جج کا مقدمہ خفیہ یا سرعام ؟

ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف دائر ریفرنسز کی سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کو کھلی عدالت میں کرنے کی درخواستوں پر سماعت عدالت عظمی کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے کل تک ملتوی کر دی ہے ۔ جج کے وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی عدالت کے اس درخواست پر فیصلے تک روکی جائے ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کے وکیل نے کہا کہ ہمارے کیس میں کارروائی نہیں روکی گئی، سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہ روکی گئی تو یہ درخواستیں غیر موثر ہو جائیں گی ۔ پاکستان 24 کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ درخواستیں غیر موثر نہیں ہونے دیں گے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت کونسل کو کارروائی پر سٹے آرڈر جاری کرنے کی ضرورت نہیں، سپریم جوڈیشل کونسل سے بات کروں گا ۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بات کرکے کل عدالت کو آگاہ کریں، عدالت اور سسٹم کو شرمندہ نہ کروائیے گا، جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ آئینی نکتہ ہے کہ کارروائی کھلی عدالت میں ہو یا کیمرہ کی آنکھ سے اوجھل ۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ان کیمرہ ٹرائل کا مقصد متعلقہ جج کو تحفظ دینا ہے، کونسل نوٹس جاری کرتی ہے تو اخبار میں خبر چھپ جاتی ہے، الزام چاہے مس کنڈکٹ کا ہو، خبر سے تاثر کرپشن کا جاتا ہے ۔ پاکستان 24 کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل صاحب خبریں رکوانے کیلئے کیا اقدامات کیے گئے، لیکن جب جج خود چاہے کہ ٹرائل کھلی عدالت میں ہو تو کیا ہو سکتا ہے ۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کو اچھا نہیں کہا، تاہم کئی کیسز میں ان کیمرہ ٹرائل اچھا ہوتا ہے، حساس نوعیت کا کیس ہے، ہر صورت فیصلہ کریں گے، فریقین کے وکلاء حالات کی نزاکت کو سمجھیں، ستائیس مارچ سے باضابطہ سماعت شروع کریں گے، امید ہے دو دن میں فیصلہ ہو جائے گا ۔

واضح رہے کہ اعلی عدلیہ کے تین ججوں کے خلاف کارروائی کیلئے ریفرنسز سپریم جوڈیشل کونسل میں گزشتہ تین برس سے زیر سماعت ہیں ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس فرخ عرفان نے اس کارروائی کو کھلی عدالت میں کرنے کیلئے درخواستیں دائر کی ہیں ۔

پاکستان 24 ڈاٹ ٹی وی

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے