خان نے کہا ’بہت مہربانی‘

کمرہ عدالت سے
اویس یوسف زئی

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو سابق ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم سنایا ہے ۔ عمران خان کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کہا you are discharged from the case. فیصلہ سننے کے بعد عمران خان کے منہ سے بے اختیار نکلا” بہت مہربانی” ۔
2014 کے حکومت مخالف دھرنے کے دوران ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو کو دھرنے میں شامل مشتعل مظاہرین نےتشدد کا نشانہ بنایا جس پر دھرنے کی قیادت کرنے والے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور سربراہ پاکستان عوامی تحریک طاہر القادری سمیت دونوں جماعتوں کے دیگر رہ نماو﷽ں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل شروع ہوا تو ساڑھے تین سال تک عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عمران خان کےقابل ضمانت اور پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ عدم گرفتاری کی پولیس رپورٹ پیش ہونے پر عدالت نے عمران خان کو پہلے مفرور اور پھر اشتہاری ملزم قرار دیا ۔

قانون کے مطابق اشتہاری ملزم کی جائیداد ضبطگی کا مرحلہ آیا اور عدالت نے جائیداد کی تفصیلات طلب کیں تو عمران خان 14 نومبر 2017 کو پہلی بار عدالت کے روبرو پیش ہو گئے اور ضمانت کی درخواست دائر کی۔ کیس کے پراسیکیوٹر چودھری شفقات نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ اشتہاری ملزم اس رعائت کا مستحق نہیں ، گرفتار کر کے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے ۔ عمران خان جان بوجھ کر اتنا عرصہ عدالت سے فرار رہے جو الگ سے ایک جرم ہے ۔

عمران خان 24 نومبر کو دوسری اور 7 دسمبر کو تیسری مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔ تیسری پیشی پر عدالت سے واپسی پر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے عمران خان اپنے وکیل بابر اعوا ن پر برہم ہوئے اور بولے ” میں تو سمجھ رہا تھا آج آخری پیشی ہے ، یہ تو بلاتے جا رہے ہیں۔” عدالت نے 2 جنوری کو پانچویں سماعت پر عمران خان کی ضمانت کنفرم کر دی ۔پولیس نے چالان داخل کرایا تو عمران خان نے بریت کی درخواست دائر کر دی ۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے فرد جرم عائد کرنے سےپہلے بریت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی ۔

بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ جھوٹا ہے ۔ ان پر حملے نہیں صرف اکسانے کا الزام ہے ۔ پولیس نے جن گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے ان میں سے اکثر گواہوں نے اپنے بیان میں عمران خان کا ذکر ہی نہیں کیا بلکہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کا نام لیا ہے ۔ خود عصمت اللہ جونیجو نے بھی تفتیشی افسر کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں عمران خان کا نام نہیں لیا ۔ ایسے میں فرد جرم عائد کر کے کمزور شواہد پر ٹرائل چلانا عدالت کے قیمتی وقت کا ضیاع ہو گا ۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد 10اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا جو 24 اپریل کو عمران خان کی عدم حاضری کے باعث نہ سنایا جا سکا اور 4 مئی کے لیے موخر کر دیا گیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے