سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن پاکستان نے کاغذات نامزدگی اور نئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دینے کے لاہور اور بلوچستان ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عدالت عالیہ کے فیصلوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس کے بعد میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری اختر نذیر نے کہا کہ عام انتخابات کا انعقاد 25 جولائی کو ہی ہوگا، الیکشن کمیشن نے لاہور اور بلوچستان کورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کافیصلہ کیا ہے اور ریٹرننگ افسران کو 3 اور 4 جون تک کاغذات نامزدگی وصول نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔

ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے افسران کی تقرریوں اور تعیناتیوں پر تمام صوبائی حکومتوں سے وضاحت بھی طلب کر لی ہے، الیکشن اپنی مقرری تاریخ 25 جولائی کو ہی ہوں گے، الیکشن کمیشن پولنگ تاریخ کے علاوہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی کا اختیار رکھتا ہے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی فارم کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں ۔  جب کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ  کی نئی حلقہ بندیوں کو  کالعدم قرار دیتے ہوئے  الیکشن کمیشن کو فوری طور پر نئی حلقہ بندیاں کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے جلد ازجلد یہ کام مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی ۔

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے