فوج کے کپتان پر کتنا خرچ آتا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ مسلح افواج سے سول سروس میں آنے والے افسران کیلئے وضع کردہ طریقہ کار عدالت میں پیش کیا جائے ۔  عدالت عالیہ نے اس حوالے سے چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو چھ سوالات کا تحریری جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں حساس ادارے کے ملازم کے ایف پی ایس سی کی جانب سے پروموشن امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق عدالت عالیہ کے تحریری حکم نامے میں چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے پوچھے گئے سوالات میں کہا گیا ہے کہ کس قانون کے تحت پاک آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے افسران سول سروس میں شامل کئے جاتے ہیں ۔ کیا مسلح افواج کے لئے الگ سے کوٹہ قائم ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو کیا وہ سی ایس ایس میں دوسرے امیدواروں کے ساتھ مقابلہ کرکے آتے ہیں؟ ۔

عدالت نے پوچھا ہے کہ کیا سی ایس ایس میں انتخاب پر ان کا اسٹیٹس ریٹائرڈ ملازم کے بعد پنشنری ملازم کا ہے یا نہیں؟ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کیڈٹ کے لئے دوران کورس پی ایم اے چھوڑنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ ایک کیڈٹ کو ملٹری اکیڈمی دوران کورس چھوڑنے سے پہلے کتنی رقم ادا کرنا پڑتی ہے؟ پاکستانی ریاست کو ایک میجر اور کپتان کو تیار کرنے میں کتنی رقم ادا کرنا پڑتی ہے؟ اور کیا سول سروس جوائن کرتے ہوئے ان سے یہ رقم واپس لی جاتی ہے ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے اس لئے اس میں عدالت کی مستقل معاونت کی جائے اس کے لئے اٹارنی جنرل فار پاکستان کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے ۔ عدالت نے کیس کی سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی ہے ۔

متعلقہ مضامین