احتساب عدالت میں ‘جھڑپیں’

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی
نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا پر جرح کے دوران کبھی وکلا صفائی اور پراسیکیوٹرز کے درمیان نوک جھونک ہوئی تو کبھی دلچسپ تبصروں سے کمرہ عدالت میں قہقہے بھی بلند ہوئے۔ واجد ضیا نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ جرح اس قدر طویل ہو گی ۔ اگلے ریفرنس میں بیان ریکارڈ کرانے سے پہلے کچھ ریسٹ درکار ہو گا ۔
لندن فلیٹس سے متعلق ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا 16ویں روز احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ چھ دن بیان ریکارڈ کرایا جبکہ دس دن سے ان کے بیان پر وکلا صفائی کی جرح جاری ہے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے 10ویں روز جرح مکمل کی تو سوالات کرنے کی باری آئی۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ کی۔ ایک سوال کا جواب دینے میں واجد ضیا نے جھجکتے ہوئے کہا میں اس سوال کا ہاں یا نہ میں جواب نہیں دے سکتا، پوری پکچر آپ کو بتاتا ہوں۔ تو امجد پرویز نے واجد ضیا کو مخاطب کر کے کہا آپ اس کیس کے حوالے سے اتنے conscious کیوں ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے انہیں ٹوکا کہ گواہ کے بارے میں کمنٹس اور ریمارکس نہ دیں، سوال پوچھیں ۔ جب امجد پرویز نے ایک موقع پر سوال کرنے سے پہلے کہا کہ آپ نے سچ بولنے کا حلف اٹھا رکھا ہے تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا یہ بات کرنا کہ آپ نے سچ بولنے کا حلف اٹھا رکھا ہے گواہ کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔واجد ضیا نے ہر سوال کے جواب میں از خود اضافی معلومات دینے کا سلسلہ جاری رکھا مگر ایک موقع پر کہا کہ یہ تھوڑا سا غلط ہو گیا ہے تو جج احتساب عدالت نے کہا گواہ نے اس حوالے سے جو بات خود سے لکھوائی ہے اس کو بیان سے نکال دیتے ہیں۔ جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا آپ کیسے یہ پورشن نکال سکتے ہیں؟ گواہ نے جو بات کہی وہ ریکارڈ پر رہے گی ۔واجد ضیا سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایکسپرٹ گلڈ کوپر کی رائے پڑھ کر اس پر انحصار کیا یا پڑھے بغیر تو واجد ضیا بھی اپنی ہنسی قابو نہ کر سکے۔ قہقہہ لگانے کے بعد جواب دیا Off Course۔ پڑھ کر ہی اس پر انحصار کیا۔ امجد پرویز نے جب گواہ سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ عمران خان اس کیس کے ملزم نواز شریف کے سیاسی حریف ہیں؟ تو نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا اگلا سوال یہ پوچھ لیں گے کہ عمران خان نے کتنی شادیاں کیں؟امجد پرویز بولے میں آپ کے کہنے کے باوجود یہ سوال نہیں پوچھوں گا۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ شادی ڈاٹ کام نہیں ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ امجد پرویز حدود کیس کی طرح سوالات پوچھ رہے ہیں۔ اب پوچھیں گے کہ کمرے میں بیڈ کیسا تھا؟ آخر میں کہیں گے چل بی بی تو جا ۔
واجد ضیا نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ مختلف محکموں کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ اپنے پاس رکھا، وہ جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل نہیں۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ چیزیں کیوں چھپا رہے ہیں ؟ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو چیز ملزم کے حق میں ہو اسے ریکارڈ پر ہی نہ لایا جائے؟ واجد ضیا نے انکشاف کیا کہ جے آئی ٹی کے پاس 30-40 ایکسپرٹس اور سپورٹنگ سٹاف میں سٹینو ٹائپسٹ، ریکارڈ کیپر، سیکورٹی اہلکار، نائب قاصد اور باورچی بھی تھے۔ سپریم کورٹ سے ایکسپرٹس کے نام خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی ۔ اس درخواست پر کوئی آرڈر جاری نہیں ہوا مگر سب کے نام سیکرٹ رکھے اور جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی ان کے نام ، قابلیت، اہلیت اور کوائف نہیں بتائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے