احتساب عدالت میں تلخی و مسکراہٹ

احتساب عدالت کی روداد

اویس یوسف زئی

احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں کبھی ماحول کشیدہ ہوا اور کبھی چٹکلے بھی سنائے گئے۔ دوران سماعت ن لیگ کے مشاہد حسین سید بیان سننے کے لیے وکیل صفائی کے بالکل پیچھے کھڑے ہو گئے اور ایک موقع پر زور سے ہنسے جس پر سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا یہاں وزرا کھڑے ہو کر ہنستے اور وکیل کو داد دیتے ہیں۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ کے ایسوسی ایٹ نے کہا یہ خود کمرے میں جنریٹر اور عمران خان کی شادیوں کی بات کر کے ٹی وی چینلز پر ٹکرز چلواتےہیں۔ آج بھی ان کے تبصرے اخبارات کی زینت بنے ہیں۔
واجد ضیا کے بیان پر جرح کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور مریم نواز کے وکیل میں بھی نوک جھونک ہوئی۔ نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا آپ تو ایسے جرح کر رہے ہیں جیسے آپ جلسے میں کھڑے ہیں۔ مریم نواز کے وکیل نے کہا ہمیں عدالتوں کا احترام معلوم ہے، آپ اپنے الفاظ کے چناو میں احتیاط کریں۔
واجد ضیا نے سوال کے جواب میں حسب معمول کچھ اضافی چیزیں بھی بیان کیں تو امجد پرویز نے کہا جیسے آپ کہہ رہے ہیں ایسے ہی بیان میں آئے گا، آپ کی پوری تسلی ہو گی ۔
واجد ضیا کے جواب دینے سے پہلے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے اعتراضات کا سلسلہ آج بھی جاری رکھا۔ امجد پرویز بولے اس سوال پر آپ کی جان کیوں نکلتی ہے؟ میرا گواہ پر جرح کاحق مجروح ہو رہا ہے۔ جرح کرنا وکیل صفائی کا قیمتی قانونی حق ہے۔ میں اس طرح جرح نہیں کر سکتا ۔ چھوٹا سا وکیل ہوں ۔ کہہ دوں گا کہ باقی سارے یہاں بہت تگڑے ہیں، کسی اور کو اپنا وکیل کر لیں۔ سردار مظفر عباسی کہاں خاموش رہنے والے تھے ۔ فورا جواب دیا مجھے معلوم ہے آپ بڑے بہادر ہیں۔ میدان چھوڑ کر نہیں جائیں گے، قانونی اعتراض اٹھانا ہمارا حق ہے۔

ایک موقع پر جب واجد ضیا نے کہا کہ مریم نواز کے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کی وڈیو موجود ہے جسے ضرورت پڑنے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جج احتساب عدالت نے کہا کہ آپ پہلے پیش کرتے ۔
ایک موقع پر واجد ضیا نے کہا جتنی باتیں آپ پوچھ رہے ہیں وہ سب لکھتے تو 100والیمز بن جاتے۔ امجد پرویز کے اس سوال پر کہ آپ کے کزن کوئسٹ سالیسٹر راجا اختر کو جے آئی ٹی نے کتنی فیس ادا کی؟ واجد ضیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے کہا یہ سوال نہیں پوچھا جا سکتا، پہلے آپ اپنی فیس بتائیں ۔ واجد ضیا کے اس اعتراف پر کہ جے آئی ٹی کا سربراہ بننے پر کوئسٹ سالیسٹر راجا اختر نے انہیں فون پر مبارک دی تھی، امجد پرویز نے پوچھا آپ کو اپنے کیریئر کے دوران اس سے پہلے اور کتنی مرتبہ تفتیش ملنے پر مبارکبادیں ملیں؟ جس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے مداخلت کی اور کہا کہ مبارکباد کا مطلب نیک تمناوں کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔ جس کے بعد کچھ سوچ کر واجد ضیا نے کہا کہ جب مشرف کیس ملا، تب بھی کالز آئی تھیں کہ آپ کو بڑا کیس ملا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے کہا ہے کہ مریم نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر نیلسن، نیسکول اور کومبر کی ٹرسٹ ڈیڈز اصل کہہ کر جمع کرائیں جو دراصل نوٹرائزڈ کاپیز تھیں۔ مریم نواز کو ٹرسٹ ڈیڈز کے نقائص، سقم یا فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کی فرانزک رپورٹ سے کنفرنٹ نہیں کرایا گیا۔ رابرٹ ریڈلے کی جس رپورٹ پر انحصار کیا وہ فوٹو کاپی کی بنیاد پر تیار کی گئی۔ مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ رابرٹ ریڈلے نے اپنی رپورٹ میں رائے دینے کا پیمانہ بھی مقرر کیا تھا جس کے تحت رپورٹ نتیجہ خیز نہیں تھی۔ رابرٹ ریڈلے نے 2 رپورٹس دیں، پہلی رپورٹ 4جولائی کو بذریعہ وٹس ایپ ملی، دوسری رپورٹ 3 ذرائع سے ملی۔ 8 جولائی کو بذریعہ وٹس ایپ، 9 جولائی کو بذریعہ ای میل جبکہ 10 جولائی کو ہارڈ کاپی موصول ہوئی ۔ کوئسٹ سالیسٹر نے بذریعہ ای میل جو رپورٹ بھجوائی اسے جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل کیا ۔ فرانزک رپورٹ کی ہارڈ کاپی برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ملی۔ واجد ضیا کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے ساتھ اصل دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائیں ۔ اصل دستاویزات بعد میں 22 جولائی کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئیں۔ 10 جولائی سے 22 جولائی تک اصل دستاویزات جے آئی ٹی کے پاس لاکر میں تھیں۔ جس کی چابیاں صرف انہی کے پاس تھیں۔ واجد ضیا نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ سپریم کورٹ نے تمام حکومتی اداروں کو جے آئی ٹی سے تعاون کی ہدایات دی تھیں،جے آئی ٹی براہ راست یا فارن آفس کے ذریعے بھی فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کی خدمات حاصل کر سکتی تھی مگر محدود وقت اور برطانوی قوانین کا علم رکھنے کے باعث کوئسٹ سالیسٹر کے ذریعے خدمات حاصل کی گئیں جس کی انٹیلے جنس اداروں نے تصدیق کرائی۔

متعلقہ مضامین