پشتونوں کی تیزی سے پھیلتی تحریک

 قبائلی علاقوں اور سوات کے بعد پشتونوں کی تیزی سے پھیلتی تحریک نے بلوچستان کو لپیٹ میں لیا ہے تاہم اس کی میڈیا کوریج نہ ہونے سے غصہ بھی اتنی ہی تیزی سے ابھر رہا ہے ۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد جنم لینے والی اسلام آباد تک آنے والی ریلی اور دھرنے سے آغاز کرنے والی اس تحریک کا مقصد پشتون آبادی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے طاقت کے مراکز پر دباؤ بڑھانا ہے ۔

پشتون قومی تحریک نے بلوچستان میں پانچ بڑے جلسے منعقد کئے جن میں ہزاروں نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی  ان جلسوں کی اہم بات یہ رہی کہ خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک رہی ۔ تاہم ہزاروں افراد کی شرکت کے باوجود اخبارات اور بڑی ٹی وی چینلز نے پشتون لانگ مارچ اور جلسوں کی کوریج نہیں کی ۔

پشتون لانگ مارچ کے شرکاء نے کہا تھا کہ قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے جلسے کے دوران موبائل سروس بند کر دی گئی تھی تاکہ سوشل میڈیا کوریج کو متاثر کیا جا سکے لیکن اس پر احتجاج کے بعدکوئٹہ جلسے کے دوران انٹرنیٹ اور فون سروس کو معطل نہیں کیا گیا ۔

دوسری طرف بلوچستان میں پولیس حکام نے پشتون قومی تحریک کے اہم رہنماؤں اور مقامی سیاست دانوں کے خلاف جلسے جلوس کرنے پر مقدمات کا اندراج کیا ہے ۔ منظور پشتون کے علاوہ اے این پی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔

 

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے