عدالت میں مٹھائی کیوں؟

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا۔ استغاثہ کے تمام گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ۔ عبوری ریفرنس کے11 جبکہ ضمنی ریفرنس میں شامل 7 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔دو گواہوں فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے اور کوئسٹ سالیسٹر راجا اختر کے پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے وڈیولنک کے ذریعے بیانات ریکارڈ کیے گئے ۔ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کے بیان اور جرح پر سب سے زیادہ 20 دن لگے ۔

پیر 7 جنوری کو نیب کے آخری گواہ اور ریفرنس کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر پر جرح مکمل کی گئی ۔ سماعت کا آغاز ہوا تو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے مریم نواز کی نواسی کی پیدائش کے باعث ایک دن کی حاضری سے عارضی استثنا کی درخواست جمع کرائی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا ۔

دوران سماعت ایک موقع پر گواہ نے کہا کہ مریم نواز نے جو ٹرسٹ ڈیڈ زاوریجنل بتا کر جے آئی ٹی کو دیں وہ دراصل اصل نہیں تھیں۔ جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے سوال کیا کہ کیا یہ بات آپ کےسامنے ہوئی؟ کیا آپ جے آئی ٹی کی کارروائی کا حصہ تھے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کا یہ کہنا سنی سنائی بات ہے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ کبھی جے آئی ٹی کی کارروائی کا حصہ نہیں رہا۔ نیب کے تفتیشی افسر کے طور پر جن گواہوں کے بیانات قلمبند کیے ان میں سے کسی نے بھی مریم نواز یا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے بارے میں بے نامی دار کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ واجد ضیا کے علاوہ جے آئی ٹی میں شامل کسی رکن کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ واجد ضیاء نے اپنے بیان میں بتایا کہ جو اصل دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرائیں ان میں جافزا اتھارٹی کی دستاویزات، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹس اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات شامل ہیں۔ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے جرح میں سوالوں کے جواب میں بتایا کہ جے آئی ٹی والیم فور کے صفحہ 1سے 240تک تمام صفحات نمبر پرنٹڈ ہیں جبکہ صفحہ نمبر241 سے 299تک نمبر زہاتھ سے لکھے گئے ۔نہیں معلوم کہ یہ صفحات والیم فور میں کب اور کس نے شامل کیے؟یہ بھی نہیں معلوم کہ جے آئی ٹی نے اضافی دستاویزات کب سپریم کورٹ میں جمع کرائیں؟

تفتیشی افسر عمران ڈوگرنے بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان سے متعلق حاصل کی گئی تمام دستاویزات عدالت میں جمع کرائیں ۔ کوئی بھی معلومات اپنے تک نہیں رکھیں۔ تحقیقات مکمل ہونے پر تفتیشی افسر انوسٹی گیشن رپورٹ قانونی رائے کے لیے پراسیکیوشن ونگ کو بھجوائی جاتی ہے جو ریفرنس دائر کرنے سے قبل Trial Worthy Certificate جاری کرتا ہے۔اس ریفرنس کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ 6 ستمبر 2017 کو تیار کی جس میں ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی جبکہ قائم مقام ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب لاہور نے ٹرائل وردی سرٹیفکیٹ 31 اگست 2017 کو ہی جاری کر دیا تھا کیونکہ ڈرافٹ رپورٹ پہلے بھجوا دی تھی ۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ٹرسٹ ڈیڈز کی رجسٹریشن سے متعلق ایکسپرٹ گلڈ کوپر کی رائے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم فور میں شامل ہے جو عمران احمد خان نیازی کی ہدائت پر حاصل کر کے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی ۔ عمران خان کو جانتا ہوں کہ وہ سیاستدان اور پانامہ کیس میں درخواست گزار تھے ۔ انہیں اس کیس کے حوالے سے شامل تفتیش نہیں کیا ۔ ایک اور ایکسپرٹ سٹیفن موورلے سمتھ کی رائے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی متفرق درخواست نمبر CMA 432/2017 کے صفحہ نمبر 107 پر شامل ہے مگر تحقیقات کے لیے لندن گیا تو اسے شامل تفتیش نہیں کیا ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کوخدمات فراہم کرنے والی سروس پرووائیڈر کمپنیوں کو بھی تفتیش میں شامل نہیں کیا۔ فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا لندن میں بیان ریکارڈ کیا ، اس کی سی وی بھی دیکھی جس پر کہیں درج نہیں کہ وہ فونٹ کی شناخت کا ماہر ہے۔ رابرٹ ریڈلے نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ اس نے دونوں رپورٹس 9 جولائی 2017 کو بھجوائیں ۔ مجھے یہ بات یاد نہیں کہ 9 جولائی کو اتوار تھا ۔

دوران سماعت جرح کے دوران نیب کے تفتیشی افسر کے موبائل فون پر کال آ گئی تو انہوں نے عدالت سے معذرت کر کے اپنا فون سائلنٹ کر دیا ۔سماعت کے دوران تفتیشی افسر اور ایک صحافی سمیت تین افراد کے موبائل فون بجے مگر عدالتی عملے نے صرف سرکاری ٹی وی کے رپورٹر سے فون لے کر ضبط کرنے کی جرات کی جو بعد میں تحریری معافی نامہ لکھ کر دینے پر واپس کیا گیا ۔

تفتیشی افسر کا بیان مکمل ہونے پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ شواہد مکمل ہونے سے متعلق مجاز اتھارٹی کو خط لکھ دیا ہے باقاعدہ جواب ملنے پر منگل تک عدالت کو آگاہ کردیا جائے گا ۔ عدالت اس کے بعد ملزمان کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے نوٹس جاری کرے جس پر وکیل صفائی امجد پرویز نے کہا کہ ابھی العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز میں واجد ضیا اور تفتیشی افسر ان کے بیانات ریکارڈ ہونا باقی ہیں۔ملزمان کے بیان اس کے بعد ایک ساتھ ریکارڈ کیے جائیں۔ عدالت نے کہا کہ اس پر کل بات کی جائے گی تاہم منگل کو سماعت کے دوران ملزمان کو عدالت آنے کی ضرورت نہیں ۔

نیب پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی آج مٹھائی لے کر عدالت پہنچے اور اپنے بیٹے عمر عباسی کی پیدائش کی خوشی میں تمام افراد میں مٹھائی بھی تقسیم کی ۔

متعلقہ مضامین