امین فہیم کا فرنٹ مین گرفتار

سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم مرحوم کے فرنٹ مین ایاز. خان نیازی کی گرفتاری کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد قومی احتساب بیورو نیب کے حوالے کیا جائے گا، عدالت کے باہر سے ملزم کو اسلام آباد پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے _

سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کرپشن کیس میں سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی ھدایت کی، نیب نے این آئی سی کیس میں ایاز خان نیازی کو گرفتار کر لیا، ملزم ایف ائی اے مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت پر تھے، مقدمات ایف ائی اے سے نیب منتقل ہونے پر ضمانت غیر موثر ہو گئی تھی _

عدالت نے کہا کہ اگر ایاز خان نیازی نیب عدالت سے ضمانت پر نہیں ہیں تو ان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے جبکہ کرپشن کیس کے دوسرے کردار محسن حبیب وڑائچ کو فورا گرفتار کیا جائے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ احتساب عدالت کراچی اور لاھور دو ماہ کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کریں _

اس سے قبل کیس کی سماعت چیف جسٹس اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی تو ایاز نیازی پیش ہوئے  _ پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ دوسرا ملزم محسن حبیب وڑائچ کہاں ہے ۔

محسن حبیب تاحال گرفتار نہیں ہو سکا ۔ نیب پراسیکیوٹر

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم راؤ انوار کو پیش کروا سکتے ہیں تو محسن حبیب کیا چیز ہے۔۔ محسن حبیب کا نام ای سی ایل میں ہے ۔ محسن حبیب کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، ایاز صاحب آج آپ کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں۔ دبئی میں آپ کیا کرتے ہیں وہاں آپ نے کسینو کھول لیا تھا ۔

ایاز نیازی نے کہا کہ میرا کوئی کسینو نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو مخدوم امین فہیم لائے تھے،جھوٹ بولا تو ضمانت خارج کر دوں گا، آپ کس طرح اپوائنٹ ہوئے تھے ۔ ایاز نیازی نے بتایا کہ مجھے امین فہیم نے بلوایا تھا، فروری 2009 میں پاکستان آیا تھا، وزارت کامرس کے کہنے پر اپنا سی وی بھیجا تھا، سابق سیکرٹری کامرس نے میرا انٹرویو کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی تنخواہ کتنی تھی ۔ ایاز نیازی نے کہا کہ میری تنخواہ  اس وقت کتنی تھی یاد نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ بھی یاد نہیں کہ اپ کی تنخواہ کتنی تھی؟ آپ کا انشورنس کمپنی کا کیا تجربہ ہے؟

ایاز نیازی نے کہا کہ بینک میں انشورنس کا کام بھی ہوتا ہے، این آئی سی ایل کے 16 ارب کے اثاثے تھے، اپنے دور میں جائیدادیں خریدیں، ایک ارب سے زائد کی زمین لاہور سے خریدی

بورڈ میں کون تھا جس نے آپ کو اجازت دی تھی، چیف جسٹس

ائیر پورٹ روڈ پر 20 کینال زمین لی تھی ایاز نیازی

20 کنال کا پلاٹ کرنا کیا تھا چیف جسٹس

این آئی سی ایل کا دفتر بنانے کے لیے زمین لی تھی، کورنگی کراچی میں 20 ایکڑ پلاٹ 90 کروڑ کا خریدا، ایک جائیداد دبئی میں بھی خریدی تھی ایاز نیازی

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا سی وی اور تعیناتی کا بھی جائزہ لیں گے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب کیس ایف آئی اے کے پاس تھا تب ضمانت ایف آ ئی اے عدالت سے کروائی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نا نیاز ایازی کو گرفتار کروا لیں ۔

عدالت نے این آئی سی ایل کیس میں معاونت کے لئے بابر اعوان کو روسٹرم پر بلایا جنہوں نے کہا کہ نیب قانون میں ضمانت کا تصور نہیں، اگر ہائی کورٹ سے ضمانت نہیں ہوئی تو گرفتاری ہو گی ۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں ایاز نیازی کے خلاف ریفرنس زیر التوا ہے، لاہوز کے ریفرنس میں 10 ملزمان ہیں، ایاز نیازی ضمانت پر نہیں ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے