نوازشریف اور جاوید ہاشمی عدالت میں

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جاوید ہاشمی پہنچے اور کہا کہ نوازشریف سے اظہارِ یکجہتی کے لئے آیا ہوں ۔

ایک رپورٹر نے پوچھا کہ کیا الیکشن ملتوی ہو رہے ہیں، نواز شریف نے جواب دیا کہ کچھ لوگ ابھی بھی الیکشن ملتوی کرانے پر تلے ہوئے ہیں، ہر الیکشن میں اس طرح کے لوگ جاتے ہیں، نواز شریف نے کہا کہ یہ بڑا الیکشن بڑا الیکشن ہے، دیکھیں صندوق بھی آ گئے ہیں، نواز شریف نے واجد ضیاء کے ریکارڈ والے صندوق پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا _

ایک رپورٹر نے کہا کہ آج بہت خوش لگ رہے ہیں، نواز شریف نے جواب دیا کہ اللہ کا شکر ہے، زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، Ups and down آتے رہتے ہیں، زندگی اتار چڑھاؤ کا ہی نام ہے، نواز شریف نے کہا کہ انسان کو ہر حال میں خوش رہنا چاہیے، جس کا تکیہ اللہ پر ہو اسے اللہ خوش رکھتا ہے ۔

سوال کیا گیا کہ کیا الیکشن اگر ملتوی ہوئے تو سڑکوں پر ہوں گے؟ نواز شریف نے کہا کہ اس کا جاوید ہاشمی صاحب جواب دیں ۔ جاوید ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ملتوی کرانے والے جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں، پانچ سال پورے کیے بہت بڑی بات ہے، ہر روز حکومت ختم ہونے کی پیشن گوئیاں کی جا رہی تھیں، لیکن جمہوریت پسندوں نے میاں صاحب کے ساتھ مل کر جنگ لڑی، میں نواز شریف کو آج مبارک دینے آیا ہوں، میاں صاحب ووٹ کو عزت دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، اگر مستقبل میں کسی نے ووٹ کو عزت نہ دی تو مطلب وہ جمہوریت کے خلاف ہو گا ۔

نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ اس بار ن لیگ کو الیکشن کے لیے امیدواروں کی درخواستیں موصول نہیں ہو رہیں؟ ۔ نواز شریف نے جواب دیا کہ یہ کیا سوال کر رہے ہیں ۔ نواز شریف سے پوچھا گیا کہ چوہدری نثار اب شہباز شریف کے بیان پر بھی ردعمل دے رہے ہیں کیا کہیں گے؟ نواز شریف خاموش ہو گئے اور کہا کہ لگتا ہے جج صاحب آنے لگے ہیں اب آپ لوگ ان کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے