جسٹس عظمت کا اضافی نوٹ

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، فیصلے میں جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ بھی لکھا ہے _

پانچ رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے میں جسٹس عظمت سعید نے آٹھ صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے ۔
جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ ساتھی جج جسٹس عمرعطابندیال کےحتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں لیکن جسٹس عمرعطابندیال کے فیصلے کی وجوہات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا، جسٹس شیخ عظمت سعید کے اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے عین مطابق ہے، اگر 62 ایف ون کے تحت نااہلی مخصوص مدت تک قرار دیا جائے تو اس شق کی افادیت ختم ہو جائے گی،

نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین بنانے والوں نے جان بوجھ کر یہ شق رکھی ہے تاکہ نااہل شخص منتخب نہ ہو، جب آئین کی شق 62 ون ایف میں مدت کا تعین نہیں تو عدالت کیسے کر سکتی ہے، عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے، اضافی نوٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی تعلیمات کے تناظر میں ہے، نااہلی کا ڈیکلریشن قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر ہی جاری ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ ڈیکلریشن کی موجودگی تک نااہلی برقرار رہے گی، ڈیکلریشن کی موجودگی میں متاثرہ شخص اہلیت سے محروم رہے گا،

عدالت کئی فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ نااہلی دائمی ہوگی، اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ بعض وکلاء کے مطابق تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سنگین ہو گا۔۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے