عمران خان ہمارا لاڈلا کیسے؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بنی گالہ غیر قانونی تعمیرات از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ بار بار یہ تاثر کیوں دیا جا رہا کہ عدالت عمران خان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کر رہی ہے، چیف جسٹس نے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری سے کہا کہ وضاحت دیں ورنہ آپ کے خلاف کارروائی کروں گا، حکومت نے کہا کہ بہت بڑی تعداد میں تعمیر ہو چکی ہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کہ بتائیے  یہ تعمیرات ریگولر کرنے کا کس فیصلہ تھا _

طارق فضل نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم نے کیا _ پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ مریم اورنگزیب کو بلا لیں تھوڑی دیر میں وضاحت دیں، طارق فضل نے کہا کہ عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا _ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کہاں عمران خان کو لاڈلا بنا دیا، کہاں عمران خان کو رعایت دی _

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ مریم اورنگزیب وفاقی وزیر ہیں وہ ایسے بیانات کیسے دے سکتی ہیں، کھیلنے کے لیے یہ معاملہ اب تک کابینہ میں نہیں بھیجا گیا ۔ طارق فضل نے کہا کہ جو دستاویزات عمران خان نے جمع کرائیں ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایسا ہے تو تحقیقات کرا لیں ۔ طارق فضل نے کہا کہ کیس عدالت میں تھا اس لیے کچھ نہیں کیا _ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست جو چاہے فیصلہ کرے، جب تک منظور شدہ پالیسی غیر مناسب نہ ہوئی ہم مداخلت نہیں کریں گے ۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ بنی گالہ تعمیرات سے متعلق سمری بھیجی جا چکی ہے ۔

پاکستان 24 کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم میں لکھا کہ کورنگ نالہ پر غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کے لیے پہلے کہہ چکے ہیں، معاملے پر دو روز میں وفاقی محتسب کو درخواست دی جا سکتی ہے، وفاقی محتسب کورنگ نالہ پر متنازعہ جائیداد کا فیصلہ کرے گا، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی ہے ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے