دس کروڑ یہ گدھے

مطیع اللہ جان

فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں انقلابی شاعر حبیب جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم “۔۔دس کروڑ یہ گدھے۔۔۔” لکھی تھی تو اس وقت ملک کی آبادی بھی دس کروڑ تھی- یہ الفاظ کسی طور بھی عوام کے لئے جالب نے استعمال نہیں کئے تھے بلکہ یہ تو ایک طنز تھا ان سرکاری درباریوں اور مشیروں پر جو عوام کو گدھاسمجھتے تھے- جالب نے ایک تقریب میں بتایا کہ جب ان کے ساتھی شاعر اور پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری ایوب خان کے مشیر مقرر ہوئے تو انہوں نے مذکورہ نظم کہی- وہ نظم آج پچاس سال بعد بھی ملکی سیاسی حالات کی سو فیصد عکاسی کرتی ہے- اس وقت بھی شاعروں، دانشوروں اور قانون دانوں کا بہت بڑا طبقہ حاکم وقت کا قصیدہ گو تھا- حفیظ جالندھری سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے جالب نے ایک تقریب میں بتایا کہ جالندھری صاحب ایوب خان کا مشیر بننے پر فاخر تھے اور کہتے تھے ایوب خان آدھی رات کو بھی مشورے کے لئیے انہیں طلب کر لیتے اور پوچھتے “بتا حفیظ کیا کروں؟” جالب صاحب کے بقول جالندھری صاحب نے بتایا کہ انہوں نے ایوب خان کو مشورہ دیا ھے کہ ‘اے کالے کوٹ والے وکلأ اناں تے وی ڈنڈا رکھ۔۔ مسلمان ڈنڈے سے ہی خائف ھے اناں تے وی ڈنڈا رکھ۔۔۔ اور ایک شاعر میں نہیں مانتا کرتا پھرتا ھے اس تے وی ڈنڈا رکھ اس کو جیل میں ڈال – تو میں نے یہ نظم لکھ ڈالی۔’

میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا

صورت حال آج بھی کچھ مختلف نہیں- آج بھی ایسے بہت سے مشیر اور قصیدہ گو موجود ہیں جو آئینی جمہوری انتخابی عمل اور ووٹ کی طاقت کو نام نہاد ریاستی مفاد کے نام پر قربان کرنے کے مشورے دیتے ہیں- دراصل جھگڑا اقتدار، اختیار اور ملکی وسائل پر کنٹرول کاُ ھے- فرق صرف اتنا ھے کہ آج کا اصل حکمران پریس کانفرنس نہیں بلکہ “آف دا ریکارڈ” بریفنگوں کے ذریعے سیاسی حکومت، عدلیہ، میڈیا، بیوروکریسی، اور سیاستدانوں کو واضح پیغام (ھدایات) دیتا ھے- لگتا ھے ایسے حکمرانوں اور ان کے قصیدہ گو دانشوروں اور سہولت کار قانون دانوں کے درمیان شراکت داری کا جو نتیجہ ماضی میں قوم کو بھگتنا پڑا ہمیں پھر سے اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ھے- اگر آج حبیب جالب زندہ ہوتے تو وہ ہمارے آج کے معاشرے کے سیاستدانوں، ججوں، وکیلوں، صحافیوں، اینکروں، ادیبوں اور شاعروں میں فوجی آمریت کے مشیر محترم حفیظ جالندھری کو تلاش کر لیتے- آج بھی ایسے کہیں دانشور حقیقی مقتدر قوتوں کو انکے ناگزیر ہونے اور عوام کے جاہل ہونے کی دلیل ضرور دے رہے ہیں- چاہے وہ “آف دا ریکارڈ بریفنگوں” کے خوفزدہ شرکاءہیں یا آئین میں سیاستدانوں کو نااہل کرنے سے متعلق شقوں کی تشریح اور اس پر فیصلے کرنے والے قانون دان ، سب کے سب حبیب جالب کے طنز اور توجہ کے پہلے سے بھی زیادہ مستحق ہیں-

حبیب جالب کے دور میں عوام دس کروڑ تھے جو ملک ٹوٹنے کے بعد آدھے رہ گئے اور آج ہم عوام بائیس کروڑ ہیں۔ سوال یہ ھیکہ وہ جو دس کروڑ تھے اور اب جو بائیس کروڑ ہیں۔۔۔ کیا یہ جہل کا نچوڑ ہیں ؟ اگر ایسا ھے بھی تو ایک تصحیح ضروری ہے کہ اس بائیس کروڑ میں فوج اور عدلیہ کے وہ معزز لوگ شامل نہیں جو معاملات کو “درست” کرنے کی کوشش میں مبتلا ہیں- جی ہاں باقی اکیس کروڑ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو اٹھتر لوگ نہ تو این ڈی یو اور نہ ہی آکسفورڈ سے پڑھے کوئی سیاستدان یا قانون دان ہیں- ان عوام کو پریڈ کرنی آتی ہے اور نہ ہی سلیوٹ مارنے کا ڈھنگ ہے- جہل کا نچوڑ یہ عوام ہمیشہ نااہل اور کرپٹ سیاستدانوں کو ووٹ دیتے ہیں اور اب پھر ایسی ہی جہالت کو دھرانے جا رہے تھے- یہ عوام اتنے جاہل ہیں کہ فوجی آمریت کے چھتیس سالہ بلا واسطہ اور چونتیس سالہ بالواسطہ ادوار میں بھی جاہل رہے- ان کو اتنی عقل نہیں کہ پچھلی صدی میں جس سیاستدان نے کوئی مبینہ کرپشن کی تھی یہ اسکو بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں تو سب اچھا تھا اور اگرایسا نہ ہوتا تو آج کی ایسی بہترین “قیادت” قوم کو کہاں سے نصیب ہوتی-

میں نے اس سے یہ کہا
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تُو ‘یقین’ہے یہ ‘گماں’
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا

جی ہاں اب عوام سے کوئی امید نہیں اس لئے اب الیکشن سے چند ماہ پہلے بائیس کروڑ عوام کی بجائے چند منصف ہی یہ طے کرینگے کہ آئندہ وزیر اعظم کون ہو گا- یہ بائیس کروڑ عوام مر چکے ہیں، یہ بے شعور لوگ ہیں جن کو یا تو لاپتہ کر دینا چاہیے یا پھر انکے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانا چاہیے- ان کے درد کی دوا صرف اور صرف صبح دوپہر شام جنگ اور خوف کی ایک ایک گولی اور احتساب کی پڑیا ھے-

میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے

جی ہاں قوم بھی اپنی منتخب حکومت کے ساتھ نہیں حکومت کے ایک ماتحت ادارے کے ساتھ ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے وجود سے ملک کی نجات ہے اور پچھلے ستر سال سے ہم اسی راہ نجات کے بے منزل مسافر ہیں- کبھی آپ خدا کا نور بن کر ملک کو اسلام کا قلعہ بناتے ہیں تو کبھی آپ اپنی بے پڑھی کتابوں کی لائبریری میں اپنی عقل دانش کے موتیوں کو سگریٹ کے دھویں کے مرغولوں کی مانند بکھیرتے ہیں- تیس چالیس صحافیوں کو طلب کر کے ان کے سامنے آف دی ریکارڈ وہ بات کرتے ہیں جسکی تصدیق یا اس پر کھلی بحث کی اجازت نہیں ہوتی۔

تو ہےمہرِ صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شرپسند ہیں
ان کی کھینچ دے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا

جی ہاں میڈیا کا گلا تو ہر طرف سے گھونٹا جا رہا ہے- چند شر پسند زندہ رہ گئے ہیں وہ بھی الیکشن تک “راہ راست” پر آ جائینگے- ان “شرپسند” میڈیا والوں کو ملکی چھاؤنیوں میں نشریات کی اجازت نہیں ہو گی- ایسے میڈیا کے اداروں کو سرکاری اشتہارات اور انکے گزشتہ کئی سال کی ادائیگیوں پر بھی اچانک پابندی ملک سے شر پسندی کا صفایا کر دے گی- “وفادار” میڈیا تو ویسے بھی سویلین حکومتوں کے اشتہارات کا محتاج نہیں- اور پھر جن کی زبانیں عملی طور پر کھینچی گئی یا گلے گھونٹے گئے اس پر کسی نے کسی کا کیا بگاڑ لیا ہے۔

حبیب جالب کی اس دور کی نظموں کو آج ہر کوئی اپنی ماتھے پر لکھے پھرتا ہے- نواز شریف اور شہباز شریف نے تو کئی بار “ایسے دستور کو صبح بے نور کو” اپنے جلسوں میں بھی ماننے سے انکار کیا ہے- تو اس کے بعد چودھری شجاعت حسین کا اپنی کتاب میں حبیب جالب کو تھانے سے چھڑوانے والے قصے کا ذکر کر کے معتبر ٹھہرنا تو بنتا تھا- جنرل مشرف کو سو مرتبہ وردی میں صدر منتخب کروانے کا اعلان کرنے والے چودھری صاحب کو جالب کے پیغام اورفلسفے کو قتل کر کے اسکی لاش کے ساتھ سیلفی بنوانے میں زیادہ مزہ آیا ہو گا- مگر وہ ابھی بھی وہ اس قتل کے بعد جفا سے توبہ کرنے کے روادار نہیں لگتے- تو یہ ہیں وہ لوگ جو دس دس سال تک ہماری قوم پر محض اس لئیے مسلط رہے کہ ایک نام نہاد انتخابی عمل میں عوام کے ذہنوں اور ووٹوں کو یرغمال بنایا گیا- آئین جمہوریت اور عوام کے ووٹ کا خون کرنے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور آج ایک بار پھر تاریخ دوہرا نے کی کوشش ہو رہی ھے- سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور نیب کے چئیرمین اور عسکری قیادت آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ الیکشن سے پہلے جو کچھ کر رہیں ہیں اور جس طرح میڈیا کا گلا گھونٹا جا رہا ھے اس سے نہیں لگتا کہ ہمارا مستقبل ہمارے ماضی سے مختلف ہو گا- افسوس اس بات کا ھے کہ ملک کو آئندہ بھی نقصان پہچانے والے پہلے کی طرح اعزاز و مراعات کے ساتھ رخصت ہونگے-

ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا
کہ ہر قاتل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں

یہ تحریر مطیع اللہ جان کے فیس بک لے کر ان کی اجازت سے شائع کی گئی _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے