔ وہ خاتون کہ جو ڈری سہمی عدالت میں آیا کرتی تھی ۔ جو اپنے خاوند کے حق میں صفائیاں پیش کیا کرتی تھی مگر اچانک اس کو اتنا دلیر کس نے بنایا _ اتنا دلیر کہ معزز جج کے سامنے اپنے خاوند کی پھانسی کا مطالبہ کر رہی ہے، جج صاحب بھی اسے روکنے کے بجائے کہنے لگے انہیں دل کی بھڑاس نکالنے دو ۔ یہ ہمت کسی اور نے نہیں بلکہ عدالتی نظام نے دی ہے۔

5 دسمبر 2015 کو ایف آئی اے نے شہزاد ظفر کی مدعیت میں عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ درج کیا۔ وہ ڈاکٹر عمران فاروق جنہیں 16 سمتبر 2010 کو لندن میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف رکن عمران فاروق کے قتل کے الزام میں بانی متحدہ الطاف حسین سمیت 7 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ اتوار 6 دسمبر 2015 کو جوڈیشل مجسٹریٹ حیدر علی کی عدالت میں ملزمان کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے پہلی بار راہداری ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

کیس میں تیزی آنے لگی، بار بار جسمانی ریمانڈ کی خبریں آنے لگیں۔ حتی کہ ملزم محسن علی اور خالد شمیم نے مجسڑیٹ کے روبرو اعتراف جرم بھی کر لیا ۔ براہ راست الطاف حسین کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ کیس آگے بڑھانے کے لیے پاکستان نے برطانیہ سے مزید شواہد مانگ لیے۔ اسی دوران ایک دن پنجاب ہاوس میں اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے میری ملاقات ہوگئی۔ میں نے کیس سے متعلق پوچھا تو انہویں نے انکشاف کیا اس سارے معاملے پر برطانیہ نے بہت مایوس کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا اگر برطانیہ نے تعاون نہ کیا تو وہ کیس کو آگے نہیں بڑھائیں گے۔ البتہ انہیں ایک بات کا بہت یقین تھا کہ ملزم معظم علی ہی اصل میں مرکزی کردار ہے۔ بقول چوہدری نثار کے مالی معاونت بھی معظم علی نے کی کیونکہ دوسرے دوملزمان کی مالی حیثیت اتنی بھی نہیں کہ وہ خود سے بس پر بیٹھ کر اسلام آباد آ سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ نے اس کیس میں پاکستان سے خاص تعاون نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ برطانوی قوانین بھی ہیں۔ برطانوی قوانین ہی تھے جس کے باعث ایف آئی اے اہم ترین دستاویزات برطانیہ سے حاصل نہ کرسکی۔ ایک دن کمرہ عدالت میں ملزم معظم کے وکیل منصور آفریدی نے ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل ہی مشکوک قرار دے دیا۔ کہا عمران فاروق روپوش ہوچکے ہیں ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ پاکستان سے بھاگ کر برطانیہ میں روپوش ہوئے تھے ۔ مجھ سمیت سب حیران ہوئے کہ کیسی دلیل دے رہے ہیں۔ وکیل صاحب نے کہا قانون ایک قتل کو قتل کیسے مان سکتا ہے جب ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہی عدالت کے سامنے نہیں۔ اس دن مجھے چوہدری نثار کی بات یاد آئی برطانیہ نے واقعی ہی بہت مایوس کیا۔ واضح قتل تھا۔ واضح شواہد موجود تھے۔ آرام سے کیس کو عدالت میں ثابت کیا جاسکتا تھا۔ برطانوی عدم تعاون نے کیس خراب کر دیا۔ جس ملک میں قتل ہوا اگر وہی منطقی انجام تک نہیں پہنچانا چاہتا تو پھر ہم کیوں بضد ہیں۔

ملزمان کے اہل خانہ جو کراچی کا لمبا سفر طے کرکے عدالت پہنچتے ہیں مگر ہر بار بغیر کارروائی نئی تاریخ دے کر واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ 6 دسمبر 2015 کو شروع ہونے والے مقدمے میں آج تک فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی۔ اس میں قصور وار ایک نہیں بلکہ کئی ہیں۔ برطانیہ کا عدم تعاون، ایف آئی اے کے پراسیکوٹر کی تعیناتی میں تاخیر اور کبھی معزز جج کی عدم موجودگی تو کبھی ملزمان کے اہل خانہ کی مختلف درخواستیں فرد جرم کی راہ میں رکاوٹ  بنی رہیں ۔ یہی وجہ ہے آج تک مقدمے کا ٹرائل شروع نہیں ہوسکا۔

یہ مقدمہ کچھوے کی چال چل رہا ہے تو  انسداد دہشتگردی کی عدالت ہی کے دوسرے ہاتھ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف مقدمہ خرگوش کی رفتار سے بھاگ رہا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ملزمان کے اہل خانہ خود مطالبہ کر رہے کہ اگر ملزم ہیں تو پھانسی پر لٹکا دیں۔ اگر نہیں تو رہا کریں اور بار بار کی اذیت سے نجات دیں۔ ان کی بات بھی سچ ہے کیونکہ قتل عمران فاروق کا ہوا اور معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم اس الزام میں گرفتار ہیں۔ یہاں محاورہ یاد آتا ہے کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ عدالت ٹرائل کرے سزا اور جزا کا قانون کے مطابق فیصلہ سنا دے تاکہ ملزمان کے اہل خانہ کو اذیت سے نجات مل سکے۔ ٹرائل میں مسلسل تاخیر نے ملزمان کو مظلوم بنانا شروع کردیا ہے۔  کل تک جو ملزم تھے آج مظلوم بنا دیے  گئے۔ اگر کیس نہ چلایا گیا اور قانون کے مطابق سزا نہ دی گئی تو یاد رکھیں قانون کی نظر میں عمران فاروق اب بھی ذندہ ہے۔ زندہ بندے کے قتل کے الزام میں ملزمان کو زیادہ دیر سلاخوں میں پیچھے رکھنے کے سب قانونی جواز ختم ہو جائیں گے _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے