الیکشن کمیشن سے ضابطہ اخلاق پر جواب طلب

انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے انتخابی ضابطہ اخلاق پر جواب طلب کر لیا ہے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق پر آج ہی جواب داخل کرے _

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نئے اور پرانے ضابطہ اخلاق کا جائزہ لیں گے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کر دی ہے، وکیل کا کہنا تھا کہ پہلا ضابطہ اخلاق سپریم کورٹ کے حکم پر سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے الیکشن کمیشن نے بنایا _
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے ہیں، الیکشن کو کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیں گے، الیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ہے، کاغذات نامزدگی کے معاملے پر الیکشن میں تاخیرکا خدشہ تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں تاخیر کو بھول جائیں _
الیکشن کمیشن خود کو بے بس سمجھتا ہے، وکیل درخواستگزار
الیکشن موخر ہوں گے یہ ذہن سے نکال دیں، چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق درخواست ورکرز پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی ہے
الیکشن کمیشن کے ڈی جی نے بتایا ہے کہ پہلے 2012 کے عدالتی فیصلے کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق بنایا گیا، الیکشن ایکٹ 2017 کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا ضابطہ اخلاق ترتیب دیا ہے _

سپریم کورٹ میں کاغذات نامزدگی 2013 کی بحالی کیلئے دائر درخواست میں ایک شخص نے کہا کہ میرا نام ڈاکٹر زبیر ہے، میں ووٹرز کی نمائندگی کیلئے یہاں آیا ہوں _ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم کاغذات نامزدگی کی پچھلی شقیں بحال کر دیں، ہم نے پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا ہے، پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں آپ کا تعلق پی ٹی آئی سے تو نہیں، درخواست گزار نے کہا کہ میں بطور ووٹر یہاں آیا ہوں،

پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون بنانے کا حق رکھتی ہے، ووٹر کا حق کیسے متاثر ہوتا ہے قانون سے ثابت کرنا ہوگا،

سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کی پرانی شقیں بحال کرنے سے متعلق کیس بدھ کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا،عدالت نے کیس سننے کیلئے لارجر بنچ تشکیل دینے کا عندیہ دیدیا،

ہو سکتا ہے ہم اس کیس کی سماعت کیلیے لارجر بنچ تشکیل دیں،چیف جسٹس
الیکشن کمیشن خود کو با اختیار سمجھتا تو کاغزات نامزدگی کا تنازعہ ہی کھڑا نہ ہوتا ،وکیل

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اب کیا کیا جا سکتا نئے کاغزات نامزدگی کی وجہ سے بہت سے امیدوار اپنے اثاثوں اکاؤنٹس کی معلومات اکٹھی ہی نہیں کر سکے، اب اگر پرانے کاغزات نامزدگی بحال کیے جاتی ہیں تو امیدواروں کو بہانہ مل جائے گا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہوں _

سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں انتخابات کا ضابطہ اخلاق تیار کر لیا گیاہے، حکام الیکشن کمیشن

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو شفاف اور غیر جانب دار الیکشن کا حکم دیا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی، سیاسی جماعتوں کی باہمی رضا مندی سے ضابطہ اخلاق تیار کیا ، الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد دوبارہ ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی، 2018 کے لئے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا، الیکشن کمشن حکام

یہ درست نہیں ضابطہ اخلاق 2017میں ہی جاری ہوا، وکیل ورکر پارٹی

ورکر پارٹی کے کیس میں کہا گیا کہ ورکر پارٹی کیس فیصلے میں الیکشن کمیشن نے لامحدود اختیارات دیے، لیکن افسوس الیکشن کمیشن خود کو بے بس سمجھتا رہا، کاغذات نامزدگی کا معاملہ عدالت کے سامنے ہیں ، وکیل

ووٹرز کا یہ حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اثاثوں سمیت تمام چیزیں ظاہر کریں، درخواست گزار ووٹرز

پارلیمنٹ با اختیار ہے اس نے قانون سازی کر دی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں ، چیف جسٹس

درخواست گزار نے کہا کہ تمام امیدواروں کو اپنے تمام اثاثے ظاہر کرنے چاہئیں یہ ووٹر کا حق ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی ہو چکی ہے، عوامی ووٹوں سے منتخب نمائندوں نے ہی قانون سازی کی ہم کیا کریں، دس منٹس میں فارم اپلوڈ ہوتا ہے اور اتنی دیر میں فارم فل بھی ہو سکتا ہے،

عدالت نے سماعت چھ جون تک ملتوی کر دی

متعلقہ مضامین