پلاسٹک کے انسان

محمد ذیشان

اینڈو کرائن ڈسٹرپنگ وہ خطرناک کیمیکلز ہیں۔جو انسانی جسم کے ہارمونز کو تباہ کر کے کینسر،شوگر اور خود فکری یعنی دماغی خلل جیسے مہلک امراض کا باعث بنتے ہیں۔یہ پلاسٹک سے بنی بوتلوں اور دیگر اشیاء میں پائے جاتے ہیں ۔
ان کا استعمال انسانی جسم کی نشونما روک دیتاہے۔ جبکہ سمندری جانداروں میں ہر سال ایک لاکھ سے زائدڈولفن،وہیل،پینگو ئن اور کچھوے پلاسٹک بیگ کی وجہ سے اپنی زندگی گنوا دیتے ہیں۔
پلا سٹک پالی تھیلین نائلان وغیرہ کا ایک مصنوعی،نرم، لچکداریا سخت مرکب ہے ۔ بسفینول اے(BPA) اسی پلاسٹک میں استعمال ہونے والاایک کیمیائی مادہ ہے۔ جو انسانی جسم میں سر درد،بدحواسی،بے ہوشی،آنکھوں کی جلن،نظر کا کمزور ہونا،سانس کی بیماریاں،جگرکی خرابی،گلے کی خراش،جلدی امراض،عورتوں میں بانجھ پن،کینسر،ہارمونی تبدیلیاں اوربچے کی پیدائش میں مشکلات کا باعث بنتا ہے۔کینیڈین براڈکاسٹنگ کا رپوریشن نیوز کے مطابق اکتوبر 2008 میں کینیڈا میں پلاسٹک کی ان بوتلوں کے استعمال کو ترک کیا گیا جن میں بی پی اے شامل تھا۔
پنساری کے ساما ن،کھانے پینے کے برتن، بچوں کے کھلونوں،فیس واش، شیمپو، مشروبات کی بوتلوں، ردی رکھنے کے لیے اور بہت سی کئی دوسری گھریلو استعمال کی اشیاء پلاسٹک کی بنی ہوتی ہیں ۔ ان اشیاء کے استعمال سے بی پی اے ہمارے جسم میں 90فیصد تک موجود ہے۔ جس حد سے پلاسٹک کے استعمال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی شرح سے پلاسٹک کا تعفن بھی بڑھتا جارہا ہے عالمی ماحولیاتی حفاظتی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 1960ء میں پلاسٹک کا تعفن 1فیصد سے بھی کم تھا لیکن 2012ء میں اس کی شرح 12فیصد بھی زیادہ ہو گئی۔
پلاسٹک سے بنی پانی کی بوتلوں کے صارفین میں امریکہ کے باشندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔جو کہ سالانہ ایک کھرب ڈالر پانی کی بوتلوں پر خرچ کرتے ہیں۔ان بوتلوں کا 70سے 80فیصد زمینی آلودگی اور انسانی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔نیو یارک یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اس آلودگی کی وجہ سے شعبہ صحت کو 340کھرب ڈالرکا سالانہ خرچ دینا پڑتا ہے۔
رچرڈتھامسن نے 2004 میں یونیورسٹی آف پالی متھ یو،کے پلاسٹک کے اجزاء کی ریسرچ کی۔جس کے بعد تھامسن نے سمندر کی سطح پر 300000/km2جبکہ زیر سمندر 100000/km2پلاسٹک اجزاء کی پیش گوئی کی۔سمندر میں پلاسٹک کی وافر مقدار کی وجہ سے پلاسٹک کی بوسیدگی کا عمل کا بھی کا فی سست ہو گیا ہے۔ سمندری حفظان صحت کی پیش گوئی کے مطابق پلاسٹک فوم کپ کو تحلیل ہونے میں پچاس سال،ڈسپوزیبل ڈائیپر کو چارسو پچاس سال جبکہ ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے اوزار کو تحلیل ہونے میں چھ سو سال درکار ہیں۔
پلاسٹک پر پابندی لگانے پر پلاسٹک بنانے والی صنعتیں ” ہزاروں لوگ کے گھر کا چولھا جلنے کے جواز” کے ساتھ اس کی مخا لفت کرتی ہیں۔لیکن یہ جواز پیش کرتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حقیقت میں انکے گھروں کا چولھا لوگوں کو زہر کھلاکر جلتاہے۔ جو نہ صرف انسانی زندگی کے لئے جا ن لیوا ہے بلکہ کرۂ ارض پر پائی جانی والی تما م مخلوق کو نیست ونابود کر سکتی ہے۔
دنیا کے پچیس فیصد حصے پر پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔پاکستان میں صوبہ بلوچستان میں ہر طرح کے پلاسٹک پر پابندی لگائی مگر پلاسٹک صارفین اور پلاسٹک بنانے والوں کی وجہ سے عمل نہ ہو سکا۔صوبہ خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک نے پلاسٹک پر پابندی عائد کی مگر اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آیا۔ کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں بجلی کے انسان ہواکرتے تھے۔ ان کے کارنامے اور صلاحیتیو ں کے قصے آج تک بہت شوق سے سنے اور سنائے جاتے ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی زیادہ عرصہ تک زندہ نہ رہ سکا۔ جو اپنی صلاحیتیں دنیا کو دکھا پاتے۔ سائنسدانوں نے ان صلاحیتوں کی وجہ جاننے کی جان توڑ کو شش کی۔مگر آج تک کوئی بھی ان صلاحیتوں کی وجہ نہ جان سکا۔
مگر اب انکا دور گزر چکاہے۔ یا شاید ہی کوئی شخص موجود ہو جس میں بجلی پائی جاتی ہو۔غرض جو بھی ہو۔ ان کا ہونا نہ ہونا کو ئی فکر کی بات نہیں۔غور طلب بات پلاسٹک کے تعفن سے نجات حاصل کرنا ہے۔ اگرپرانے اخبارات اور کاغذات ایسے اداروں کو دیئے جائیں جوان سے کاغذ کے بیگ تیار کرتے ہیں تو پلاسٹک سے بنے بیگز کو ترک کر دیا جا ئے گا۔اس کے علاوہ خردہ فروش افراد کو پلاسٹک کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیئے تب ہی ممکن ہے کہ اس زہر سے جلد ہی نجات مل جائے۔ورنہ دوسراپہلو بہت سیاہ ہے جس میں عنقریب پلاسٹک کے انسانوں کے واقعات اور قصے سنائے جانے لگیں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے