ججوں کو بھی نوٹس جاری

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہے، اس لیے بھاری فیس لینے وہ وکیل جو جج بن گئے ہیں ان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہیں، عدالت میں پیش ہو کر وضاحت کریں _

پاکستان 24 کے مطابق اولڈ ایج بینیفٹ ادارے ای او بی آئی کو لوٹنے والے کیس کی سماعت کے دوران ادارے سے بھاری فیس لینے والے وکیل بھی لپیٹ میں آ گئے  _

ای او بی آئی اسکینڈل میں خلاف قانون وکلاء کو فیسوں کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچ نے تمام وکلاء کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،

پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ فیسیں وصول کرنے والے تمام وکلاء عدالت میں پیش ہوکر وضاحت پیش کریں، واضح رہے کہ وکلاء میں اعتزاز احسن، گوہر علی خان اور دیگر شامل ہیں،

عدالت کو بتایا گیا کہ ای او بی آئی کی جانب سے تمام وکلاء کو مجموعی طور پر پانچ کروڑ ادا کیے گئے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیسیں لینے والے وکلاء میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو ججز بھی شامل ہیں،

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم تمام وکلاء کو نوٹسز جاری کر رہے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی کو بھی نوٹس جاری کر دیئے گئے، دونوں ججز بھی عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دیں، صرف قانون حکمرانی ہو گی،

عدالت نے کیس کی سماعت جون کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے