عدالتی کانفرنس کی اہم سفارشات

سپریم کورٹ اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام آٹھویں جوڈیشل کانفرنس نے اختتامی سیشن میں اہم سفارشات کی منظوری دی ہے _

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آٹھویں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب میں اپنے گروپ کی سفارشات پیش کیں، کہا کہ بیرون ممالک میں عدلیہ غلط فیصلہ بھی کرے تو پورا ملک تسلیم کرتا ہے، ملک میں متوازی عدالتی نظام نہیں ہو سکتا، پاکستان میں ڈرگ، انسداد دہشتگردی اور فوجی سمیت کئی قسم کی عدالتیں ہیں_ٹرائل کی سطح پر یکساں نظام ہونا چاہیے

عدالتی دائرہ اختیار کا فیصلہ بلاآخر سپریم کورٹ کو کرنا پڑتا ہے، ملک میں خصوصی عدالتیں نہیں ہونی چاہیے، قومی سطح پر اس معاملے کا جائزہ لینا ہوگا، ایڈیشنل سیشن کو ہی ججز ہی ڈرگ، لیبر اور دہشتگردی کے مقدمات سننے چاہیں _
ایس ایچ او کو ہدایات دینا جج کا نہیں ایگزیکٹو کام ہوتا ہے، مقدمہ درج کرنے کیلئے ایڈیشنل سیشن ججز کے حکم کی کیا ضرورت ہے؟ پولیس آرڈر 2002 پر عملدرآمد نہ ہونے کا نوٹس لیا جانا چاہیے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شکایات کیلئے فورم قائم کرے، ہر کام کا بوجھ عدالت پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے _

آٹھویں جوڈیشل کانفرنس میں علاقائی، معاشی انضمام /سی پیک پر سفارشات اپنے گروپ کی طرف سے جسٹس گلزار احمد نے پیش کیں _

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تناظر میں ٹرانزٹ اور سمندری مال برداری قوانین متعارف کرائے جائیں، سفارش کی گئی ہے کہ سی پیک کو دیکھتے ہوئے علاقائی سطح پر کثیر الملکی سرمایہ گارنٹی ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائے، سی پیک کے دوران اٹھنے والے تنازعات کے حل کے لیے علاقائی ثالثی مرکز قائم کیا جائے، پاکستان اور چین کے درمیان دوہرے ٹیکس سے بچنے کیلئے آرٹیکل آٹھ میں ترمیم کی جائے، سی پیک منصوبوں کے دوران ماحولیات کا اعلٰی معیار برقرار رکھا جائے، وزارت منصوبہ بندی سی پیک کے معاہدوں اور دستاویزات کو عام لوگوں کی دسترس میں لائے _

آٹھویں جوڈیشل میں تنازعات کے متبادل حل کی سفارشات بھی سامنے آئی ہیں _ سفارشات جسٹس عظمت سعید نے پیش کیں جن میں کہا گیا ہے کہ تنازعات کے حل کا متبادل نظام جلد انصاف کیلئے اہم ہے، کمرشل تنازعات کے حل کیلئے دنیا میں کئی ماڈلز موجود ہیں، دنیا میں رائج اس نظام کو نافذ کرکے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے
عدلیہ کی نگرانی میں ہونے والی ثالثی زیادہ مفید ہے، نئے نظام کیلئے ججز کی ٹریننگ بھی لازمی ہوگی، عوام کی اکثریت کی عدالت تک رسائی ہی ممکن نہیں، عوام کی عدالتوں تک رسائی نہ ہونے کی کئی معاشرتی وجوہات ہیں، ہم ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان مسائل پر بات کرتے ہیں
گراس روٹ سطح پر انصاف کیلئے تنازعات کے حل کے متبادل نظام کی ضرورت ہے، انصاف تک رسائی بنیادی آئینی حق ہے، ملک کے چالیس فیصد عوام انصاف کے بنیادی حق سے محروم ہیں _

نظام انصاف کے تناظر میں سیاسی و معاشی استحکام کی سفارشات جسٹس قاضی فائز عیسی نے پڑھ کر سنائیں، سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام معیشت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے، سیاسی عدم استحکام سے ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچتا ہے _

ملزمان کا بائیومیٹرک اور تصویری ریکارڈ ہونا لازمی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شواہد اکٹھے کرنے کی تربیت ضروری ہے، جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری کارروائی ہونی چاہیے،
جائے وقوعہ سے شواہد ضائع ہونے سے بچائے جانے چاہیے، فوجداری مقدمات کو التواء کے بغیر نمٹانے کی ضرورت ہے، گواہان کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر بیان جلد ریکارڈ کیے جائیں _
میمو کمیشن میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا گیا، ویڈیو لنک سے بیان لینا بظاہر مشکل تھا لیکن ریکارڈ باآسانی ہوا _
دہشتگردی تنظیموں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، کالعدم تنظیموں کے پراپیگنڈا پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے، انسداد دہشتگردی کے قوانین پر مکمل عملدرآمدُہونا چاہیے، دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سکیورٹی اداروں کے ردعمل کا طریقہ کار وضع ہونا چاہیے _

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے