ججوں نے سائل کی کروڑ کی سیکورٹی کھا لی؟

سپریم کورٹ میں لاہور کے سول ججز کی جانب سے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے نکلوانے کے کیس کی سماعت ہوئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے لاہور ضلع کے سات سول ججز کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق درخواست گزار وکیل نے کہا کہ  2004 سے 2007 تک سات ججز انچارج تھے، خزانے سے ایک کروڑ ۴۰ لاکھ کی رقم نکالی گئی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے وکیل سے استفسار کیا کہ میاں صاحب، اتنی بڑی رقم کیسے سرکاری خزانے سے نکل گئی ۔ وکیل نے کہا کہ  جناب اپنا گھر ٹھیک کرنے کیلئے یہ فٹ کیس ہے ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو معاملہ بھجوا رہے ہیں، اگر ججز نے رقم خورد برد کی ہے تو ہائیکورٹ تحیققات کرے گی ۔
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو تحقیقات کر کے ذمہ دار ججوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق عدالت نے درخواستگراز نبیلہ سلیم کو سرکاری خزانے سے 1 کڑوڑ چالیس لاکھ ادائیگی کا حکم بھی دے دیا ۔

درخواست گزار نے سیکورٹی کی مد میں 1 کروڑ 40 لاکھ جمع کرائے تھے، فیصلہ حق میں آنے پر بتایا گیا کہ خزانے سے 1 کروڑ 30 لاکھ غائب ہیں ۔ سیشن جج لاہور نے انکوائر ی میں سات ججوں کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی تھی ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے