کشمیر اور افغانستان پر خطاب

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن جانتے ہیں کہ وہ ہمیں شکست نہیں دے سکتے ، دشمن کو ہمارے عزم کو کمزور کرنے کوشش کر رہے ہیں،

آرمی چیف نے کہا کہ قوم کے بھرپور تعاون اور اعتماد سے دشمن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا اور آگے بھی بناتے رہیں گی، پاکستان نے دہشتگردی اور انتہاپسندی کو مسترد کر دیا ھے، پاکستان کا استحکام ہماری طاقت ھے ، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنی قومی زمہ داریاں سے باخوبی آگاہ ھے،

آرمی چیف نے کہا کہ قوم اور اس کی افواج دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے متحد ہیں، ملک میں جاری آپریشنز سے منظم دہشتگردوں کے گروہ ختم کر دیے گئے ہیں، ہم نے اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ھے۔

آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ردالفساد کے زریعے بچے کھچے دہشتگرد عناصر کا خاتمہ کیا جارہاھے ، ردالفساد صرف ایک آپریشن نہیں ھے ، ردالفساد دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے قومی عزم کا نام ھے ،

آرمی چیف نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ھونے دیں گے، بطور آرمی چیف مجھے اب تک کی پیش رفت اور حاصل کردہ اہداف پر بہت خوشی ھے، یہ کامیابیاں قوم کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کے بغیر ممکن نہ تھیں، فاٹا اور پشتون قبائل کا کردار انتہائی قابل تحسین ھے۔ آرمی چیف نے کہا کہ فاٹا اور پشتون قبائل کا کردار انتہائی قابل تحسین ھے اناکو سلام پیش کرتا ھوں ،

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ھے اور خطہ میں امن کا خواہاں ھے، پاکستان تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پرامن اور بہتر تعلقات چاہتا ھے، امن کی خواہش کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، پاک فوج تمام خطرات اور چیلجنز سے باخوبی آگاہ ھے اور اسکا موثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ھے ،

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی ہر سطح پر سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، کشمیری عوام کی حق خوداردیت کے جدوجہد کی سطح پر حمایت جاری رکھیں گے، پرامن کشمیر ی عوام کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ جاری ھے، عالمی برداری آنکھیں کھولے اور اپنا کردار ادا کرے، پاکستان اور بھارت کے مابین مسلہ کشمیر سمیت تصفیہ طلب معاملات کا حل جامعہ مزاکرات کے زریعے ہی ممکن ھے، مذکرات کا مقصد کیسی کو فائدہ دینا نہیں بلکہ یہ علاقائی امن کے لیے ناگزیر ھے، پاکستان مذاکرات کے لئے تیار ھے تاہم ان کی بنیاد برابری خودمختاری اور باہمی احترام ھونی چاہیے _

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان پرامن اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ھے، اگر افغانستان میں امن نہیں ھوگا تو پاکستان میں بھی امن نہیں ھوگا، ہمارا امن استحکام ایک دوسرے سے جڑا منسلک ہے،  ہمیں مل کر امن استحکام کے حصول کو یقینی بنانا ھوگا، پاکستان نے اپنے حصے کا کام کر دیا ھے، پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی، پاکستان دہشتگر دی کے خلاف اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا، مستحکم پرامن اور خوشحال پاکستان کے لئے کوشش جاری رہیں گی ، آرمی چیف نے کہا کہ پاک افواج ملکی سرحدوں کی محافظ ہیں، خطے کے تمام سٹیک ہولڈرز سے کہتا ھوں امن کو موقع دیں _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے