جمہوریت کی رضیہ

مطیع اللہ جان

کیا فائدہ ایسے الیکشن کا جس میں مقابلہ سیاستدانوں کے بیچ نہ ہو۔ اس فٹبال میچ کو کون دیکھے جس میں ریفری اور سیکیورٹی اہلکار ایک ٹیم کے لیئے اپنے پائے مبارک سے گول کر رہے ہوں۔ یہ اس صدی کا بڑا جھوٹ ہوگا کہ انتخاب دو ھزار اَٹھارہ کا معرکہ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی میں ہے ۔ اصغر خان کیس میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے اعتراف اور انکے خلاف فیصلہ آنے کےبعد جمہہوریت کے ڈھولچی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے والے اندھوں کو کیا نظر نہیں آ رہا کہ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے وارث ان سے بھی دس ہاتھ آگے نکل چکے ہیں۔ اس الیکشن میں مقابلہ واضح طور پر ن لیگ اور اس خلائی مخلوق کے درمیان ہے جسے اب تو “عرف عام” میں بھی فوج ، عدلیہ اور نیب کہتے ہیں۔ جی ہاں اب عرف عام یہی ھے یعنی گلی محلے کے نکڑ پر بیٹھے عام لوگ جن کے ٹی وی چینلوں پر بیٹھے لاکھوں روپے تنخواہ لینے والوں جیسے مفادات نہیں ۔

یہ عام لوگ بھی آپکو بتائیں گے کہ مقابلہ شہباز شریف، عمران خان اور بلاول بھٹو کے بیچ نہیں بلکہ ان چار اہم کرداروں کے بیچ ہے جو آئینی طور پر الیکشن لڑنے کے لئےنااہل ہیں یعنی ایک طرف نواز شریف تو دوسری طرف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف جسٹس ثاقب نثار اور نیب چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال ہیں۔ یہ وہ بات ھے جسے کرتے ہوئے ووٹ دینے والا اتنا نہیں ڈرتا جتنا ووٹ مانگنے والا ڈرتا ھے اور پھر ووٹ کو عزت دینے کا وعدہ کرتے نہیں تھکتا۔ یہ عام لوگ کسی زمانے میں میڈیا کے تجزیہ کاروں کو پڑھ کر اور سن کر واہ واہ کرتے تھے مگر آج ان پر ہنستے ہیں اور سچ پوچھیں تو لعنت بھیجتے ہیں کہ اگر ان پڑھے لکھے لوگوں میں سچ بولنے، سننے اور لکھنے کی جرات و ہمت نہیں تو پھر ہم کوئی ڈگری نہ لے کر زیادہ گھاٹے میں نہیں رہے۔

افسوس تو اس بات کا ہےکہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے سابق وزیراعظم کے ساتھ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود وہ خود بھی جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کے ملزمان کو کبھی خلائی مخلوق اور کبھی کیا کہتے ہیں۔ ایک شخص جو عوام کے مینڈیٹ کا پہلے ڈٹ کر تحفظ نہیں کر سکا اور ملزمان کا نام بھی نہیں لے پا رہا تو آئندہ وہ ووٹ کو عزت کیسے دلوائے گا؟ اب جبکہ میاں نواز شریف نے الیکشن بھی نہیں لڑنا تو انہیں کھل کر بات کرنے میں کیا خوف ہے؟ جو راز انھوں نے سینے میں دبا رکھے ہیں کیا وہ فوج، عدلیہ اور نیب سے سودے بازی کے لئے ہیں؟ اگر ان کو دوبارہ حکومت مل گئی تو ان کی حکمران جماعت اور وہ کیا پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھیں گے؟ یہ بڑے بنیادی سوال ہیں اور اگر الیکشن سے پہلے ان کو خلائی مخلوق نظر آ رہی ہے اور وہ جانتے بوجھتے ہوئے اسکے خلاف الیکشن میں جا رہے ہیں تو پھر بعد میں کوئی گلہ کیسے ہو گا؟ الیکشن کا بائیکاٹ یقیناً کوئی اچھا سیاسی فیصلہ نہیں ہوتا مگر پھر اس دوران اشاروں کنایوں میں بات کر کے آپ ووٹ کو عزت نہیں دے رہے ہوتے بلکہ اسکی مزید بے عزتی کے لئے ملزمان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں رخصتی کے لیئے تیار حکومت کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لئے جو مہلت دی ہے اس سے بڑا مذاق بھی نہیں ہو سکتا۔ سپریم کورٹ نے پانچ سال اس کیس میں جنرل بیگ اور جنرل اسد درانی کی نظر ثانی درخواستوں کو اپنی بند الماریوں کی دھول چٹائی اور جب فائل جھاڑ پونچھ کر نکالی بھی تو اس وقت جب معاملہ اصغر خان کیس کے حالات و واقعات سے بھی زیادہ گھمبیر ہو چکا تھا۔ اصغر خان کیس میں جنرل اسلم بیگ نے تمغہ جمہوریت سینے پر سجائے جس طرح بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف سازش کی اور پھر کمال ڈھٹائی سے اس کا فاخرانہ انداز میں اعتراف کیا اسکو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا اور ان جرنیلوں اور پیسے لینے والوں کے خلاف کاروائی کا حکم بھی دیا تھا۔ مگر نومبر دو ہزار بارہ میں تفصیلی فیصلہ اور اسکے خلاف نظرثانی درخواستوں کے آنے کے باوجود حتمی فیصلے کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کیا گیاجب موجودہ حکومت کی حالت انیس سو نوے کی بے نظیر حکومت سے بھی زیادہ پتلی تھی۔ کہاں اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی کے اندر ایک سیاسی سیل کے قیام کا چرچا اور کہاں آج معاملات ایک سیل سے آگے بڑھ کر پورے ادارے بلکہ کور کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ہر انتخابی حلقے سے نامعلوم ٹیلی فون کالوں، نامعلوم ملاقاتوں اور سیاسی انجینئرنگ کی خبریں سرگوشیوں اور خلائی مخلوق جیسے "کوڈ ورڈز” کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ کہاں بے نظیر حکومت کے گرانے کے لئے چودہ کروڑ یونس حبیب جیسے کاروباری افراد سے اکٹھے کئے گئے تھے اور کہاں آج سیاسی انجینئرنگ کے لئے ایسے کاروباری افراد کی بھی ہمارے اداروں کو محتاجی نہیں۔ اپنے بنک اور کاروبار ہونے کا یہ فائدہ تو ہوتا ھے۔ جو کچھ انیس سو نوے کے انتخابات میں جنرل اسلم بیگ اور انکے آئی ایس آئی کے سربراہ نے کرنے کا اعتراف کیا تھا آج اس سے زیادہ اتنی سیاسی انجینئرنگ ہو رہی ہےکہ ایک نئ سیاسی انجینیئرنگ کور کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ھے، اگر ایسا پہلے سے ہو نہیں چکا تو۔

انیس سو نوے میں کم از کم سو موٹو اور احتساب کے نام پر حکمران جماعت کو ایسے نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا جیسا کہ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور نیب کے چیئرمین سیاسی مخالفین کی مانند بیانات ، ریمارکس، فیصلے اور پریس ریلیزوں کی صورت کر رہے ہیں۔ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی موقع پرستی سے کون واقف نہیں تھا مگر اس کے باوجود ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے موقعہ پرستو ں نے ان کی تعیناتی پر اتفاق کیا۔ نیب چیئرمین کی نواز شریف کے منی لانڈرنگ کے ذریعے رقوم بھارت بھیجنے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے سے متعلق تازہ ترین پریس ریلیز جسٹس (ریٹائرڈ)جاوید اقبال کی شرمناک حد تک نالائقی سے زیادہ قابل نفرت سازش اور تعصب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور اب یہ دونوں جماعتیں نگران وزیراعظم کی تقرری کرنے جا رہی ہیں۔ اربوں روپوں سے بنی نیب کی کثیر المنزلہ نئی عمارت میں بیٹھے نیب چیئرمین کی پریس ریلیز تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر بیٹھے کسی "ٹرال” کے اس گھٹیا پراپیگنڈے سے مختلف نہیں تھی جس کا مقصد الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے سیاسی مخالفین کے خلاف عوامی نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ کسی وکیل کے دفتر کے منشی کو بھی یہ لحاظ ہوتا ہے کہ کوئی ایسی تحریر جاری نہ ہو جو محض سنے سنائے الزامات پر مبنی ہو۔ قرآن و حدیث کے کثرت سے حوالے دینے والے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اس حدیث نبویﷺ سے بھی بخوبی واقف ہیں جس کے مطابق کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اسکو (بنا تصدیق) آگے بیان کر دے۔ مگر ایسی غلطی پر شرمندہ وہی باکردار لوگ ہوتے ہیں جن کی نیت صاف ہو اور جو آئندہ اس کو دہرانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔

نیب کا ابھی سے یہ حال ہے تو نجانے نگران حکومت میں اس نے کیا کیا گل کھلانے ہیں۔ جسٹس (ریٹائرڈ)جاوید اقبال کے خلاف حکمران جماعت کے قانونی کاروائی کے فیصلے کی ایک صورت ہو سکتی ہے اور وہ ہے حکومت سپریم جوڈیشل کونسل میں انکے خلاف ریفرنس بھیجے۔ مگر اس کونسل کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کرتے ہیں جو سینکڑوں منتظرینِ “سو موٹو انصاف” کو لائن میں کھڑا کر کے دو ہفتوں کے لئے روس کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ویسے بھی قائم مقام چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ ہونگے جن کے ہاتھوں پہلے ہی دو وزرائے اعظم فارغ ہو چکے ہیں۔ بطور قائم مقام چیف جسٹس ان کا سپریم جوڈیشل کونسل میں کردار آئینی سوالات بھی اٹھا سکتا ہے۔ دو ہفتے بعد چیف جسٹس کی واپسی تک نگران حکومت کی آمد آمد ہو گی اور نیب چیئرمین کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا معاملہ سرد خانے کی نظر ہونے کا زیادہ امکان ہو گا۔

نگران حکومت یا پھر بعد از انتخابات منتخب حکومت کس کی ہو گی، اس سے شاید اب زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ جس کی بھی ہو گی بہت مشکل میں ہو گی۔ ہسپتالوں اور پاگل خانوں کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ لوڈشیڈنگ ہونے پر حکومتی وزراء کے گھروں کی بجلی کاٹنے کے عدالتی احکامات پر عوام بھی جھوم رہی ہو گی۔ وفاقی اور صوبائی کابینوں کے اجلاس سپریم کورٹ میں ہوا کریں گے۔ جو لیڈر یا پارٹی لائن پر نہیں آئے گی اسکے خلاف ریمارکس، بیانات یا پریس ریلیز تیار ہو گی۔ یہ سب کچھ الیکشن سے پہلے آج بھی ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ مگر لالچ اور خوف نے ہم سب کی آنکھوں پر چربی چڑھا رکھی ہے۔ یہ وہ لالچ اور خوف ہے جس کے برخلاف ہم نے اپنی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی قسم اٹھا نے والے بھی بھرپور انداز میں انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ آئین کا دفاع کرنے اور عبوری آئینی حکم یعنی پی سی او پر عملدرآمد نہ کرنے کی قسم اٹھانے والی عدلیہ بھی ہر وہ کام کر رہی ہے جو کرنے کی پی سی او ججوں کو بھی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ملک میں احتساب کرنے والا نیب کا چیئرمین وہی کام کر رہا ہے جو پہلے نواز شریف کے دور میں سیف الرحمٰن نے کیا یا جنرل مشرف کے دور میں نیب کے جرنیلوں نے کیا یعنی سیاسی جماعتوں کے مرغی خانے میں احتساب کی بلیاں چھوڑنے کا کام۔ مساوات کا تاثر دینے کے لئے فوجی آمر، کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں اور ان کےحمایتی سیاستدانوں کو بھی نوٹس جاری کئے گئے۔

یہ سب کچھ ہونے اور کرنے کے باوجود گلہ ھےکہ نواز شریف نے ممبئ حملوں سے متعلق بیان کیوں دیا۔ آپ الیکشن سے چند ماہ پہلے تین بار منتخب وزیر اعظم کو بھارت کا یار اور غدار بنا کر پیش کریں گے تو کیا وہ جواب میں پھول برسائے گا۔ ویسے وہ بیان ابھی بھی واضح نہیں جسے چند “نادان دوست” سیاسی دشمنی میں واضح بنانا چاہ رہے ہیں۔ اور پھر اس واقع پر دنیا میں اتنا ابہام نہیں جتنے ابہام میں پاکستان کے لوگوں کو رکھا گیا ھے۔بہرحال یہ سب سیاست ہو رہی ھے اس میں ملکی مفاد کا کوئ ایشو نہیں۔ یہ نہں ہو سکتا کہ آپ سیاست کریں ، پالیسیاں بناہئں اور کاروبار بھی رج کے کریں اور تنقید پر قومی مفاد و سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔

دوسری طرف سو موٹو منصف نے ہسپتالوں اور پاگل خانوں کے دوروں میں جو کچھ کیا دلیپ کمار دوبارہ پیدا ہو کر بھی وہ کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اصل اصل ہوتا ہے بھائی۔ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج جسٹس قاضی فائض عیسی نے اپنے ایک اختلافی نوٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سوو موٹو نوٹس لینے اور تحریری فیصلوں کی بجائے زبانی یا کسی اَیئنی یا قانون شق کے حوالے بغیر احکامات کی اَئینی حیثیت کا پردہ چاک کر دیا ھے۔ جسٹس عیسی نے سچ کی جو صلیب اٹھائ ھے اب دیکھیں وہ کہاں تک چل پاتے ہیں۔ مگر ان کی دلیل میں وزن ھے۔ وہ اختلافی نوٹ میں کہتے ہیں کہ سوو موٹو مقدمات کی سماعت پر باقاعدہ سماعت و کاروائ اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک سپریم کورٹ کا بنچ یہ تحریری فیصلہ نہ کر لے کہ معاملہ مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کے نفاذ کا ھے۔ جسٹس عیسی کے مطابق سپریم کورٹ کے کسی انسانی حقوق سیل کے کسی ڈائریکٹر کے نوٹ یا اس نوٹ کی چیف جسٹس سے منظوری کی بنیاد پر مقدمات پر سماعت اور فیصلے نہیں ہو سکتے۔ ایسے معاملات کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ سپریم کورٹ کا بنچ ہی کر سکتا ھے نہ کہ کوئ بیوروکریٹ یا محض چیف جسٹس۔ جسٹس عیسی نے ایک اور انکشاف کیا کہ ان کے اختلاف کے بعد چیف جسٹس نے اچانک نیا بنچ بنانے کا اعلان کر دیا اور اپنی کرسی سے اچانک اٹھ کھڑے ہوئے۔ ساتھی جج کے ساتھ ایسے رویے کی ججوں کے ضابطہ اخلاق میں واضح ممانعت ھے۔

اب اس تمام صورتحال میں اگر ایک الیکشن اور بھی ہو جائے تو کیا ووٹ کی عزت بحال ہو جائے گی؟ جو کچھ آئینی، قانونی اور ماتحت ادارے اس وقت کر رہے ہیں کیا یہ سب انتخابی اور جمہوری عمل ہے یا کسی ادارے میں بھرتی کا عمل؟ جس طریقے سے حکمران جماعت کو نشانے پر رکھ کر کاروائیاں ہو رہی ہیں اور عوام کے سامنے نواز شریف کو کرپٹ اور بدعنوان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اس سے واضح ہے کہ ایسی صورتحال میں کوئی بھی الیکشن صاف اور شفاف نہیں ہو گا۔ یہ پورا انتخابی عمل مختلف اداروں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ منظم دھاندلی کے چرچے بہت تھے مگر اب دیکھنے کو مل رہے ھے۔ ہمارے آیئنی ادارے ماتحت اداروں کے نرغے میں ہیں۔ سیاستدان اپنی دائمی کمزوریوں اور بدعنوانیوں کے باعث خاموش ہیں۔ مگر کیا ان سیاستدانوں کی کمزوریوں اور بدعنوانیوں کی سزا آئین کے برخلاف سرگرمیوں اور کاروائیوں کی صورت عوام پاکستان کو ملنی چاہیے؟ فوج، عدلیہ، نیب، میڈیا اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کرپشن ہر ادارے میں ہے اور اس کے نام پر آئین اور عوامی مینڈیٹ سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ غنڈہ گردی ہے جس کا نشانہ کرپٹ افراد نہیں، جمہوریت کی وہ رضیہ ہے جس کا کوئی بھائی بھی نہیں۔

متعلقہ مضامین