جاہل بریگیڈ کی گولی

عبدالجبارناصر
اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں جولائی 1984 میں ایک لبرل خاتون نے آقائے جہاں (جن کے جوتوں کی خاک پرہمارا مال و جان سب کچھ قربان ہو)حضرت محمدﷺ کی شان اقدس پر گستاخانہ جملے استعمال کئے اور اس کی باز گشت ایک اور خاتون آپا نثار فاطمہ مرحومہ تک پہنچی اور پھر ختم بنوت کی تحریک کا حصہ بن گئی بلکہ محرک بن گئی۔ ان کا بیٹا(احسن اقبال) ماں کی انگلی پکڑے نعتیں پڑھتا اور مسلمانوں کے ایمانی لہو کو گرماتا۔ماں عاشقان میں تبلیغ کرتی تو بیٹا خوبصورت آواز میں اپنی نعتوں جذبہ عشق کو تازہ کرتا، شہر شہر ماں بیٹا پہنچ گئے اور یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہا۔مرحومہ 1982 میں شہید جنرل محمد ضیاء الحق مجلس شوریٰ میں ممبر بنی تو افتتاحی اجلاس میں جنرل صاحب خود شریک تھے ۔مکمل حجاب کے ساتھ پچھلی نشستوں سے ایک خاتون(آپا نثار فاطمہ) اٹھیں اورجنرل ضیا کو مخاطب کر کے کہا جنرل صاحب میری دوباتیں۔ایک جمہوریت کیلئے اور دوسری آزادی صحافت کے حق میں۔آپ نے شوریٰ بنادی، شوریٰ کے ذریعے انتقال اقتدار کی راہ ہموار ہونی چاہیےاوراخبارات پرپیشگی سنسرشپ ختم کی جائے۔

اسی دوران ملک میں غیر جماعتی انتخابات بھی ہوئے اور تحریک ختم نبوت بھی زوروں پر تھی۔ ہر مسلمان اپنا حق ادا کر رہا تھا۔ عدالتی جنگ میں لاہور کے ایک وکیل محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سرگرم تھے۔ اسمبلی میں آپا نثار فاطمہ پیش پیش تھیں ،اسی دوران اس خاتون اور چند دیگر ارکان نے توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف کارروائی کے لئے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی مگر یہ قرارداد منظور نہ ہوسکی، اس قرار داد کا مقصد شاتمان رسول کے لئے سزائے موت قانون بنواناتھا۔ راوی کے مطابق آپا نثارفاطمہ مرحومہ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے مشن پر نکلی کراچی میں مولانا شبلیغ الدین مرحوم کے ہاں پہنچ گئی اور دامن پھیلا کر کہا علامہ صاحب کوئی ہمارے آقا کی گستاخی کرے اورہم خاموش ہوجائیں نہیں!
آپ تقریر تیار کیجئے ہم ایک اور کوشش کرتے ہیں، آپا مرحمومہ نے جھولی پھیلادی،علامہ بھی تیار ہوئے کئی روز تقریر کی تیاری ہوئی ، اس دوران آپا مرحومہ کی جدوجہد ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئی، جلسے تو جاری تھے اور آپامرحومہ کا بیٹا نعتیں پڑھ پڑھکر لوگوں کے ایمان تازہ کرتا،آپامرحومہ اور علامہ شاہ بلیغ الدین مرحوم نے ملکر ایک مدلل تقریر تیار کی اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے ۔
صدر (غالباً حامد ناصر چھٹہ)اجلاس سے آپا نثار فاطمہ اور چند دیگر ارکان مخاطب ہوئے اور کہا جناب چیئرمین ہمیں معلوم ہے کہ ہماری قرار داد مسترد ہوگی، بس گزارش اتنی ہے کہ علامہ شاہ بلیغ الدین کو تقریر کی اجازت دیں، صدر اجلاس نے اجازت دی اور پھر علامہ صاحب کئی گھنٹے تک بولتے ہی گئے اورجب تقریب ختم ہوئی تو ہر آنکھ اشکبار تھیں اور قرارداد منظور ہوئی اور اسی قرارداد کی روشنی میں پھر آپانثار فاطمہ مرحومہ نے قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں دفعہ‘ 295 سی کابل جس کی رُو سے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا‘ سزائے موت تجویز کی گئی‘ پیش کیا اور بل متفقہ طور پر منظور ہوا۔
مگرآج(6مئی 2018 کو) اسی آپا نثار فاطمہ مرحومہ کے اسی فرزند (وفاقی وزیر داخلہ چودھری احسن اقبال )کوجو ختم نبوت کے جلسوں کی نعتیں پڑھ پڑھ کر مسلمانوں کے ایمان کو تازہ کر تا اور عظیم مبلغ مولانا امین اصلاحیؒ کے نواسے کو ’’گستاخ رسول‘‘قرار دے کر  قاتلانہ حملہ کرکے زخمی کیاگیا۔اللہ تعالیٰ چودھری احسن اقبال کو جلد صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔
کون ہے جو اس جاہل بریگیڈ کی سرپرستی کرتا ہے، کبھی پنجاب میں تبلغی جماعت کے دو بزرگوں کو گستاخ رسول قراردیکر مسجد میں شہید کیا جاتا ہے، کبھی خیبر پختونخوا میں پرنسپل کو صرف اس لئے قتل کیا جاتا ہے کہ طالب علم کی فرمائشی دھرنے میں شرکت پر غیر حاضر لگی، کبھی آپا نثارفاطمہ کے فرزند اور سابق وزیر اعظم جوتیاں پھیکیں جاتی ہیں اور کبھی خواجہ آصف پرسیاہی پھینک دی جاتی ہے۔ کبھی نام لیکر قتل کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں اور کبھی شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قتل کا نہ صرف اعتراف کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تحسین اور مزید کی ترغیب دی جاتی ہے۔ کبھی شہید جنید جمشید کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے۔اس بریگیڈ کو لگام نہ دیا گیاتو پھر ملک میں انارکی ہوگی، اس کابریگیڈ کا مقصد صرف سیاسی ہے۔ باباجی خدا کا واسطہ ہے کہ اس کا بھی ایک نوٹس لیں، ورنہ تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ اس وقت ہرشہری اس ۔۔۔۔بریگیڈ کے نشانے پرہے، اس کا آج تدارک نہ کیا تو لوگ ماضی قریب کے دہشت گردوں کے مظالم کو بھول جائیں گے۔ان معاہدوں اور نوٹ کا وقت نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مطالعے کی یاداشت پر تحریر گیا ہے ، اگر حوالے یا واقعات کے حوالے سے کوئی غلطی ہے تو اصلاح فرمائیں، نوازش ہوگی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے