خواجہ آصف نااہلی فیصلہ محفوظ

نااہلی کے فیصلے کے خلاف خواجہ آصف کی اپیل پر سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کر لی ہے _ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کے اختتام پر کہا ہے کہ اگر ذہن بن گیا تو گیارہ بجے فیصلہ سنا دیا جائے گا، بصورت دیگر محفوظ کر کے بعد میں تفصیلی فیصلہ دیں گے  _

اس سے قبل عثمان ڈار کے وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف کی مدت بطور کابیینہ ممبر کا ریکارڈ جمع کروایا ہے، خواجہ آصف کا حلف بطور وزیر دیکھ لیا جائے، حلف میں اٹھایا کہ وہ ذاتی مفاد کو خاطر میں نہ لائیں گے، وہ وزیر ہوتے ہوئے بیرون ملک ملازم بھی رہے _

عثمان ڈار کے وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر تھے اور باہر ایڈوائزر کی نوکری کرتے رہے _ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ اگر کوئی وزیر پاکستان میں لیگل ایڈوائز ہو تو کیا یہ بھی مفاد کا ٹکراؤ ہوگا، ٹرمپ کی مثال دیکھ لیں، اس کی بیٹی اور داماد بزنس کرتے ہیں، ٹرمپ صدارت اور کاروبار دونوں کر رہے ہیں، وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر خارجہ ہوتے ہوئے کیسے کسی غیر ملکی کمپنی کے ملازم رہ سکتے ہیں؟ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ خواجہ آصف نے 2012 میں کاروبار سے متعلق بتایا ہے، وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف 2012 کے علاوہ دوہزار تیرہ چودہ اور پندرہ تک کام کرتے رہے، خواجہ آصف غیر ملکی کمپنی سے تنخواہیں وصول کرتے رہے،

عثمان ڈار کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد خواجہ آصف کے وکیل مینر اے ملک نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا کہ کاغذات نامزدگی مجھے کہاں کہتا ہے کہ میں اپنی تنخواہ الگ سے باہر کروں؟ سیکشن 42 اے کی خلاف ورزی کہاں ہوئی ہے؟ خواجہ آصف نے تنخواہ خرچ بھی کی ہے، جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ تسلیم کرتے ہیں آپ کے 2013 کے معاہدے کے مطابق آپ 9000 درہم تنخواہ لے رہے تھے؟

سالانہ ڈکلیئریشن اور کاغذات نامزدگی کا ڈکلیئریشن مختلف ہے، منیر اے ملک
سماعت مکمل، کسی نتیجے پر پہنچے تو گیارہ بجے سنا دیں گے

متعلقہ مضامین