مکے باز ریفری

مطیع اللہ جان
ن لیگ اور تحریک انصاف کا باکسنگ میچ جاری ھے- منہ میں سیٹی دبائے ریفری بھی ن لیگ کے باکسر کو دو چار ہتھ جڑ دیتا ھے- باکسنگ رنگ سے باہر کھڑا ایک مولوی بھی ریفری کے رقیب باکسر پر ٹین ڈبے پھینک رہا ھے- میڈیا کے کیمرے اور تجزیہ کار مخالف باکسر سے زیادہ ریفری کی مُکے بازی کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں- تھکے ہارے انصافی باکسر کے بازو شل ہیں مگر ریفری ترو تازہ ھے- سیٹی پر سیٹی بجاتے ریفری کے پہلے مُکے پر ہی ن لیگی باکسر زمین پر ڈھیر ہو چکا تھا- مگر دس تک کی گنتی سے پہلے ہی دوبارہ آنکھیں کھول لی- ن لیگی باکسر چلا چلا کر لوگوں کو ریفری کی زیادتی کا بتا رہا ھے- باکسنگ رنگ کی حفاظت پر مامور محافظ نے ریفری کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ھے جسکے بعد ریفری خوشی کے مارے سیٹی پہ سیٹی بجائی جا رہا ھے – سیکیورٹی اہلکار بھی ہر وقفے میں انصافی باکسر کو تو لیا پیش کرتے ہیں اور اسکا مساج کرتے ہیں- انہوں نے جان بوجھ کر باکسنگ رنگ کے قریب اطراف میں مذہبی شائقین کو بٹھا رکھا ھے جو مجمعے میں ن لیگ کے باکسر کے خلاف مخصوص جذبات ابھار رہے ہیں- کافر کافر اور غدار غدار کے نعرے مارتے یہ شائقین ن لیگ کے باکسر کی توجہ مخالف باکسر سے ہٹا رہے ہیں- سیکورٹی اہلکار ن لیگ کے باکسر کی حمایت کرتے شائقین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی لگا رہے ہیں- اس تمام صورت حال میں کئی درجن ٹی وی کیمروں کا رخ نہ تو ریفری کے مکوں پر ھے اور نہ ہی سیکورٹی اہلکاروں کی پس پردہ حرکتوں پر- بہت سے کیمرے ن لیگ کو پڑنے والی مار کو دکھا کر محضوض ہو رہے ہیں- دوسرا رخ دکھانے والے کیمروں اور صحافیوں کا حقہ پانی بند ھے جسکی بحالی کے لئیے وہ اسی مکے باز ریفری کے سامنے دست بدستہ کھڑے ہیں –

مذکورہ باکسنگ میچ کی کہانی پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کی عکاس ھے- الیکشن سے چند ماہ پہلے آئین کے اہم ستون حکومت کو جس طرح مفلوج کیا جا رہا ہے اس میں قانون کی کتابوں کے بھاری بستے اور بھاری بوٹوں کا کردار نمایاں ھے- جمہوریت کے پاؤں، کالے بوٹ اور نالائقوں کے بستے سب بھاری ہو چکے ہیں- الیکشن سے چند ماہ پہلے معاملہ احتساب کا ہو، توہین عدالت کا، دوہری شہریت کا، میڈیا کو اشتہارات کی فراہمی کا، صحافیوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا، غیر ممالک میں پاکستان سے لے جائی گئ غیر قانونی دولت کا سیاستدان، بیوروکریسی، میڈیا، تاجر حضرات، عدالت عظمی کے باہر قطار میں ماتھا ٹیکے کھڑے ہیں۔

اب میڈیا کو ہی لے لیں- ساری دنیا کے عوام کے حقوق کی بات کرنے والے صحافی کئی ماہ سے تنخواہ سے محروم رہ کر اب چیف جسٹس ثاقب نثار سے مدد کے طلب گار ہیں- ان کو تنخواہ دینے اور نہ دینے کے ذمہ دار میڈیا مالکان بھی چیف جسٹس کے سامنے دست بدستہ کھڑے ہیں- انکی استدعا ہے کہ سرکاری اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر کے خلاف عدالتی نوٹس کے باعث حکومتی اشتہارات اور ادائیگیاں بند ہو گئیں ہیں جس کے باعث وہ اپنے صحافیوں اور میڈیا کی صنعت سے منسلک ہزاروں دوسرے ملازمین کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کر پا رہے- سپریم کورٹ نے سرکاری اشتہارات پر ذاتی سیاسی تشہیر کو عوام کے ٹیکس کے پیسے کے ضیاع سے درست جوڑا ہے مگر پھر اس معاملے میں کسی حتمی فیصلے میں تاخیر الیکشن سے پہل میڈیا ورکروں کے انسانی حقوق کے نفاذ سے متعلق ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے- اس بحران سے صرف میڈیا نہیں بلکہ پوری قوم متاثر ہو گی- الیکشن سے پہلے اور اس دوران عوام کا جاننے اور آزادانہ بولنے کا حق انسانی حقوق کے نام پر قانون کی بھاری بھرکم کتابوں کے نیچے کچلنا کسی طور بھی منصفانہ انتخابات کے آئینی مقصد کے مطابق نہیں- چیف جسٹس کی طرف سے یہ حکم کہ میڈیا کے ادارے صحافیوں کو تیس اپریل تک تنخواہوں کی ادائیگی کر دیں خوش آئند ہے مگر اس کے لئے حکومتی اشتہارات اور انکی ادائیگیوں کے معاملے میں کسی حکم کا جاری نہ ہونا اور یہ معاملہ سات مئی تک ملتوی کیا جانا ناقابل فہم ہے- صحافیوں کو عدم ادائیگی کی وجہ حکومتی عدم ادائیگی ہی بتائی جا رہی ہے- کچھ میڈیا کے اداروں نے اپنے غیر صحافتی کاروبار سے سرمایہ صحافتی تنخواہوں کے لئیے مختص کیا ہے مگر تمام میڈیا کے اداروں کا دوسرا کاروبار نہیں بھی ہوتا- لگتا نہیں کہ ایسی صورت حال میں پاکستانی میڈیا آئندہ انتخابی عمل کو آزادانہ طور پر عوامی اور قومی مفاد میں رپورٹ کر پائےگا- ممکن ہے کہ عین انتخابات سے پہلے میڈیا کو اچانک کوئی “مشروط” ریلیف مل جائے جسکے بعد آزاد صحافت انتخابی معرکے کے دوران ممنون صحافت کی شکل اختیار کرتے ہوئے کھیل کا حصہ بننے کو غنیمت جانے۔

الیکشن کے دوران الیکٹرانک میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہو گا- تنخواہوں اور اشتہارات کی چابی کے علاوہ ٹی وی چینلوں کو کنٹرول یعنی ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی” پیمرا” کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے- پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے قانون کی پہلی شق کہتی ہے کہ اس قانون کا اطلاق پورے پاکستان میں ہو گا- مگر سپریم کورٹ کے لئے بظاہر یہ اہم نہیں کہ ملک کی تمام کنٹونمنٹوں میں اس قانون کی عمل داری کو کھلم کھلا چیلنج کیا جا چکا ہے- کچھ اہم ٹی وی چینلوں کو سرکش یا فسادی کے القابات سے نواز کر انہیں تمام چھاؤنیوں میں کیبل سے ہٹا دیا گیا ہے جو پیمراقانون کی شق اٹھائیس کی خلاف ورزی ہے جسکے مطابق کیبل آپریٹر اپنی نشریات کسی زلزلے یا قدرتی آفات کے علاوہ پیمرا کی اجازت بنا بند نہیں کر سکتے- پورے ملک میں قانون کی عملداری قائم کرنے والے بدقسمتی سے اپنی چھاؤنیوں میں قانون کی عملداری ماننے سے انکاری ہیں- ایسا کرنے کے لئے وزارت دفاع ، قومی سلامتی کمیٹی یا پیمرامیں براہ راست یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا تھا جو نہیں کیا گیا- پیمرا کے موجودہ قانون کی شق پانچ کے تحت وفاقی حکومت کسی ٹی وی چینل کو فوج کے ٹھوس اور قابل تصدیق تحفظات کی بنا پر چھاؤنیوں میں بند کرنے کا حکم جاری کر سکتی تھی- فیض آباد میں مولوی خادم رضوی کے دھرنے کے دوران حکومت نے پیمراقانون کی اسی شق کے تحت تمام ٹی وی بند کر دئیے تھے- ایسے حکومتی اختیار پر میڈیا کا شور بجا ہے مگر جب چند طاقت ور اداروں کو چھاؤنیوں میں چینل بند کرنے کے لئے ایسے کسی قانون کی بھی ضرورت نہ ہو تو سپریم کورٹ میں جاری اس بحث کا کیا فائدہ کہ شق پانچ میں درج پیمراپر حکومتی پالیسی ہدایت کی پابندی کے قانون میں کتنی ترمیم کی جائے؟ اور کیاحکومتی اختیار میں کمی کے بعد سپریم کورٹ چھاؤنیوں میں تمام ٹی وی چینل بحال کروا دے گی ؟

نگران حکومت کے آتے ہی پیمرہ کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہو جاۓ گا- ادارے میں اس وقت بھی اسلام آباد اور بلوچستان سے بورڈ ممبران کی تقرری ہونا باقی ھے- چئیرمین کی سیٹ ابصار عالم کی بذریعہ عدالت نا اہلی کے بعد اب تک خالی ھے- پیمرہ قانون کے مطابق چئیرمین کی سفارش پر حکومت مذکورہ دو خالی آسامیوں کے علاوہ بھی مزید دو اراکین بورڈ کا “تقرر بمطابق ضرورت” کر سکتی ھے- فوج کے ترجمان دفتر آئ ایس پی آر کی یا اسکے نامزد کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کی نگران حکومت کے کہنے پر تقرری کی کوششیں بار آور ٽابت ہو سکتی ہیں- اگر ایسا ہوا تو ٹی وی چینلوں پر جو بندش غیر قانونی تھی الیکشن کے دوران قانونی بنا دی جاۓ گی-

اب ایسے باکسنگ میچ میں مکے باز ریفری، سیکورٹی اہلکاروں اور مخصوص شائقین کی منظم دھاندلی کے آٽار کے باوجود اگر نتائج برعکس رہے تو جو کچھ سٹیڈیم میں ہو گا کیا ہماری قوم اس کے لئیے تیار ھے؟

مطیع اللہ جان کے فیس بک سے لے کر ان کی اجازت سے شائع کیا گیا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے