مجلس عمل اور حزب اختلاف

متحدہ مجلس عمل سندھ کی نوجوان قیادت!!
سندھ،بلوچستان قائدحزب اختلاف کےعہدے کی دوڑ!!

عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com
سندھ اور بلوچستان کی سیاست میں اس وقت قائد حزب اختلاف کا عہدہ انتہائی اختیار کر گیاہے ، کیونکہ نگران وزرائے کا انتخاب موجودہ وزرائے اعلیٰ اور قائدین حزب اختلاف نے کرناہے، اسی لئے اس عہدے کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
اطلاعات ہیں بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالواسع دوبارہ اپوزیشن لیڈر بننے کے خواہشمندہیں ،یہ عہدہ بلوچستان میں حالیہ تبدیلی کے بعد ان سے چھن گیا تھا ، ذرائع کا کہناہے کہ مولانا عبدالواسع ایک پرانے فیصلے کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔ مولانا کا موقف ہے کہ وہ ساڑھے 4 سال تک اپوزیشن لیڈر رہے ہیں اور اب بھی چونکہ وہ اپوزیشن میں ہیں اس لئے یہ عہدہ ان کا حق ہے ، جبکہ پختونخواملی عوامی پارٹی کے رکن اورموجودہ قائد حزب اختلاف عبدالرحیم زیارتوال کا موقف ہے کہ ہم ساڑھے 4 سال تک حکومت میں ضرور رہیں مگر حکومت سے ہم خود الگ نہیں ہوئے بلکہ ہمیں نکالا گیا اور اس وقت اپوزیشن ارکان میں اکثریت کی ہمیں حمایت حاصل ہے۔ اسمبلی کے قوائد و ضوابط کے مطابق عبدالرحیم زیارتوال کا موقف مدلل ہے ، اس لئے بھی کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں جمعیت علماء اسلام نے اپوزیشن کی بجائے موجودہ وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو ووٹ دیا اورپھر اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کیا۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ عبدالرحیم زیارتوال کو 23اور مولانا عبدالواسع کو 13ارکان کی حمایت حاصل ہے ۔ موجودہ حالات میں مولانا عبدالواسع کا موقف کمزور ہے تاہم اگر وہ یہ عہدہ حاصل کرنے چاہتے تو ان کو اپوزیشن ارکان کی اکثریت حاصل کرنا ہوگی، جو بظاہرہ بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے ، اس لئے خاموشی ہی بہتر ہے، اگر انہیں اس عہدے کی فکر تھی تو ان کو سابق وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف سازش کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔
بلوچستان کی طرح سندھ اسمبلی میں بھی قائد حزب اختلاف کے عہدے کے لئے ایک مرتبہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جو 2013ء کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے کھیلا تھا۔ انتخابات سے چند ماہ قبل ایم کیوایم اپوزیشن آگئی اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ نگران وزیر اعلیٰ کا انتخاب انہی دو جماعتوں نے کیاجو چند ماہ قبل تک حکومت کا حصہ تھیں۔ اس بار بھی سندھ میں ایسے ہی کچھ حکمت عملی اختیارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،تاہم اس بار یہ کھیل ایم کیوایم کیخلاف کھیلا جارہاہے اور اس کھیل کا اہم کردار ایم کیوایم پاکستان کے وہ منحرف ارکان ہیں جوپاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں اور ان کی رکنیت اب تک بحال ہے۔اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کو پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بنانے کے دبائو ڈالا جارہا ہے ، بصورت دیگر سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ ان سے چھین لیا جائے گا۔اطلاعات ہیں کہ گزشتہ دو سال کے دوران ایم کیوایم اور تحریک انصاف سے منحرف ہوکر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے والے 16ارکان اس عمل میں پیش پیش ہیں، جبکہ مسلم لیگ فنگشنل کو بھی راضی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایم کیوایم پاکستان کے مزید ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ مارچ 2016ء سے اب تک ایم کیوایم کے 20سے زائد ارکان سندھ اسمبلی اور پانچ ارکان قومی اسمبلی وفاداریاں تبدیل کرکے پاک سرزمین پارٹی یا پیپلزپارٹی کا حصہ بن چکے ہیں اور فلور کراسنگ قانون موجود ہونے کے باوجود گزشتہ دو سال میں منحرف ارکان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اس ضمن میں ایم کیوایم پرکیا دباؤ تھا یا کیا مصلحت تھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔
اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی کوششیں پاک سرزمین پارٹی کی اپنی جگہ مگر اس کوشش کے نتیجے میں قائدحزب اختلاف کا عہدہ ملے گا یا نہیں یہ بعد کی بات ہے مگر کہیں ایسا نہ ہوکہ منحرف ارکان کو رکنیت سے محروم ہونا نہ پڑے ،کیونکہ اب ایم کیوایم پاکستان کے پارلیمانی گروپ نے ان ارکان کی نااہلی کیلئے اپنی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔اس حوالے 10اپریل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اظہار الحسن اور ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے میڈیا سے گفتگو میں وضاحت کے ساتھ کہاہے کہ وہ اس معاملے کو ایوان میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے جبکہ الیکشن کمیشن اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی مبینہ خاموشی پر بھی تنقید کی اور ان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن نے محمود خان اچکزئی کی درخواست پر ان کے منحرف رکن کیخلاف فیصلہ 48گھنٹے میں سنا دیا لیکن ہماری منحرف ارکان کیخلاف درخواستوں پر 6ماہ سے فیصلہ نہیں ہورہاہے ۔ سید سردار احمد اعلان کیاہے کہ وہ اسمبلی کے روان اجلاس میں آواز اٹھائیں گے ۔ایم کیوایم نے سنجیدگی سے معاملے کو آگے بڑھایا تو آئین کے آرٹیکل 63الف (۱) کے مطابق منحرف ارکان کی رکنیت ختم ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب ایم کیوایم کے مختلف گروپس اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں، ایم کیوایم پاکستان(بہادر آباد گروپ) کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایم کیوایم (پی آئی بی گروپ) کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو اپنے عہدوں کے ساتھ ایم کیوایم بہادر آباد میں شامل ہونے کیلئے 16اپریل تک کا ٹائم دیاہے ،جبکہ ڈاکٹر فار وق ستار نے جوابی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی ان کے پاس ہے اور بہادر آباد گروپ یہ طے کرلے کہ معاملات مذاکرات سے طے کرنے ہیں یا عدالت میں؟ مذاکرات اسی صورت میں آگے بڑھ سکتے ہیں جب دونوں جانب کی رابطہ کمیٹیاں تحلیل کی جائیں گی ۔ایم کیوایم کے یہ دونوں اس وقت سخت کھینچا تانی میں مصروف ہیں اور اس دوران مایوسی کی وجہ سے ان کے ساتھی ارکان مسلسل ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک درجن کے قریب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور پیپلزپارٹی اور پاک سرزمین میں شامل ہوچکے ہیں اور معاملات کو مناسب انداز میں حل نہیں کیاگیا تو مزید ایک درجن سے زائد ارکان قومی وصوبائی اسمبلی مختلف پارٹیوں میں غور کررہے ہیں۔
پاک سرزمین پارٹی گزشتہ دو سال کے دوران ایم کیوایم کے اچھے خاصے ارکان توڑنے میں کامیاب تو ہوئی ہے تاہم انتخابی میدان میں ان ارکان کی اتنی اہمیت نہیں ،کیونکہ ان میں سے شاید ہی کوئی اپنے ذاتی ووٹ بینک کی وجہ سے اسمبلی تک پہنچا ہو ،غالبا یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو سال کی بھرپور کوشش کے باوجود پاک سرزمین پارٹی بہت بہتر انداز میں عوامی سطح پر اپنی جڑیں مضبوط کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے ۔ پاک سرزمین پارٹی میں انیس قائم خانی کا کردار ووٹر اور کارکن کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ ایک طویل عرصہ تک تنظیمی عہدوں پر رہے اور نچلی سطح تک ان کی گرفت رہی ہے۔
یہ باز گشت بھی ہے کہ ایم کیوایم کے مختلف گروپوں کو ایک جگہ انتخابی اتحاد کیلئے جمع کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں اس ضمن میں ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ بیان انتہائی اہم ہے جس میں انہوں نے ’’مہاجر اتحاد‘‘کی بات کی ہے اور اگر یہ اتحاد بن جاتاہے تو سندھ کی شہری سیاست میں کسی حدتک ایک مرتبہ پھر ایم کیوایم کے مختلف گروپوں کی گرفت رہے گی۔ عوامی حلقوں کے مطابق ووٹ بینک پر آج بھی ایم کیوایم کے بانی کی گرفت ہے تاہم ان کیلئے مشکل یہ ہے کہ انتخابی میدان میں اترنے کیلئے ایم کیویم کے بانی اور ان کے ساتھیوں نے کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا ہے وہ ریاست کیخلاف کھلی بغاوت پر اتر آئے ہیں ایسی صورت میں کوئی بھی باشعور فرد ان کے نام پر انتخابی میدان میں اترنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے مواقع میسر آئیں گے ۔مبصرین کے مطابق ایم کیوایم لندن کے پاس بائیکاٹ یا غیر محسوس انداز میں انفرادی طور پر کسی کی حمایت کے سوا کوئی کا راستہ نہیں ہے اور امکان یہی ہے کہ ایم کیوایم لندن غیر محسوس انداز میں کسی بھی امیدوار کی حمایت کریگی ۔
ایم کیوایم کی ٹوٹ پھوٹ سے مذہبی جماعتوں کا سب سے بڑا اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) ‘‘بھی سندھ کے شہری علاقوں میں فائدے کے لئے کوشاں ہے اور 7اپریل کو صوبائی تنظیم سازی بھی مکمل ہوچکی ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے کے مولانا راشد محمود سومرو صدر اور اسلامی تحریک پاکستان کے ناظر عباس تقوی جنرل سیکریٹری منتخب ہو گئے ہیں ، دونوں نوجوان ہیں اور دونوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اتحادی سیاست کا تجربہ نہیں رکھتے ہیں ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی صدر اور مولانا راشد محمود سومرو سیکریٹری ہوتے تو بہترانتخاب ہوتا اور نتائج بھی بہتر ملتے ،کیونکہ تجربہ کار اورانتخابی تربیت یافتہ کارکنوں کی بڑی کھیپ شہری علاقوں میں صرف جماعت اسلامی کے پاس ہی ہے ۔ان حالات میں جہاں نومنتخب صدر اور سیکریٹری کے لئے متوقع عام انتخابات مشکل ٹاسک ہیں وہیں دو نوں اہم عہدوں سے محرومی کے بعد مجموعی طور پر اپنے کارکنوں کو متحرک کرنا جماعت اسلامی کے لئے بھی بڑا امتحان ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے