بابا رحمتے کے فیصلے پر اعتراض نہیں ہوتا

چیف جسٹس ثاقب نثار نے آٹھویں جوڈیشل کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوش قسمت ہیں پاکستان کا آئین تحریری صورت میں ہے، آئین قانون کی حکمرانی کے اصول وضع کرتا ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی حاصل نہیں جا سکتی _

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ریاست چلانا عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے، آئین کے ان احکامات کی پابندی کرنا سب پر لازم ہے، شہریوں کے بنیادی حقوق کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے، عدلیہ نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، قرآن پاک اور الہامی کتابوں کے بعد آئین سب سے مقدس کتاب ہے، ججز نے آئین پر روح کے مطابق عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے، ججز کسی صورت اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے، بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، عدلیہ کے ہوتے ہوئی کوئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن لینا عدلیہ کا فرض ہے
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر سوموٹو یا پٹیشن پر کاروائی کی جاتی ہے_ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی پر عدالت کو جائزہ لینے کا اختیار ہے، آئین کیخلاف ورزی قانون ساز کریں یا انتظامیہ عدالت جائزہ لے سکتی ہے، عدلیہ پر پہلے ہی بہت بوجھ ہے
ججز کی تعداد بڑھانے سے بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا، تنازعات کے حل کے متبادل نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، متبادل نظام ملکی زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جا سکتا ہے، ہمارے معاشرے میں بابا رحمتے لوگوں کے تنازعات حل کرتا ہے، بابا رحمتے کو فیصلے پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا، اے ڈی آر سسٹم میں عدالت پر بوجھ نہیں پڑے گا _
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان میں قراردادوں اور سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے، آج تک ہونے والی جوڈیشل کانفرنسز کی سفارشات پر عمل نہیں ہوا، کئی گھنٹوں کی محنت سے آج بھی سفارشات تیار کی گئی ہیں، جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں ججز پر مشتمل کمیٹی عملدرآمد یقینی بنائے، چار ماہ میں کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، کمیٹی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید ، جسٹس فائز عیسی، جسٹس عمر عطاء، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر بھی کمیٹی میں شامل ہوں گے، انہوں نے کہا کہ
کہا جاتا ہے عدالت کے کئی فیصلے آپس میں متضاد ہیں، متضاد فیصلوں سے ماتحت عدلیہ کو مشکلات ہیش آتی ہیں، وکلاء ایسے فیصلوں کی نشاندہی کریں تاکہ مسئلے کا حل ہو سکے، آئندہ ہفتے سات رکنی لارجر بنچ فوجداری قانون سے متعلق سماعت کرے گا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن نظام انصاف میں اصلاحات کی کئی سفارشات کر چکا ہے، سفارشات تاحال ایگزیکٹو فورم پر زیر التواء ہیں، اٹارنی جنرل معاملے کا جائزہ لیکر سفارشات پارلیمنٹ کو بھجوائیں _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے