‘ووٹ کو عزت دو’

شہباز شریف حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے ہیں ۔ شہباز شریف کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل کے اجلاس کے دوران صدر منتخب کیا گیا ۔ پارٹی کی جنرل کونسل سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ نواز شریف کو ‘انتقام کا نشانہ’ بنایا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اور آصف علی زرداری کا گٹھ جوڑ ان پر بھاری نہیں ہو گا۔ نواز شریف نے بھی پارٹی کی جنرل کونسل سے خطاب کیا اور یہ اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے منشور کا عنوان ‘ووٹ کو عزت دو’ ہو گا۔

اکیس فروری کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ نے سابق وزیراعظم کو جماعت کا تاحیات قائد اور شہباز شریف کو قائم مقام صدر منتخب کیا تھا ۔

مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے کاغذاتِ نامزدگی وصول کی آخری تاریخ آج تھی تاہم شہباز شریف کے علاوہ کسی دوسرے ممبر نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے۔

جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا تھا۔ تاہم یکم اکتوبر 2017 کو پارلیمان میں انتخابی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم کی گئی تھی، جس کے تحت کوئی بھی نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا تھا ۔

انتخابی اصلاحات کے قانون کو پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت 16 درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد نواز شریف دو اکتوبر 2017 میں اپنی جماعت کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس عہدے پر موجود رہے ۔

 

متعلقہ مضامین