نواز شریف کی تنخواہ کی اصل کہانی

فیاض محمود
ساتویں روز بھی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری تھی۔ عدالتی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق پوچھا،  خواجہ حارث نے بتایا خراب موسم کے باعث لاہور سے اسلام آباد نہیں پہنچ سکے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ملزمان کی آج حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کی جائے۔ جسے فوری طور پر عدالت نے منظور کرلیا۔ تاہم استفسار کیا کیپٹن صفدر تو موجود ہیں نا ۔ اگلے ہی لمحے کیپٹن صفدر جج صاحب کے سامنے کھڑے تھے۔

فاضل جج نے خواجہ حارث سے کہا آج مختصر جرح کرتے ہیں کیونکہ گواہ واجد ضیاء اور آپ فریش ہیں مگر میں تھکا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ تھکاوٹ کی وجہ مسلسل کئی کئی گھنٹوں پر پھیلی عدالتی کارروائی ہے۔ آٹھ مارچ 2018 کو واجد ضیاء نے بیان ریکارڈ کرانا شروع کیا جو چھ روز میں مکمل ہوا۔ تاہم ان پر جرح سات روز میں بھی مکمل نہیں ہوسکی۔ جرح میں ہر چیز بڑی تفصیل سے زیر بحث لائی جا رہی ہے۔ جرح کے ساتویں روز اہم ترین کارروائی کیپٹل ایف زیڈ ای کی وہ تنخواہ تھی جس کا خمیازہ سابق وزیراعظم کو نااہلی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ شاید یہی وجہ تھی جس پر میڈیا پر کافی خبریں بھی چلیں۔

معاملہ پیچیدہ تھا جسے کمرہ عدالت میں موجود رپورٹرز کو سمجھنے میں بہت وقت لگا۔ اس وقت سے اب تک نہ جانے کس کس کو فون پر اور آمنے سامنے بیٹھ کر پورا معاملہ سمجھایا۔ کچھ کو سمجھ آئی بعض کے نزدیک گتھی ابھی بھی نہیں سلجھی۔ ایک بار پھر عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے سوچا بلاگ کا سہارا لیا جائے تاکہ معمہ حل ہوسکے اور حقیقت سامنے آ سکے۔ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کے دو ارکان جن میں کامران خورشید اور عرفان نعیم منگی دبئی گئے۔ دورہ دوبئی کا مقصد شریف خاندان کے کاروبار اور سرمایہ سے متعلق تحقیقات کرنا تھا۔

وکیل صفائی کےخواجہ حارث کے سوال پر جواب دیا یہ بات درست ہے کہ دو رکنی ٹیم نے جبل علی فری زون اتھارٹی سے حاصل کی گئی دستاویزات کے علاوہ اور کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔ واجد ضیاء بولے جفزا اتھارٹی سے نواز شریف کی کیپیٹل ایف زیڈ ای میں ملازمت کا ریکارڈ حاصل کیا گیا ۔حاصل کئے گئے ریکارڈ میں تنخواہ کی ادائیگیوں کا سکرین شاٹ بھی موجود ہے۔ اسکرین شاٹ کے مطابق فروری سے جولائی 2013 تک کی تنخواہ ادا کی گئی ۔ پیمنٹ شیٹ کے مطابق جولائی 2013 کی تنخواہ 11 اگست 2013 کو ادا کی گئی۔خواجہ حارث کے سوال پر واجد ضیاء نے بتایا کہ انہوں نے پیمنٹ شیٹ کا اسکرین شاٹ پیش کیا ہے اس پر نواز شریف کا نام موجود نہیں۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جفزا سے حاصل کیا گیا ریکارڈ نواز شریف سے ہی متعلق تھا۔جے آئی ٹی نے نواز شریف کے اقامے سمیت کیپیٹل ایف زیڈ ای کی سورس دستاویزات گورنیکاجسٹس چیمبرز سے حاصل کیں۔ انہوں نے سوال کے جواب میں اعتراف کیا جے آئی ٹی نے کیپیٹل ایف زیڈ ای سے نواز شریف کی طرف سے تنخواہ وصول کئے جانے کی رسید یا کوئی بینک ریکارڈ حاصل نہیں کیا۔ واجد ضیاء بولے تنخواہ کی وصولی تو آپ سپریم کورٹ میں تسلیم کرچکے ہیں۔ جس پر خواجہ حارث جارحانہ انداز میں بولے واضح کردوں ہم نے کبھی بھی تنخواہ کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ وہ فورم نہیں آپ کو جہاں سب کچھ کہنے کی سہولت ملے گی۔ معاملہ سادہ سا ہے بقول واجد ضیاء کے پیمنٹ شیٹ کے مطابق تنخواہ نواز شریف کی ہے کیونکہ جبل علی فری زون اتھارٹی سے جے ٹی آئی کے دوارکان نے سابق وزیراعظم سے متعلق دستاویزات مانگیں۔ اس درخواست کے جواب میں یہ دستاویزات فراہم کی گئیں۔ جبل علی فری زون اتھارٹی نے نواز شریف کی دستاویزات فراہم کی ہیں تو پھر تنخواہ بھی نواز شریف کی ہی بنتی ہے۔ واجد ضیاء نے جرح کے دوران کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ “نواز شریف نے اگست 2013 میں تنخواہ وصول کی ” بلکہ انہوں نے تکینکی طور پر جواب دیا۔ اگست دوہزار تیرہ میں جولائی دوہزار تیرہ کی تنخواہ وصول کی۔ آگے جاکہا ان کی پیش کردہ دستاویز ہے تو نواز شریف کی ہی۔ خواجہ حارث نے کہا آپ بتائیں کیا آپ کے پاس کوئی ایسی دستاویز جس پر نواز شریف کا نام لکھا ہو یا کوئی بنک ریکارڈ ہو جو ظاہر کرے سابق وزیراعظم نے تنخواہ وصول کی تو واجد ضیاء نے جواب نفی میں دیا۔ ہم یوں کہہ سکتے ہیں جے آئی ٹی سمجھتی ہے کہ نواز شریف نے ہی اگست دوہزار تیرہ میں تنخواہ وصول کی ہے۔ التبہ ان کے پاس ایسی دستاویز نہیں جس پر نواز شریف کا نام درج ہو جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ تنخواہ سابق وزیراعظم نے ہی تںخواہ وصول کی۔ معاملہ سادہ سا ہے۔ بس جس کے دل میں جو آیا میڈیا پر چلا دیا گیا۔ واجد ضیاء تکینکی طور پر کھیل رہے توخواجہ حارث بھی قانون شہادت کا سہارا لے کر انہیں پھنسا رہے ہیں اور ان دستاویزات کا تقاضا کررہے جس پر واضح طور پر تنخواہ وصول کرنے والے کالم میں نواز شریف کا نام درج ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے واجد ضیاء کے پاس پیمنٹ شیٹ کے سوا دوسرا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے اس ساری کہانی کا عدالت میں زیرسماعت لندن فلیٹس ریفرنس سے تعلق بھی نہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے