تین رکنی بنچ دو رکنی کیوں؟

سپریم کورٹ کی پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مختلف مقدمات کی سماعت کی _ ہسپتالوں کے فضلے کی تلفی کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اچانک تین رکنی بنچ اٹھ کر چلا گیا، بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقدمہ سنا جبکہ جسٹس قاضی فائز بنچ کا حصہ نہ بنے _

عدالت میں سیکرٹری صحت خیبر پختون خوا اسپتالوں کے فضلے کی تلفی کی رپورٹ پیش کی ۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا کہ یہ مقدمہ شروع کیسے ہوا؟ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل سے حکم آیا تھا، اس پر یہ رپورٹ تیار کی ہے _ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا عدالت کے سامنے درخواست ہے یا اس کو آرٹیکل 184/3 کے تحت از خود نوٹس میں تبدیل کیا گیا ہے؟ ۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل کے پاس براہ راست کوئی اختیار نہیں، ان کی درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے _  جسٹس فائز نے اعتراض کیا کہ 184 تھری کے تحت پہلے سپریم کورٹ کا آرڈر ضروری ہے _ انہوں نے وکیل لطیف آفریدی سے آئین کا آرٹیکل 184/3 پڑھنے کے لئے کہا _ وکیل کی جانب سے مذکورہ آرٹیکل پڑھے جانے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اچانک عدالت برخاست کر دی _ کچھ دیر بعد جب عدالت دوبارہ لگی تو بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسی شامل نہیں تھے ۔ عدالت میں موجود کچھ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے اٹھنے سے قبل کہا کہ یہ بنچ ٹوٹ گیا ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بعد ازاں سماعت کے دوران کہا کہ ہمارے کام اس وقت قانون کے مطابق ہے، اگر کوئی بچہ ہمیں اپنے بنیادی حق کے لیے درخواست دے تو ہم پٹیشن کے ذریعے بھی کیس لے سکتے ہیں ۔

اس سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار پشاور کے مینٹل ہسپتال گئے، انہوں نے دماغی امراض کے مختلف شعبے دیکھے _ پشاور میں حکام نے بتایا کہ فماغی امراض کااسپتال دوسری جگہ بنارہےہیں، دماغی امراض کا اسپتال گزشتہ 100 سے یہاں پرموجود ہے، حکام کے جواب کے بعد چیف جسٹس نے سیکرٹری ہیلتھ کو طلب کر لیا، چیف جسٹس نے ہسپتال کی ابتر صورتحال پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ کیا صحت کی سہولیات یوں فراہم کی جاتی ہیں, چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب آپ مان لیں کہ آپ کے انتظامات ناقص ہیں، چیف جسٹس نے اسپتال کے ڈاکٹر طارق کی سرزنش کی _ چیف جسٹس نے اسپتال سے ادویات کے نمونے لے کر اپنے اسٹاف حوالے کر دیے اور کہا کہ ہم ان ادویات کو چیک کریں گے، ڈاکٹر طارق نے کہا کہ بالکل مانتا ہوں کہ انتظامات ناقص ہیں ۔

سپریم کورٹ میں فارن گریجویٹ ڈاکٹرز کی تنخواہوں اور نرسسز سروس سٹرکچر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ڈاکٹرز اور نرسسز کے تحفظات دس دن میں دور کرنے کے احکامات جاری کر دیے ۔ ینگ ڈاکٹرز نے بتایا کہ ایم ٹی آئی ہیڈ عدالتی احکامات نہیں مانتے ان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات جمع ہو رہے ہیں، نرسسز کا عدالت میں موقف تھا کہ ہم سے ڈبل شفٹ میں کام لیا جاتاہے لیکن سروس سٹرکچر نہیں بنایا جا رہا، نرسز سروس سٹرکچر کے خلاف کیس سماعت کے دوران نرسوں نے کہا کہ ہمیں خوار کیا جارہا ہے ۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سیکرٹری ہیلتھ ایک ہفتہ کے اندر نرسز کے مسائل حل کرے ۔ عدالت نے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا ۔

 

متعلقہ مضامین