شام پر امریکا و روس کی ’جنگ‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر ’کیمیائی حملے‘ کے حوالے سے روس اور امریکہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر شام میں ہونے کیمیائی حملے کی کمزور الفاظ میں مذمت کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

بی بی سی کے مطابق دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے ردعمل میں جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے ۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’عسکری سطح پر ہمارے پاس بہت سے راستے ہیں‘ اور جوابی کارروائی کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سنیچر کو دوما میں ہونے والے واقعے کے ذمہ دار کے بارے میں امریکہ کو وضاحت مل رہی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فرانسیسی سے اس واقعے کے بارے میں بات چیت بھی کی اور دونوں رہنماؤں نے ٹھوس ردعمل ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔

ادھر مغربی ممالک اس امر پر غور کر رہے ہیں کہ کیا قدم اٹھانا چاہیے ۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ حملے میں درجنوں افراد مارے گئے تاہم ہلاکتوں کی صحیح تعداد کی تصدیق ناممکن ہے ۔ دوما پر ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں اندازوں کے مطابق 42 سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے ۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مزمت کی تھی جبکہ شامی حکومت اور روس نے اس کی تردید کی تھی ۔

متعلقہ مضامین