دو کردار، ایک انجام

نواب اکبربگٹی سے نوازشریف تک!
زیرو سے ہیروتک ایک انجام دوکردار!

عبدالجبارناصر
نواب اکبر بگٹی بلوچستان کے ان قوم پرست رہنماؤں میں سے ایک تھے جو تقریباََ 50 برس تک بلوچستان کی سیاست میں سر گرم اور نمایاں رہے۔وزیر اعلیٰ بھی بنے اور گورنر بھی رہے۔ نواب مرحوم تھے تو انا پرست مگر دیگر قوم پرستوں کی طرح تصاد م کی راہ سے ہمیشہ گریز کرتے رہے ہیں،غالباََ یہی وجہ تھی کہ بلوچ قوم پرستوں میں نواب اکبر بگٹی کو زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا بلکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔یوں کہیں کہ بعض تو انہیں قوم کا غدار بھی کہتے تھے لیکن عمر کے آخری حصے میں ایک آمر نے اپنی آنا کی تسکین کے لئے انہیں پہاڑوں پر جانے کے لئے مجبور کیا یہاں تک کہ وہ ایک حملے میں مارے گئے اور پھر ہمیشہ کے لئے بلوچوں کی نظر میں امر ہو گئے۔آج ان کے ماضی کے مخالف ہوں یا حامی انہیں قومی ہیرو کی طور پر پیش کرتے ہیں، بلکہ بلوچ قوم پرست اور دیگر بلوچ طبقے انہیں مشعل راہ کہتے ہیں۔ کل تک جو لوگ انہیں غدار کہتے اور اسٹبلشمنٹ کا آلہ کار کہتے تھے آج نواب اکبر بگٹی ان کا ہیرو اور مشعل راہ ہے۔عام پاکستانیوں میں سے کوئی انہیں تسلیم کرے یا نہ کرے مگر یہ بلوچستان کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
کچھ اسی طرح کی صورت حال سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے بھی ہے ۔نواز شریف کو پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار اور ان کے مخالفین انہیں بزدل کہتے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں نواز شریف کے بعض اقدام نے اس کی تصدیق بھی کی اور بعض اپنی غلطیوں کی وجہ سے نواز شریف کبھی بھی اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کرسکے۔ محاذ آرائی شاید ان کو سیاسی ورثے میں ملی ہے۔

نواز شریف 3 مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہے ۔1999 میں جب انہیں اقتدار سے ہٹا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر کے عمر قید سزا اور نااہل قرار دیا تو امکان تھا کہ وہ جوان مردی سے جیل میں رہ کر ایک سیاستدان کی طرح مقابلہ کریں گے مگر نہیں ۔ ایک دن صبح اچانک خبر آئی کے نواز شریف جدہ پہنچ چکے ہیں ۔ جس پر ان کے اپنے قریبی دوست بھی حیران تھے ۔ غالباََ یہی وجہ سے کہ مرحوم نواب زادہ نصراللہ خان کی نسبت سے کہا جاتا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ساری زندگی سیاستدانوں کے ساتھ جدوجہد کی دھوکا نہیں کھایا لیکن ایک بزنس مین کے ساتھ پہلی بار جدو جہد کی اور دھوکا کھایا‘‘۔ نواز شریف خوش قسمت تھے کہ 2007 میں وطن واپسی کے بعد نہ صرف ان کا پرتپاک استقبال ہوا بلکہ وہ ملک میں ایک سیاسی متبادل کے طور پر سامنے آئے اور پھر 2013 میں انہیں اقتدار ملا۔ روز اول سے وہ مشکلات کا شکار رہے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کے خلاف مہم نہ چلائی جاتی تو شاید وہ 2 سال بھی اپنی حکومت کی مدت پوری نہیں کر پاتے۔ اس بات کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے کہ ان کی سیاسی غلطیوں نے نواز شریف کو 4 سال تک اقتدار میں رہنے کا موقعہ دیا بلکہ آج بھی تا حیات نا اہل ہوتے ہوئے بھی عملاََ وہی وزیر اعظم ہیں۔ ملکی صورتحال یہ ہے کہ ملک کی سیاسی قوتیں، سیاسی کارکنان اور دیگر تمام طبقے دو واضح حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ایک نواز شریف کا حامی اور دوسرا نوازشریف کا مخالف۔ اس طرح کی صورتحال ماضی میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی رہی ہے۔

سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اس بار نواز شریف نے رات کے اندھیروں میں کوئی معاہدہ نہیں کیا اور کسی بھی انجام سے خوف زدہ ہوئے بغیر ہی ڈٹے رہے تو مستقبل کی تاریخ میں وہ ایک قومی ہیرو کے طور پر پہچانے جائیں گے ،اسی طرح جیسے نواب اکبر بگٹی آج بلوچوں کے لئے ایک قومی ہیرو ہیں ۔اس کا فیصلہ اب نواز شریف کی قوت برداشت اور سیاسی بصیرت نے کرنا ہے نواز شریف واقعی بزنس مین سے سیاستدان بنے ہیں تو پھر وہ تاریخ میں امرہونے کو ترجیح دیں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے