پشتون پرندہ

اعجاز منگی
ابھی اس نوجوان کی عمر ہی کیا ہے؟ وہ نوجوان جو بلاول بھٹو زرداری سے بھی چھوٹا ہے۔ مگر اس کی ایک صدا پر پشاور جیسے مغرور اور مصروف شہر میں لاکھوں لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔اس کے پیچھے نہ دولت ہے اور نہ سیاست کی خاندانی میراث۔ وہ لمبے قد والا دبلا پتلا لڑکا جس کے سر پر پشتون ٹوپی اور شانوں پر قبائلی شال ہے ۔ وہ لڑکا سیاسی اور سرکاری حلقوں کے لیے بہت بڑا سوال بن گیا ہے۔ وہ کون ہے ؟ کیا چاہتا ہے؟وہ محسود لڑکا جو جنوبی وزیرستان کی بارود سے بھری ہوئی فضاؤں سے ایک زخمی پرندے کی طرح اڑتا ہوا آیا ہے۔ وہ اس ہسپانوی گیت کی طرح ہے جس میں ایک خون بہاتا ہوا پنچھی گھنے جنگلوں سے کہتا ہے کہ ’’کیا تم مجھے پناہ دوگے؟‘‘ مگر یہ پشتون پرندہ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی قوم کے لیے امن اور آزادی چاہتا ہے!!
وہ پشتون پرندہ جو اپنے پروں جیسے پتلے اور لمبے ہاتھ لہرا کر پوری دنیا کو بتاتا ہے کہ وہ وہاں سے آیا ہے جہاں زندگی بہت دکھی ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں آزاد قبائل کو زنگ آلود زنجیروں جیسے قوانین میں قید کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں ہر دوسرے گھر کا ایک فرد جوانی میں قتل ہوا۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں ماؤں کی نیند میں بھی ایک آنکھ بند اور ایک آنکھ اس بیٹے کے انتظار میں کھلی رہتی ہے جو پانچ برس قبل گھر کے سامنے اٹھایا گیا اور اب تک واپس نہیں آیا۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں پردے والی عورتوں اور پگڑی والی مردوں کو چیک پوسٹوں پر بے عزت کیا جاتا ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں گھروں میں تلاشی کے دوراں پشتون روایات کو پائمال کیا جاتا ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں میدانوں میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ جہاں خواب جیسے بچے کھیلتے ہوئے ہمیشہ کے لیے معذور ہوجاتے ہیں۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں مرد درد کا اظہار نہیں کرتے اور عورتیں میڈیا کے سامنے ماتم نہیں کرتیں۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں سے نقیب اللہ محسود آیا تھا۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں ہزاروں قبروں کے درمیاں ایک قبر میں نقیب اللہ بھی سو رہا ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں امن اور انصاف کا راستہ تکتے آنکھوں کی بینائی اندھیروں میں بھٹکنے لگی ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں بچوں؛ بوڑھوں اور بیواہوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں جوانی جرم ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں اب لوگوں نے لطیفوں پر ہنسنا چھوڑ دیا ہے۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں لوک گیتوں والے ٹپے ہونٹوں سے ’’ٹپ ٹپ ‘‘ آنسوؤں کی طرح گرتے ہیں۔
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں پاکستان کی تاریخ کا متحرک ترین منصف بھی نہیں جاتا۔
اس لیے وہ پشتون پرندہ خود وہاں سے اڑ کے آیا ہے۔ کراچی سے لیکر کوئٹہ اور اسلام آباد سے لیکر لاہور تک اس ملک کے لوگوں کو یہ بتانے کے لیے وہ وہاں سے آیا ہے جہاں لوگوں کے غموں کی کہانیاں پاک افغان بارڈر کی طرح طویل ہیں۔ راتیں ختم ہوجاتی ہیں مگر وہ باتیں ختم نہیں ہوپاتیں جن باتوں میں صرف جدائیوں کے موڑ ہیں۔ کوئی کب گیا؟ کسی کو آخری بار کب دیکھا گیا؟ کسی کا آخری فون کب آیا؟ کسی کو گئے ہوئے کتنے برس ہوگئے؟
وہ وہاں سے آیا ہے جہاں جدائی کی موسم میں یتیم بچے جلد جوان ہوجاتے ہیں!!
اور زخم پر نمک جیسی حقیقت یہ ہے کہ اس پرندے جیسے نوجوان کو اپنے فریاد بیان کرنے کی آزادی نہیں دی جارہی۔
وہ پرندہ جس نے تنہا اڑان بھری تھی؛ آج اس کے ساتھ اس جیسے پرندوں کا بہت بڑا غول ہے۔ وہ آج تنہا مسافر نہیں۔ وہ آج ایک قافلہ بن چکا ہے۔ مگر اس کے قافلے کے مسافروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان پر پولیس کے مخصوص اسٹائل میں چھاپے مارے جاتے ہیں۔ ان کو پولیس کے مخصوص اسٹائل میں اٹھا کر موبائلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ ان سے موبائل فون چھینے جاتے ہیں۔ ان کا ڈیٹا کاپی کیا جاتا ہے۔ انہیں ہر طرح سے حراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیا ہے ان لوگوں کا قصور جن کوشہروں کے سرکاری بابو جلسوں کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ اپنے اجتماعی زخم دکھانے کے لیے جس جگہ کا اعلان کرتے ہیں؛ اس میدان کو گندے پانی سے بھر دیا جاتا ہے۔
اور جب وہ کراچی کا رخ کرتا ہے تب اس کو سفر کرنے کے حق سے محروم کیا جاتا ہے
یہ سب کچھ امن امان کے نام پر کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ وہ لوگ اب تک پاکستان کے پرامن ترین لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے کسی آفس اور کسی گاڑی کا شیشہ نہیں توڑا۔ ان لوگوں نے کسی پلاٹ پر قبضہ نہیں کیا۔ ان لوگوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے شہری زندگی میں دشواری پیدا ہو۔ انہوں نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے کسی کو نہیں دکھایا۔ وہ لوگ جو بہت دور سے آئے ہیں۔ یہ لوگ جو پورے ملک میں اپنے ہم زباں اور ہمدرد تلاش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جو مصیبت میں آئے ہوئے پشتونوں کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔ یہ لوگ ان پٹھانوں کی وکالت کرنے نہیںآئے ہیں جو سرمائیدار ہیں۔ یہ لوگ وزیروں اور مشیروں اور ان پٹھانوں کے لیے حمایت کرنے کے لیے نہیں آئے جن کے پاس سرخ پاسپورٹ یا گرین کارڈ ہے۔ یہ لوگ ان زخمی پٹھانوں کی حالت بیان کرنے آئے ہیں؛ جن کو انگریزی تو کیا اردو میں بھی بات کرنا نہیں آتی۔ وہ صرف پشتو بولتے اور پشتو سمجھتے ہیں۔ وہ پشتو میں پوچھتے ہیں کہ ’’ یہ کیسی آزادی ہے؟
لوگ اب تک پوچھ رہے ہیں کہ منظور پشتین کون ہے؟ وہ منظور پشتین جو ایک غریب استاد کا بیٹا ہے۔ وہ منظور پشتین جس کے خون میں شروع سے لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ ہے۔ وہ منظور پشتین جس کے پاس بم پروف پراڈو نہیں ہے۔ وہ منظور پشتین جس کے گرد باڈی گارڈز کا لشکر نہیں ہے۔ وہ منظور پشتین جس نے ایک سماجی تنظیم بناکر سفر کی شروعات کی تھی۔ وہ منظور پشتین آج ایک تحریک میں تبدیل ہو رہا ہے۔
منظور پشتین میدان عمل میں ثابت کر رہا ہے کہ لیڈرز کو میڈیا کی لیبارٹریز میں ایجاد نہیں کیا جاتا۔ جس طرح جنگلی ہرن پہاڑوں پر کودتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح آبشاروں کا امڈتا ہوا پانی گھن گرج کرتے دریاؤں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جس طرح رات کا آخری ڈوبتا ہوا ستارہ صبح کا سورج بن کر ابھر آتا ہے۔ جس طرح اپنے باپ کے پنجوں سے چھوٹ کر شاہین ہواؤں میں پر پھیلا کر بڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح لیڈر بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح جس طرح سمندروں میں پہلے تحرک اور پھر طوفان پیدا ہوتا ہے۔ منظور پشتین کسی حسرت کا نام نہیں۔ وہ اپنے اندر کی خاموش گہرائیوں میں بھی کسی خواہش کے ساتھ ’’کاش‘‘ لفظ نہیں جوڑتا۔ پاکستان کا ایک نوجوان آکسفورڈ سے ڈگری لینے اور برسوں سے بہترین سیاسی ٹیم ہونے کے باوجود آج تک لیڈر شپ کے ’’لام‘‘ تک نہیں پہنچ پایا اور پاکستان کا ایک نوجوان پیدل چل کر اس دور میں بھی ایک افسانوی کردار میں ڈھل رہا ہے۔
ہم کسی بھی شخص سے اصولی اختلاف رکھ سکتے ہیں۔ اختلاف تو وہ چابی سے جس سے علم کا تالا کھلتا ہے۔ ہم کسی بھی خیال اور کسی بھی بات سے اختلاف رکھنے کا حق رکھتے ہیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ برسوں کے بعد پشتون معاشرے میں منظور پشتین ایک امید کی طرح ابھر رہا ہے۔پشتون معاشرہ بہت آسان اور بیحد مشکل معاشرہ ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے مگر سچ یہ ہے کہ پٹھانوں کی دنیا ہمیشہ ایک نیک اور سچے انسان کے لیے اپنے دل کا ڈیرہ کھلا رکھتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پٹھانوں کو مولوی فضل الرحمان سے لیکر برگرعمران خان تک کوئی بھی سچا رہنما نہیں ملا۔ آج اگر پشتون معاشرہ منظور پشتین کے ساتھ امیدیں وابستہ کرر ہا ہے تو یہ اس طرح ہے جس طرح ایک ماں اپنے چھوٹے بچے کو گود میں لوری دیتے ہوئے بہت بڑا خواب دیکھتی ہے۔
یہ امتحان پشتون معاشرے کا نہیں ہے۔ یہ امتحان اس نوجوان کا ہے جو کوئی ڈھنگ کی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے بغیر کسی تیاری کے بہت جلدی میں بہت بڑا لیڈر بن رہا ہے۔ پشتون معاشرہ منظور پشتین کو اپنے انداز سے سمجھانے کی کوشش رہا ہے۔ پشتون معاشرہ منظور پشتین کو اس طرح سمجھا رہا ہے جس طرح علامہ اقبال نے لکھا تھا کہ:
’’انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات‘‘
کاش! منظور پشتین کے دل میں یہ بات اتر جائے کہ پشتون معاشرہ نعروں اور سیاسی نغموں سے تنگ آ چکا ہے۔ وہ اب کسی روایتی سیاسی پارٹی کے حق میں ہاتھ بلند کرنا نہیں چاہتا۔ پشتون معاشرے نے مذہبی جماعتوں کے صورت میں مولیوں اور عوامی نیشل پارٹی کی صورت میں لبرل قومپرستوں اور عمران خان کی شکل میں مغربی جمہوری رویوں کو آزمایا ہے۔ پشتون معاشرہ اس بچے کی طرح ہے جو بندر کا کھیل دیکھتے ہوئے گھر سے بہت دور نکل آتا ہے۔ جب شام کا سورج غروب ہونے لگتا ہے تب اس بچے کو گھر کی یاد شدت سے آنے لگتی ہے۔ پشتون معاشرہ اس بچے کی طرح واپس اپنے اس گھر کی طرف لوٹنا چاہتا ہے ؛ جو گھر سیمنٹ اور سریے سے نہیں بلکہ روایات سے بنا تھا۔
پشتون معاشرہ منظور پشتین کے ساتھ اپنی تاریخی روایات کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ منظور پشتین کو اس روح افغان کی کی انگلی کو پکڑ کر چلنا ہوگا جو کبھی اپنے دیس اور دھرتی سے غداری نہیں کرتی۔ منظور پشتین کی چمکتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر بہت ساری منفی قوتیں اس کواپنے مفادات میں استعمال استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔ منظور پشتین کو ان سارے جالوں سے بچنا ہوگا۔ سیاست ایک گندہ دھندہ ہے۔ سیاست کی راہ پر ہر قدم ایک پھندہ ہے۔ منظور پشتون کو بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ کیوں کہ اس کی صورت میں ایک مظلوم معاشرے کو مثبت تبدیلی کی امید حاصل ہو رہی ہے۔ منظور پشتین کی کامیابی ایک فرد کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ زخموں سے چور پشتون معاشرے کی کامیابی ہوگی۔ منظور پشتین کا سفر آسان نہیں بہت کٹھن ہے۔منظور پشتین کو حقیقی آزادی کی حاصلات تک چلنا ہوگا۔منظور پشتین کو اس سوال کے ساتھ منزل تک پہنچا ہوگا کہ ’’یہ کون سی آزادی ہے؟‘‘ وہ آزادی جو سیفٹی پن نکلنے کے بعد ایک گرینیڈ میں گردش کرنے لگتی ہے۔ وہ آزادی جو چیمبر میں چوٹ پڑنے کے بعد فائر ہوتی ہوئی گولی میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ آزادی جو لالچ اور آدرش کے درمیاں کشمکش محسوس کرتی ہے۔ مگر اس سے دور بہت دور ایک آزادی اور بھی ہے۔ وہ آزادی جو وزیرستان کی ہواؤں اور وزیر ستان کی فضاؤں میں ہے۔وہ آزادی جو شاہین کی پروں میں پلتی ہے۔ وہ آزادی جو پہاڑ کی چوٹی پر لگی آگ میں جلتی ہے۔

یہ کالم اعجاز منگی کے فیس بک سے لیا گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین