سینیٹ اجلاس میں جواب طلب

امریکا میں پاکستانی سفارت کاروں کی نقل حرکت پر پابندی اور پاک امریکہ تعلقات پر چیئرمین سینیٹ نے پیر کے روز وزارت خارجہ کے حکام کو وضاحت کے لۓ ایوان میں طلب کر لیا ہے ۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی ۔ اپوزيشن لیڈر شیری رحمان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ واشنگٹن میں ہمارے سفارتکاروں کی نقل و حرکت کو 25 کلومیٹر تک محدود کر دیا گیا ہے، سنا ہے جواب میں پاکستان بھی ایسا ہی کرنے والا ہے ۔ اس طرح مزید تلخی بڑھے گی، امریکہ کے لئے نئے سفیر نیب زدہ ہیں، ہمارے وزیر خارجہ بھی اقامہ زدہ نکلے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے لیے راتوں و رات وزیر بن جاتے ہیں لیکن وزیر خارجہ کیوں نہیں بنایا جا رہا ۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تلخی آتی جا رہی ہے جو بہتر نہیں، جلد از جلد وزیر خارجہ تعینات کیا جائے ۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹانے والی کمیٹی کی جانب سے عمر خراسانی پر سے پابندیاں ہٹانا تشویشناک ہے ۔ عمر خراسانی پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ رہے ہیں آرمی پبلک سکول کے ماسٹر مائنڈ بھی عمر خراسانی ہیں، عمر خراسانی نے ہمارے سیکیورٹی حکام اور شہریوں کو شہید کیا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایشیا اور پاکستان کی طرف ایک طوفان بڑ ھ رہا ہے ۔ شیری رحمان نے کہا کہ اے پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا ۔ 10 مئی کو ٹی ٹی پی کے پانچ دہشت گردوں کو بے نظیر قتل کیس میں گرفتار کیا گیا، وہ پانچ ملزمان  قتل کا اعتراف کر چکے ہیں، بی بی کے قاتلوں کو چھوڑ دیا گیا ہے، پی پی پی کو فریق نہیں بنایا گیا، بی بی قتل کے دوران ہمارے 27 کارکنان شہید ہوئے ۔

چیئرمین سینٹ نے پیر کے روز وزارت خارجہ حکام کو ایوان میں طلب کر لیا ۔ سینٹ نے مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام  کے لیے قانون وضع کرنے کا بل 2017، انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنولوجی بہاولپور کو ڈگری دینے کا ادارہ کے طور پر قیام بل کے علاوہ کم عمر بچوں کے لئے فوجداری نظام انصاف کے لئے قانون وضع کرنے کا بل بھی منظور کیا ۔ ایوان میں مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈ ایکٹ 1996 میں مزید ترمیمی بل کے سمیت تیرہ بلوں کی منظوری دی گئی جس کے بعد سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔

متعلقہ مضامین