ریفرنسز ایک ماہ میں مکمل کریں

سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کو نواز شریف اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز پر ٹرائل مکمل کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی ہے ۔ عدالت عظمی نے نیب کورٹ کے جج محمد بشیر کی پانامہ ٹرائل مدت میں توسیع کی درخواست پر ۹ جون کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے ۔

جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 2 رکنی عدالتی بنچ نے ٹرائل مدت میں توسیع کی درخواست کی سماعت کی ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا؟ ۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ایک ریفرنس میں ٹرائل تقریبا مکمل ہو چکا ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا ایون فیلڈ ریفرنس میں دلائل ہو گئے ہیں ۔ کیا ایون فیلڈ ریفرنس میں الگ سے فیصلہ ہو سکتا ہے؟ اسحاق ڈار کا ریفرنس بھی زیر التوا ہے ۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں 18 گواہوں کے بیان ریکارڈ کرچکے ہیں، دفعہ 342 کے بیانات ایون فیلڈ ریفرنس میں ریکارڈ ہونے ہیں ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے پوچھا کہ ٹرائل کب تک مکمل ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہاں توسیع لینے ہم نہیں آئے تاہم چونکہ تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی ہماری استدعا منظور نہیں کی گئی تھی، جرح میں بھی وقت لگتا ہے اس لیے تین ماہ کا وقت مناسب ہوگا ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اتنا وقت نہیں دے سکتے ۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پھر میرے تحفظات بھی ریکارڈ کیے جائیں، رمضان کے دوران ٹرائل کورٹ دیر تک کام نہیں کر سکے گی ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ۹ جون تک نواز شریف اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز مکمل کرنے کی مہلت دیدی ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ امید ہے ٹرائل کے دوران انصاف کا قتل نہیں ہوگا ۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے