قادری، ترین اور خٹک عدالتی مفرور

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ایک روزہ حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی ہے جبکہ طاہر القادری، جہانگیر ترین اور پرویز خٹک بدستور عدالتی مفرور قرار ہیں ۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر دیگر فرار ملزمان کی جامع رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔ رپورٹ میں استثنی اور ضمانت حاصل کرنے والوں کی تفصیلات شامل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔

عمران خان کے خلاف ایس ایس پی تشدد کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی ۔وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش نہ ہوئے، آئندہ سماعت پر حاضری سے مستقل استثنی اور بریت کی درخواست پر بحث ہو گی ۔ عمران خان کی عدم حاضری اور حاضری سے مستقل استثنی کی درخواستوں کی سرکاری وکیل نے مخالفت کی، کہا کہ اسی کمپلیکس میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی پیش ہو رہے ہیں، عمران خان عدالتوں کے لاڈلے ہیں ۔

عمران خان کے وکیل شاہد گوندل نے کہا کہ سرکاری وکیل سے کسی سیاسی جماعت کی زبان بولنے کی توقع نہیں تھی، آپ یہاں سرکار کے نمائندے کے طور پر ہیں، سیاسی جماعت کے نہیں ۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت بھی ہوئی ۔ ڈاکٹر طاہر القادری، وزیر اعلی پرویز خٹک اور جہانگیر ترین بدستور مفرور رہتے ہوئے عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو آئندہ سماعت پر ملزمان کے اسٹیٹس پر جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جج سید کوثر عباس زیدی نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا جائے کہ کتنے ملزمان کی ضمانت ہوئی، کتنوں کو استثنی ملا جبکہ کتنے عدالت سے مفرور ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری، اسد عمر اور عارف علوی بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کر لی تاہم اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود کے خلاف پیش کردہ عبوری چالان میں تینوں کو ملزم قرار دیا گیا ۔

عدالت تینوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی، 27 مارچ کو عمران خان کی عدالت حاضری سے مستقل استثنی اور بریت کی درخواست پر بھی بحث ہوگی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے