باسٹھ تریسٹھ انچ کی شیروانی

مطیع اللہ جان

جنگیں آج بھی لڑیں جا رہی ہیں مگر ایسی خونریزی کے بھی کچھ اصول ہیں- کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سچی جھوٹی خبر پر امریکہ جیسی عالمی طاقت کے بمبار طیارے بھی میدان جنگ میں کود جاتے ہیں- مگر شاید پاکستان جیسے ممالک میں اصلی جنگ تو کیا سیاسی جنگ کے بھی اصول نہیں- بالواسطہ جنگ میں کرائے کے جنگجوؤں کے ذریعے لڑی جانے والی پہلی افغان جنگ پر تو ہماری عسکری و سیاسی قیادت آج پشیمان ہے مگر ملکی سیاسی عمل میں بالواسطہ اور بلاواسطہ مداخلت کی پرانی حکمت عملی پر جس دھڑلے سے آج عمل ہو رہا ہے اس پر کسی کو شرمندگی نہیں-

سیاست، صحافت اور عدالت کے شعبوں میں پہلی افغان جنگ کے مجاہدین کی مانند “جہاد فی سبیل اللہ” جاری ہے- اس نام نہاد جہاد میں بھی اراکین اسمبلی کی نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی شقیں اس امریکی سٹنگر میزائل کا کام کر رہی ہیں جس نے پہلی افغان جنگ کا پانسا پلٹ دیا تھا- سٹنگر میزائل جب مجاہدین کے ہاتھ لگا تو جہاد ایک ویڈیو گیم بن کر رہ گیا جس میں دشمن کے طیارے پر فائر کر کے مجاہدین مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے- آئین کا باسٹھ تریسٹھ بھی آج سٹنگر میزائل کی مانند ہمارے چند سیاسی، صحافتی اور عدالتی مجاہدین کے ہاتھ لگ گیا ہے-

الیکشن سے پہلے حکمران جماعت ن لیگ کے راہنماؤں کی تواتر سے نا اہلی ‘عدالتی بیانات و فیصلے ن لیگ مخالف جماعتوں کے لئیے اقتدار کی راہ ہموار کر رہے ہیں- نگران حکومت کے قیام کے بعد ن لیگ اور نیب کے بیچ آنکھ مچولی میں اضافہ ہو جائے گا- نوازشریف اور مریم نواز کو جیل کی سزا ہونے کے بعد متوقع عوامی احتجاج کو روکنے اور حکمران جماعت کی الیکشن مہم کو قابو کرنے کے لئے چھاپوں اور گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا- ن لیگ کے سرکردہ سیاسی راہنماؤں کو اس وقت کے لئے پہلے سے مختلف انکوائریوں کے سلسلے میں نیب کے نوٹسز جاری کئے جا چکے ہیں-پالیسی سازوں اور فیصلہ سازوں کے لئے مسئلہ اب کرپشن نہیں بلکہ یہ ہےکہ نواز شریف کو جیل بھیج کر کہیں سیاسی طور پر الیکشن میں لینے کے دینے نہ پڑھ جائیں۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نا اہلی بھی بہت سے لوگوں اور اداروں کے لئیے مرغ باد نما ہے- ویسے تو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے پانامہ یا اقامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ کا خواجہ آصف کو نا اہل کرنا تو منہ دکھلائی کی ایک رسم ہی تھی- ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان ‘ہاتھی’ کے بوٹوں کے سائز پر پورا نہ اترنے والے سیاستدانوں کو آنے والی سیاسی جنگ کے لئے فِٹ کیسے قرار دے سکتے تھے۔

اس سیاسی جنگ کے لئیے چھاتی چھتیس انچ اور قد پانچ فٹ پانچ انچ ہونا لازمی ہوتا ہے ورنہ بھرتی نہیں ہو سکتی- نواز شریف اور خواجہ آصف جیسے سیاستدان بھی اس معیار پر پورے اترتے رہے مگر پھر اچانک انکا سینہ اور قد بڑھنا شروع ہو گیا- اب پہلے سے تیار شدہ شیروانیوں کے سائز میں تبدیلی تو ہونے سے رہی اس لئے درزیوں کو حکم ہے کہ اپنی باسٹھ اور تریسٹھ انچ کی انچی ٹییپ ہاتھ میں رکھیں اور آئندہ وزیر اعظم کی تلاش کے لئے پیمائش کا کام جاری رکھیں- سی ایس ڈی کے یہ بیچارے درزی پچھلے ستر سال سے دوکانوں کی چھت سے منسلک چار فٹ اونچائی والے پانچ بائی پانچ فٹ کی جگہ پر اکڑوں ککڑوں بیٹھے مال آرڈر پر تیار کر رہے ہیں- انکا اپنا قد پورا ہے اور نہ ہی سینہ کشادہ بس بیچارے تنہائی میں آرڈر والی شیروانی پہن کر آئینہ کے سامنے خوش ہوتے رہتے ہیں- کبھی بہت دل خراب ہو تو وزیر اعظم کی تیار شیروانی خود پر ٹانگے بازار میں نکل پڑتے ہیں- افسوس یہ کہ بازار میں کوئی دھوکہ نہیں کھاتا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ وزیر اعظم نہیں ایک درزی ہے جو مال آرڈر ہر تیار کرتا ہے۔

سیاستدانوں کی سیاست سے تا حیات نااہلی چند نئے سوالات کو جنم دیتی ہے- ایک جج جس نے اپنی زندگی میں خود ایسا چھوٹا بڑا جرم کیا ہو جسکا مرتکب اسکے سامنے کھڑا ملزم ہوا ہو تو کیا اس جج کو وہ مقدمہ سننا چاہیے ؟ جج جو خود اپنے بچے کی تحویل سے متعلق مقدمے میں فریق ہو یا رہا ہو کیا اسے بچے کی تحویل سے متعلق ایسے ہی حقائق والا مقدمہ سننا چاہیے؟ جہاں تک کسی کے صادق اور امین ہونے کا تعلق ہے تو کیا آج پاکستان کا کوئی بھی جج بھری عدالت میں یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ صادق اور امین ہے؟ ساری عمر اپنے کلائنٹوں سے کیش سے بھرے چمڑے کے بیگوں میں فیسیں لینے والے ٹیکس چور وکلأ جج بننے کے بعد دوسروں کو صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کے سرٹیفیکیٹ آخر کس منہ سے جاری کر سکتے ہیں۔

آئین میں صادق اور امین کی شرط کا نفاذ کسی سول عدالت میں ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر بھی تو ہوتا ہی ہے- جسکے بعد اس مجرم یا ملزم کو اپیل کے برابر مواقع بھی دستیاب ہوتے ہیں- قانونی طور پر آئین کے باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں پر نہیں ہوتا مگر کیا کسی کے صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کا معیار کسی آئینی،صحافتی یا فوجی عدالت کا فیصلہ ہو گا جو خود اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اور کیا ایسے فیصلوں کے بعد صادق اور امین قرار دئیے جانے والے سیدھے جنت میں جائیں گے؟

بڑے آئے آئین اور قانون کے ہاتھوں مجبور اور بھاری دل والے۔ جب واٹس ایپ نہیں تھا تو جسٹس منیر بن گئے، مولوی مشتاق بن گئے یا ارشاد حسن خان بن گئے اور جب واٹس ایپ آیا تو آئین اور قانون کے ترجمان بن گئے- بانوے ترانوے کے لندن کے فلیٹ پر تو احتساب اور ۱۹۹۹ میں پی سی او پر معافی بھی نہیں- این آر او پر تو اسکا فائدہ اُٹھانے والوں اور اسے جاری کرنے والوں کوبھی نوٹس اور پی سی او کافائدہ اٹھانے والوں اور اسے جاری کرنے والوں پر طوطا چشمی۔

مختصر یہ کہ قربانی کے جانور کو صحت مند اور پاک ہونا ضروری ہوتا ہے مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسکے پسوؤں کو نکالنے کے لئے اسکے بال شیو کر دئیے جائیں اور پھر قربانی دی جائے- آئین میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کردار کو بلند ترین اس لئے رکھا گیا تھا کہ انکا اختیار بھی بلند ترین ہو گا ۔اگر حکمرانوں کو اپنی اپنی انچی ٹیپوں سے ماپا جائے گا اور عوام کے مینڈیٹ کو ایسی سازشوں سے چوری کیا جائے گا تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سیاستدان باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتا ہے یا نہیں- اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کے بطور وزیر دفاع اور وزیر خارجہ اقامہ رکھنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے- اب معزز ججوں سمیت کون نہیں جانتا کہ ہمارے ملک میں وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کی کیا اوقات ہوتی ہے اور رہی ہے- یہ بیچارے تو خارجہ اور نہ ہی دفاع کی پالیسیاں طے کر سکتے ہیں-

ملک کے وزرائے اعظم کے حالات تو ہم پچھلے ستر سال سے دیکھ رہے ہیں- پھر کہتے ہیں سیاستدانوں کو صادق اور امین ہونا چاہیے- او بھئی انگریزی میں کہتے ہیں طاقت اور اختیار کے ساتھ ذمے داری آتی ہے۔ تو کیا ہماری سیاسی حکومتیں بااختیار ہیں؟ شیروانی کا آرڈر دینے والے اور پیمائش کرنے والے باسٹھ تریسٹھ کی انچی ٹیپ سے پہلے اپنی گردن ناپیں اور پھر سیاستدانوں کی- عوام اب سی ایس ڈی کے درزیوں کی پیمائش والی شیروانیوں سے تنگ آ چکی ہے اور آئندہ الیکشنوں میں یہ درزی شیروانیاں چھوڑ کر اپنے کچھوں میں بھاگ رہے ہوں گے۔

متعلقہ مضامین