چیف جسٹس نے سب کہہ دیا

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اتنااحترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں، نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے_ چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے_  جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بڑھ گئی یے_

پاکستان 24 کے مطابق میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران ججوں نے بالواسطہ ن لیگ کی خواتین کارکنوں کی سپریم کورٹ کے باہر چند دن قبل کی گئی نعرے بازی کا ذکر کیا ہے _

تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم اداییگی پر سپریم کورٹ نے میر شکیل الرحمان کوکل طلب کرلیا ہے،

میڈیاکمیشن کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کررہاہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میر شکیل بتائیں کہ تنخواہیں کیوں ادا نہیں ہوئیں، مالک کوکفالت کاحق ادا کرنایے، چیف جسٹس نے اینکر حامد میر سے استفسار کیا کہ اپ کتنی تنخواہ لے رہے ہیں، جس پر حامد میر نے عدالت کو بتایا کہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ، چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہ نہ ملی توحامد میر کی مرسڈیز گاڑی کیسے چلے گی، اینکروں کو لاکھوں روپیے تنخواہ ملتی ہے۔ رپورٹرز کو تنخواہ نہیں ملتی۔ رپورٹرز کی خبروں پر اپ لوگ پروگرام کرتے ہیں۔ کیا بارہ ہزار روپے سے کسی گھر کا بجٹ بن سکتا ہے۔ حامد صاحب آپ ان رپورٹرز کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔ اینکرز سے پیار ہے مگر رپورٹرز کے لیے کچھ کریں.
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پیمراقانون میں ترمیم کے حوالے سے کیاگیایے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاصحافی اور پی بی اے کے چئیرمین کوشامل کیا گیا ہے ، کمیشن چئیرمین پیمراکے لئے 3ممبران کے پینل کاانتخاب کرے گا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا، رانا وقار نے بیایا کہ یہ کام 3ہفتوں کے اندر ہوجائے گا، فوری ایشو چئیرمین پیمراکی تقرری کا ہے،، پیمرا قانون کاآرٹیکل 5آئینی تقاضاہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے برخلاف ہم نے بھی کام نہیں کرنا چاہتے ، چئیرمین پیمراکے لیے صاف ستھراشخص آناچاہیے،
جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیاغلط خبروں سے متعلق پیمراقانون میں کوئی شق ہے، جعلی خبریں بہت اہم ایشو ہیں، رانا وقار نے بتایا کہ جعلی خبروں کو ریگولیٹ کرنانہایت ضروری ہے، عدالت نے پیمرا چییرمین کے انتخاب کے لئے سرچ کمیٹی کی تشکیل تبدیل کردی،، عدالت نے مریم اورنگزیب کوکمیٹی سے نکال کر سیکرٹرئ اطلاعات کو شامل کر لیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہیں ان کے لئے کمیٹی کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا ، عدلیہ کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، کسی شیر کومیں نہیں جانتا ، یہ ہیں اصل شیر یہ ججز ہیں،
نعرے نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے ، خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں،، غیرت ہوتی توخود سامنے آتے

خبر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے

میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین