لگژری گاڑیوں کی اجازت نہیں

سپریم کورٹ میں سرکاری افسروں اور وزراء کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک میں صرف اٹھارہ لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، بلٹ پروف گاڑیوں کی اجازت کیسے دی گئی _

چئیرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ مسٹر طارق آپ سے اس رویے کی توقع نہیں تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ایف بی آر سے گاڑیوں کی مکمل معلومات نہیں ملیں، ایف بی آر کے آفیسر گاڑیاں لے کر گھومتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری طور پر ضبط گاڑیاں افسروں نے آپس میں بندر بانٹ کر لی _

ایف بی آر کے چیئرمین نے کہا کہ میں نے تمام معلومات عدالت کو فراہم کردی ہیں _ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان لینڈ ریونیو کے پاس 57 لگژری ہیں جبکہ 57ٹیمپرڈ گاڑیوں کو ڈمپ کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈمپ کرنے سے قبل یہ گاڑیاں آفیسرز کیوں استعمال کر رہے تھے، لگژری گاڑیاں افسروں کو دی کیوں جاتی ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایسی گاڑیوں کو کارآمد رکھنے پر کتنا خرچہ آتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایف بی آر کے تمام افسروں سے لگژری گاڑیاں واپس لیں، چیئرمین نے کہا کہ 57 گاڑیاں واپس کھڑی کر دی گئی ہیں،

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تین ماہ میں گاڑیوں کی مرمت پروگرام کتنے اخراجات آئے ہیں، یہ اخراجات خزانے سے دیئے جاتے ہیں، افسران 13سو سی سی سے زائد کی گاڑی استعمال نہیں کر سکتے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ نیب حکام کدھر ہیں، نیب گاڑیوں کی واپسی کے معاملات کی تحقیقات کرے،

تسلیم کرتا ہوں افسران گاڑیوں کا غلط استعمال کرتے ہیں، چئیرمین ایف بی آر

اگر ایسا ہے تو پھر آپ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، ملک میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی، لوگوں سے ایف بی آر ٹیکس اکٹھا کرتا ہے، چیف جسٹس

افسران ای سی سی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، چیئرمین ایف بی آر

ایف بی آر کے محکمہ میں کوئی احتساب نہیں چیف جسٹس

ایف بی آر نے لگژری گاڑیاں نہیں خریدیں، چئیرمین ایف بی آر
پاکستان میں لوکل گاڑیوں کی انڈسٹری کیوں بیٹھ گئی، اسمگلنگ کی گاڑیوں کی وجہ سے انڈسٹری بیٹھ گئی،  ہر افسر یہی کہتا ہے سارے کام اس سے پہلے ہوئے، یہ بتا دیں اسمگلنگ کا کام کب بند ہو گا، بلیو ایریا سمیت ملک بھر میں گاڑیوں کی اسمگلنگ کا مال فروخت ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے اس قوم کو بددیانتی سے بچا دیں، اس ملک کی صنعت تباہ ہو جائے گی، ملک کو کدھر لے کر جا رہے ہیں، آئندہ نسل کو کیا دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کھلے عام پنڈی میں باڑہ مارکیٹ بنی ہوئی ہے۔ایف بی آر نے کیا ایکشن لیا، میں کہیں جا کر چھاپہ ماروں تو اعتراض آ جائے گا، سیاستدانوں، سرکاری افسران نے اسمگلنگ کی مارکیٹ بنا رکھی ہے، سب کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا، افسران نے قانون سے فرار کے راستے بنا رکھے ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ مشکوک گاڑیوں کے استعمال سے متعلق پالیسی کس نے بنائی،

اقتصادی رابطہ کونسل نے 2006 میں یہ پالیسی بنائی، چیئرمین ایف بی آر

کیا ہم ای سی سی کے ارکان کو بلا لیں، چیف جسٹس

عدالت حکم کرے تو فیصلے پر نظرثانی کی سمری بنا لیتے ہیں، چیئرمین ایف بی آر

مشکوک گاڑیاں ڈمپ کرنے سے متعلق بیان حلفی دیں، چیف جسٹس کا چیئرمین ایف بی آر سے مکالمہ
قائد اعظم تھرمل سے ایک لگژری گاڑی ریکور کر لی ہے، تین پراڈو اور آٹھ ٹیوٹا گاڑیاں بھی ریکور کی ہیں، ڈبل کیبن گاڑیاں بھی لگژری گاڑیوں کی کٹیگری میں آتی ہیں، چیف سیکرٹری پنجاب

لگژری گاڑیوں پر اربوں روپے کا خرچہ ہو رہا، 18لاکھ ملک کے ٹوٹل ٹیکس ادا کرنے والے ہیں، ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسوں پر لگژری گاڑیاں چلتی ہیں، چیف جسٹس

تیس میں چار ڈبل کیبن گاڑیاں ریکور کر لی ہے، چیف سیکرٹری

ڈبل کیبن گاڑی کی اجازت دے دیتے ہیں، ڈبل کیبن کے علاوہ بھی لگژری گاڑیاں موجود ہیں، چیف جسٹس

پنجاب کی کمپنیوں سے بھی لگژری گاڑیاں ریکور کر لی ہیں، ریکور گاڑیاں لاہور میں دو مقامات پر پارک کردی ہیں، وزراء سے پانچ بلٹ پروف گاڑیاں ریکور کی ہیں، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جی، سی سی پی او، لاہور کے پاس بھی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، چیف سیکرٹری

آپ کے پاس بھی بلٹ پروف گاڑی ہے؟ چیف جسٹس کا چیف سیکرٹری سے مکالمہ

آپ ہمارے دوست ہیں ایک گاڑی رکھ لیں، چیف جسٹس

وزیر اعلٰی نے بھی ایک لگژری بلٹ پروف گاڑی واپس کردی، چیف سیکرٹری

سابق وزیر اعلیٰ قانون کے تحت کتنی گاڑی لے سکتا ہے، چیف جسٹس

سکیورٹی خدشات کی بنا پر گاڑیاں دی گئی، چیف سیکرٹری

وزیر اعلیٰ کے گھر کے باہر جالیاں اور پول لگے ہوئے ہیں، ماڈل ٹاؤن کے گھر کے سامنے پارک کو ختم کردیا گیا ہے، پارک میں بچے کھیلا کرتے تھے، چیف جسٹس

ماڈل ٹاؤن کے گھر کے سامنے پارک میں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں، چیف سیکرٹری

گاڑیاں اپنے گھر میں پارک کرلیں، چیف جسٹس

کہتے ہیں انوشہ رحمان کو سکیورٹی خدشات ہیں، چیف جسٹس

انوشہ رحمان کو بلٹ پروف نہیں دی، کرنل ر شجاع پر خود کش حملے کے بعد گاڑیاں وزراء کو دی گئیں، چیف سیکرٹری پنجاب

ماڈل ٹائون کے گھر کے باہر کی ویڈیو بنا کر دیں، چیف جسٹس

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب، چیئرمین ایف بی آر سے لگژری گاڑیوں پر بیان حلفی طلب کر لیا

قانون کے مطابق سابق وزرائے اعلی کو سکیورٹی دیں، چیف جسٹس

بلوچستان میں 49 لگژری گاڑیاں ریکور کر لی ہیں، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان

سات وزراء سے گاڑیوں واپس کیوں نہیں لی گئیں، چیف جسٹس

آج رات تک تمام سابق وزراء سے گاڑیاں واپس لیں، گاڑیاں واپس نہ کیں تو ہر گاڑی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا، ایک ہفتے بعد جرمانہ دو لاکھ روپے ہوگا، چیف جسٹس

کیس کی سماعت 11جون تک ملتوی

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے