پشتین _ بات اتنی سادہ نہیں

لیجنڈ مگر ہیرو یا ولن؟

کرم الہی
کوئی چاہے یا نہ چاہے، پختونوں کی پرآشوب تاریخ میں منظورپشتین کا نام ایک لیجنڈ بنتاجارہا ہے— البتہ یہ فیصلہ وقت ہی کرےگا کہ وہ ایک ہیرو کے طور پر امر ہونگے یا ایک ولن کی حیثیت سے— یہ اس لیے بھی کہ پختونوں کے حقوق کے نام پر اکٹیوازم میں منظورپشتین پہلا نام نہیں—اس راستے میں کیسے کیسے لوگ ایسے ویسے ہوگۓ، اور ایسے ویسے لوگ کیسے کیسے ہوگۓ—اور اس لیۓ بھی کہ اباسین میں آنے والے سیلاب عموما” خود پختونوں کا ہی نقصان کرکے گذر جاتے ہیں— خدا نہ کرے کہ یہ اٹھتا ہوا شورکسی اورطوفان بلاخیز کی خبر دے رہا ہو — ایک ایسا طوفان جو بچےکچے چمن کو بھی اجاڑ کہ رکھ دے—
منظورجو مقدمہ لڑرہا ہے، اور جس انداز سے لڑرہا ہے، وہ کلی حیثیت سےمنظورنہیں—یہ مانتے ہوۓ بھی کہ منظور کی بہت ساری باتیں غلط بھی نہیں، ریاست اورفوجی اداروں کے حوالے سے بات ایسی بھی نہیں جس طرح منظور بیان کرتا ہے—

مقدمہ ہے کیا؟
منظورپشتین کی ویڈیوزاور باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ ریاست دیدہ دانستہ پختونوں کی نسل کشی کررہی ہے— انہیں اپنے مقصد کے لیۓ استعمال کررہی ہے —ان کی تذلیل کررہی ہے—اب یہ سلسلہ مزید برداشت نہ ہوگا—تمام پشتونوں کو اس پالیسی کے خلاف کھڑا ہونا چاہیۓ—

پہلی بات!
اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اس بیانیۓ کے اثبات میں کوئی ٹھوس ثبوت کبھی پیش نہیں کیا جاتا—یہ حالات اور واقعات کی محض ایک تعبیری راۓ پر مبنی بیانیہ ہے ، جس سے وہ لوگ خاص طورپر متاثر ہوتے ہیں جنہیں کسی نہ کسی موقع پر ریاستی اہکاروں (خاص طورپر فوج) کی طرف سے کسی نقصان، سختی یا نامناسب طرزعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو—
لیکن اگر یہ تعبیر ایک لمحے کے لیۓ درست مان بھی لیا جاۓ تو سوال یہ بنتا ہے کہ آخر ریاست (اور بالخصوص فوج) کو کیا ضرورت ہے کہ کسی خاص قومیت کی نسل کشی اور تذلیل کرکے خود ہی اس وفاق کو کمزورکرے جس کے دفاع کے لیۓ ریاست اور فوج ہر قسم کی قربانی کی بات کرتی ہیں؟ —آخر وہ تمام پختون افسران، ملازمین ، تجار، اور سیاست گروغیرہ جو ریاست پاکستان کا حصہ ہیں، انہیں وہ ظلم اور توھین نظر نہیں آرہے جو منظور کو نظر آرہےہیں؟— کیسے ممکن ہے کہ قوم پرست رہنماووں سمیت تمام پختون اپنی اجتماعی نسل کشی اور تضحیحک پرخاموش رہ کرشریک جرم رہیں مگر صرف منظور پشتین کو تحریک شروع کرنے کی ضرورت محسوس ہو؟ — منظور پشتین کو اس سوال کا جواب دینا چاہیۓ— جہاں تک کامن سینس کی بات ہے، دانستہ نسل کشی اور اجتماعی توھین کے اس تعبیرکا کوئی سینس ہی نہیں بنتا—

دوسری بات!
اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ کیا خطے میں جاری عسکری اور سیاسی کشاکش کی ذمہ دار اول و آخرپاکستان ہی ہے؟ —کیا افغانستان نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے خلاف پختونستان کے مسلے پر دشمنی کی بنیاد نہیں رکھی تھی؟— اس کےبعد کیا روس، امریکہ، ہندوستان، ایران اور سعودی عرب سمیت پوری دنیاافغانستان میں پراکسی جنگ میں ملوث نہیں ہوۓ جس کے نتیجےمیں افغانستان ایک قبرستان بن کر رہ گیا؟— پچھلے چالیس پچاس سالوں کے واقعات کے نتیجے میں جوحالات آج پختون بیلٹ میں بنے ہوۓ ہیں، منظور پشتین ان سب کو پس پشت ڈال کر سارا ملبہ ریاست پاکستان اور عساکر پاکستان پر ڈال کر اپنا مقدمہ جذباتی طورپر دلفریب تو بنارہاہےلیکن حقیقت سے متصادم اس دلفریب بیانیۓ میں مجھے پختونوں کے لیۓ خیرکی شہد کی بجاۓ شرکا زہرزیادہ نظر آرہا ہے—

تیسری بات!
اس سلسلے میں تیسری بات یہ ہے کہ اگرمسلہ واقعی پختونوں کے قتل وغارت اور انہیں ریاستی مقاصد کے حصول کے لیۓ استعمال کا ہے تویہی پختون افغانستان میں بھی مررہے ہیں—وہاں بھی ریاست پرکچھ غیر ریاستی عناصرکی سرپرستی کا الزام ہے—امریکہ، روس اور ہندوستان پر بھی یہی الزام ہے کہ وہ بلوچوں اور پختونوں کو استعمال کرتے چلے آئے ہیں— پھر اس بیانیۓ میں ان تمام ریاستوں کا تذکرہ ہونا چاہیۓ تھا جن پر الزام ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لیۓ پختونوں کو استعمال کرکے مروا رہے ہیں—پی ٹیم ایم کے بیانیۓ میں صرف پاکستان کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے؟—

چوتھی بات!
چوتھی بات یہ ہے کہ آخر یہ کیسے پختون دشمن پالیسی ہے جس میں مطلوبہ قومیت (یعنی پختونوں) کے ساتھ ساتھ ریاست پاکستان کے تمام قومیتیں متاثرہوئی ہیں؟ کیا خودکش حملے، بم دھماکے، گرفتاریاں، اور ناکے صرف فاٹا اور خیبر پختونخوا میں واقع ہوۓ ہیں یا پاکستان کے دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی؟ —ہم خود بھی خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں، ساتھ فاٹا میں بھی جائیدادیں اور رشتہ دار ہیں، اور دھشت گردی سے شدید طورپر متاثربھی ہوۓ ہیں، لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پاکستان کا شہر شہر، قریہ قریہ دھشت گردی سے متاثرہوا —لاشیں صرف پختونوں کی نہیں گریں، ہر قومیت اورہر صوبے سے تعلق رکھنے والوں کا خون بہا— صرف عوام ہی نہیں کٹ مرے، ہزاروں فوجی، پولیس اور ایف سی کے افسر اور جوان بھی شہید ہوۓ— مزارات، بازاریں، سکولز اور پبلک مقامات صرف کے پی اور فاٹا میں نہیں نشانہ بنے—یہ حقیقت ہے کہ پختونون کا علاقہ اور پختون زیادہ متاثر ہوۓ لیکن اس جنگ کے شعلے پورے پاکستان اورہمسایہ ریاستوں تک پہنچےہیں— اس آگ نے ہر طبقے کو متاثر کیا— اور یہ آگ لگانے کی ذمہ داری کسی ایک ملک یا اس کی فوج پرلگانا درست نہیں—

پانچویں بات!
اس وقت مشرق وسطی میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مابین اسی ہی نوعیت کی پراکسی جنگ زوروں پر ہے — نہ وہاں کوئی خاص قومیت نشانے پر ہے، نہ یہاں ہمارے ہاں کے جنگی اکھاڑے میں— ہمارے علاقے میں رواں جنگ میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتیں ملوث ہیں —اب یا توعالمی برادری جنگ اور دشمنی کے اسباب کا سدباب کرے یا پختونوں سمیت تمام متاثرہ قومیتوں کوچاہیۓ کہ وہ ریاستوں کے باہمی کشاکش میں کسی کے لیۓآلہ کار نہ بنیں—

چھٹی بات!
میں کسی عوامی تحریک یا شخصیت کے سحر میں گرفتارہوں، نہ منہ زور ریاستی اداروں کی ظلم و زیادتی کے سامنے سرنڈرڈ — میں پاکستان دشمنوں کی طرح ریاست پاکستان کواپنے قول و فعل سے کمزور بھی نہیں کرنا چاہتا، لیکن ڈیپ سٹیٹ کی تجاوزات کا بھی قایل ہوں نہ وکیل—میں بھی پختونوں کے ساتھ ساتھ تمام قومیتوں کے لیۓ مساوی آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی ، بنیادی آزادیوں اور عزت و توقیر کا مطالبہ کرتا ہوں— ہر شخص اور تحریک کے اس حق کو تسلیم کرتا ہوں کہ وہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر اپنے جمہوری اور آئینی حقوق کے لیۓ جدوجہد کرے—
میں ہر ظالم کی مذمت کرتاہوں—ہر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کو دین اور ضمیر کا فرمان سمجھتا ہوں—ہر مظلوم کی مدد کو اسلام اور پاکستان سے وفاداری کا تقاضا سمجھتا ہوں— اس سلسلے میں مقدور بھر کوشش کو بھی ناگزیر سمھجتا ہوں—

آخری بات!
لیکن میں ہر تحریک اور شخص سے براءت کا اعلان کرتا ہوں جو بغاوت کا اندازاختیار کرے_ میں کسی ایسی تحریک یا شخصیت کو سپورٹ نہیں کرسکتا جو حقائق کی بجاۓ اندازوں اور مبالغوں پرمیرے پیارے پاکستان کے وجود کو کمزور کرے، جو حکمت و دانائی کی بجائے بے بصیرتی اور نادانی پر اڑی رہے، اور جس کی بظاہر خیر کی جستجو بھی مہلک شر کا سبب بنے!

 

متعلقہ مضامین