رمضان ٹرانسمیشن کیس فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیلی ویژن چینلز کو پیمرا کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرنے کے ساتھ رمضان المبارک میں رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے حوالے سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر بھی عمل کرانے کی ہدایات جاری کر دیں ۔ غیر ملکی بالخصوص بھارتی اشتہارات، ڈراموں اور فلموں پر مکمل پابندی ہو گی ۔ لاٹری، جوا اور نیلام گھر سمیت سرکس جیسے پروگرام بھی نہیں چلیں گے ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ اچھل کود کا کلچر ڈاکٹر عامر لیاقت نے متعارف کرایا باقی سب شاگرد ہیں ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وقاص ملک ایڈووکیٹ کی درخواست ہدایات ساتھ نمٹا دی ۔پیمرا نے رپورٹ پیش کی کہ پاکستان میں کل 117میں سے صرف 3 چینلز آذان نشر کررہے ہیں ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ سحر اور افطار ٹرانسمیشن میں اچھل کود اور دھمال نہیں چلنے دیں گے۔ اچھل کود کا کلچر ڈاکٹر عامر لیاقت نے متعارف کرایا باقی سب شاگرد ہیں۔
ڈاکٹر عامر لیاقت، ساحر لودھی، فہد مصطفے اور وسیم بادامی باز نہ آئے تو تاحیات پابندی لگا دیں گے ۔ کرکٹ میچ پر تجزیہ کرانے کیلئے بیرون ملک سے ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جبکہ اسلامی موضوعات پر بات کرنے کیلئے کرکٹرز اور اداکاروں کو بیٹھا دیا جاتا ہے۔ مارننگ شوز اور رمضان ٹرانسمیشن میں اسلامی موضوعات پر پی ایچ ڈی اسکالر سے کم کوئی بات نہیں کرے گا۔عجیب تماشا لگا ہے، حمد ،نعت اور تلاوت، سب موسیقی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مغرب کی اذان سے پانچ منٹ پہلے درود شریف یا قصیدہ بردہ شریف نشر کریں، اشتہار نہیں ۔ رپورٹ پیش کریں کہ پاکستان میں انڈین چینلز کون آپریٹ کررہا ہے؟ جو بھارت سے دوستی کی بات کرے اسے سیکیورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق ڈی جی آپریشنز پیمرا نے بتایا کہ ضابط اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نےریمارکس دیے اداروں کے خلاف بات سینسر ہوتی ہے تو دین کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتی؟پی بی اے کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ چینلز پیمرا، آئین اور ضابطہ اخلاق کے تحت چل رہے ہیں۔ عدالت کوئی جنرل حکم جاری نہ کرے۔ پیمرا کو ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے ہدایات جاری کرے۔ سماعت کے بعد عدالت نے نو صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا تاہم وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ اور پیمرا عدالتی ہدایات پر عمل کرائیں۔ وزارت اطلاعات و داخلہ کے سیکرٹریز اور چیئرمین پیمرا پر مشتمل کمیٹی رمضان کا پہلا عشرہ مکمل ہونے پر رپورٹ عدالت میں پیش کرے ۔ غیر ملکی بالخصوص بھارتی اشتہارات، ڈراموں اور فلموں پر مکمل پابندی ہو گی ۔ دس فیصد غیر ملکی مواد نشر کرنے کی اجازت ہے جس کی منظوری چیئرمین پیمرا اور وزارت داخلہ و اطلاعات کے سیکرٹریز پر مشتمل کمیٹی دے گی ۔ غیر ملکی مواد نشر کرنے سے پہلے ریاست اور اسلام کے خلاف چیزوں کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔ رمضان المبارک میں لاٹری ،جوا اور نیلام گھر سمیت سرکس جیسے پروگراموں پر پابندی ہو گی ۔ تمام چینلز اس بات کو یقینی بنائیں کہ پروگرام کے میزبان اور مہمان کی طرف سے رمضان المبارک کے تقدس پر سمجھوتہ نہ ہو۔ رمضان میں تمام چینلز پانچ وقت مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی اذان نشر کریں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے