چیف جسٹس، اینکرز اور رپورٹرز

میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ٹی وی چینلز کے اینکروں اور رپورٹروں کی تنخواہوں کے بارے میں بھی پوچھا اور دو ٹی وی چینلز کے پروگراموں پر بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے ۔

سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں چیف جسٹس ثاقب نثار دو ساتھی ججوں کے ہمراہ مقدمہ سن رہے تھے کہ اس دوران اچانک کہا کہ گزشتہ روز کچھ رپورٹرز ملے اور تنخواہ نہ ملنے کی شکایت کی ۔ اسی دوران چیف جسٹس نے عدالت میں موجود اینکر حامد میر کو مخاطب کر کے پوچھا کہ میر صاحب، آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

حامد میر نے اپنی تنخواہ بتانے کی بجائے جواب دیا کہ ہمیں تین ماہ کی تنخواہ نہیں ملی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مالک کفیل کی حیثیت رکھتا ہے، میرے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں لیکن میں ان بچوں (رپورٹرز) کو ان کاحق دلائوں گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہوں لیکن غیر قانونی کام پر کسی کو چھوڑوں گا نہیں، کئی میڈیا ہائوسز میں تنخواہوں کا مسئلہ ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اینکر کو اڑتیس لاکھ اور دوسرے کو 52 لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ ایک رپورٹر کی 12 ہزار روپے تنخواہ ہے وہ بھی نہیں ملتی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حامد میر صاحب اس معاملے پر پروگرام کرکے اپنے مالک کو بتائیں،آپ کی ایک پاور ہے، آپ صحافیوں کی آواز ہیں ۔ حامد میر نے کہا کہ واقعی پرنٹ میڈیا میں تنخواہیں کم ہیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہ نہیں ملی تو ٹھیک ہے پھر بلائیں میر شکیل الرحمان کو اس سے پوچھتے ہیں، ورکرز کا استحصال کیوں ہو رہا ہے؟ میر صاحب جن خبروں پر آپ پروگرام کرتے ہیں وہ دن بھر یہی بچے اکٹھی کرتے ہیں،
آپ کو کوئی الہام تو نہیں ہوتا ۔

حامد میر نے عدالت کو پیمرا قانون میں ترمیم پر رائے دیتے ہوئے بتایا کہ عدالتی ہدایت کے مطابق قانونی ماہرین سے ملاقات کر کے جواب بنایا ہے، بابر ستار عدالت میں موجود ہیں ان سے بھی مشاورت کی ہے ۔ چیف جسٹس نے بابر ستار کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے آپ کو چیف جسٹس بننے سے پہلے بھی کہا تھا کہ تنقید کریں، اب بھی لکھتے ہیں، چیف جسٹس بننے کے بعد بھی لاہور میں ایک تقریب میں بیٹے بابر ستار کو کہا کہ میرے خلاف لکھیں، تنقید کریں، میری اصلاح ہوگی ۔

اسی دوران چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں بھارت کے سابق وزیر ریلوے لالو پرشاد کا نام لیا تھا، اس حوالے سے میری معلومات غلط تھیں، لالو پٹنہ سے قانون کے ڈگری لے چکے ہیں (چیف جسٹس نے لاہور میں سعد رفیق کے سامنے لالو کو ان پڑھ کہا تھا)، مگر طلعت حسین نے اس بات پر آسمان سر پر اٹھا لیا (طلعت حسین کے پروگرام میں لالو پرشاد کا پروفائل دکھا کر معلومات درست کی گئی تھیں)، کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے، کسی نے فیصل رضا عابدی کا انٹرویو دیکھا ہے، ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں ۔ (فیصل عابدی نے چینل ۵ کے پروگرام میں چیف جسٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انہیں اہم ایشوز ہر ازخود نوٹس لینے کی بجائے دودھ پر نوٹس لینے والا کہا تھا، پیمرا نے چینل کو نوٹس جاری کیا ہے) ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے، عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا، اگر ہماری بات ٹھیک نہیں تو بولنا بھی بند کر دیں گے ۔

عدالت نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکل الرحمان طلب کر لیا ۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے