دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کر دی گئی

سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر دانیال عزیز پر عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کے الزام میں توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی ہے ۔عدالت کے تین رکنی بنچ نے سماعت کی جس کی سربراہی جسٹس عظمت سعید کر رہے تھے ۔ فرد جرم جسٹس مشیر عالم نے پڑھ کر سنائی ۔

فرد جرم کے مطابق دانیال عزیز نے عدالتی معاملات میں مداخلت کی، آئین کے آرٹیکل 204 اور توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے ۔ پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق فرد جرم کے مطابق دانیال عزیز نے کہا تھا کہ عمران خان فیصلہ اسکرپٹ کے مطابق ہے ۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز نے آٹھ ستمبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب ریفرنس سپریم کورٹ کے نگران جج نے تیار کرائے، نیب ایگزیکٹو بورڈ کے حکام کو لاہور طلب کر کے تیاری کرائی گئی ۔

سپریم کورٹ نے فرد جرم میں لکھا ہے کہ پندرہ دسمبر کو دانیال عزیز نے کہا کہ جہانگیر ترین کو سزا دے کر عمران خان اور تحریک انصاف کو بچانا مقصود تھا اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اسکرپٹ کے عین مطابق تھا ۔ پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق عدالت نے فرد جرم میں کہا ہے کہ اکیس دسمبر کو دانیال عزیز نے کہا کہ ایک جج ہے جسٹس اعجاز الاحسن، ان کی تاریخ پاکستان کو بتائیں گے ۔ بتانا ہوگا کہ کیپیٹل ایف زید ای کی بات ان کے کانوں تک کہاں سے اور کیسے پہنچی ۔

عدالت نے مقدمے میں استغاثہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار سے کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ پیش کئے جائیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ گواہ استغاثہ کے ہی ہونے چاہئیں، ایسا نہ ہو کہ دفاع کے گواہ بن جائیں، گواہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے ہوں گے ۔

جسٹس عظمت سعید نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار سے کہا کہ یاد رکھنا آپ نے استغاثہ کے طور پر ہی کام کرنا ہے وکیل صفائی نہیں بننا ۔ مقدمے کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین