کیا عمران خان کو موقع ملنا چاہئے؟

واجد منہاس

معروف برطانوی اداکار Patrick Murrey نے کہا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جس کے نام میں لفظ ”جمہوری“ آتا ہو وہ اصل میں جمہوری پارٹی نہیں ہوتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستان تحریک انصاف کا لگتا ہے کہ جس کے نام میں تو ”انصاف“ کا لفظ آتا ہے مگر یہ پارٹی اپنے کام میں انصاف کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ پا رٹی اپنی نظریاتی اساس، اپنے منشور اور اپنے کارکنوں کے ساتھ ناانصافی سے کام لے رہی ہے۔

اگر ہم تحریک انصاف کے نظریے اور منشور کو دیکھیں تو اس پارٹی نے ایک نیا پاکستان بنانے کا عزم کیا تھا۔ ایک ایسا پاکستان جس میں ایک موثر ریاستی ڈھانچے کو تشکیل دے کر حکمرانی کے بحران کو ختم کرکے انصاف اور برابری کی بنیادوں پر ایک نیا نظام لانا تھا اور پاکستان کے عوام کو موجودہ بدعنوان اور فرسودہ نظام سے چھٹکارا دلانا تھا۔ لیکن پارٹی کے موجودہ حالات دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پارٹی اپنے نظریے اور منشور سے انحراف کر رہی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ایک ایسی پارٹی بنتی جس میں ایک عام پاکستانی ایک کارکن کی حیثیت سے شامل ہو کر اپنی صلاحیتوں اور محنت کے بل بوتے پر ترقی کرتے پارٹی کے اعلیٰ عہدوں تک رسائی حاصل کر سکتا لیکن آج عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ یقیناً اس کو پارٹی کی بنیادی اساس اور نظریے کے ساتھ ناانصافی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پارٹی کو ایک ایسی پارٹی بننا تھا جو عملی طور پر ایک شخصیت کے گرد نہ گھومتی جیسا کہ دوسری سیاسی جماعتیں گھومتی ہیں بلکہ ایک مضبوط تنظیمی نیٹ ورک کی شکل میں اتنی مضبوط ہوتی کہ بوقت ضرورت اپنے ہی لیڈر کا بھی محاسبہ کر سکتی۔ مگر ایسا بھی نہ ہو سکا۔ اس پارٹی نے اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کچھ اس انداز میں کرنی تھی کہ وہ نہ صرف اپنے سیاسی مخالفین سے دلیل اور شائستگی کے ساتھ مکالمہ کرتے بلکہ سیاسی اختلاف کی اہمیت کو بھی سمجھتے۔ مگر آج اس پارٹی کے کارکنوں کی اکثریت بمشکل ہی کسی قسم کے سیاسی اختلاف کو برداشت کر پاتی ہے بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کی تضحیک کرنا فرض سمجھتی ہے۔

اس پارٹی نے ایک ایسی پارٹی بننا تھا جو کہ تیسری دنیا کے جمہوری ملکوں کیلئے ایک مثال ہو۔ انصاف کا تقاضا تو یہی تھا کہ یہ پارٹی پاکستان کے پہلے سے کمزور سیاسی نظام اور اداروں کی مضبوطی کیلئے مثبت کردار ادا کرتی نہ کہ دھرنوں اور لعن طعن کے ذریعے ان اداروں کو مزید کمزور کرتی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاسی نظام کی حمایت میں نوجوانوں میں تعمیری کوچ کو پروان چڑھاتی نہ کہ ان نوجوانوں میں منفی سوچ اور مایوسی پھیلاتی۔

پاکستان میں کئی دہائیوں سے سرگرم اصل استعماری طاقتوں جن میں اسٹیبلشمنٹ، جاگیردار، وڈیرے، روایتی سیاستدان اور سرمایہ دار وغیرہ شامل ہیں کے خلاف عملی جدوجہد کرتی نہ کہ خود انہی لوگوں کی آماجگاہ بن جاتی۔ لوگوں کی کردار کشی کی بجائے اس ملک کو درپیش حقیقی چیلنجوں (یعنی بے روزگاری، جہالت، غربت، آبادی، بنیادی سہولتوں کا فقدان وغیرہ) سے نمٹنے کیلئے ایک قابل ٹیم کا انتخاب کرتی، جامع پروگرام ترتیب دیتی اور مربوط حکمت عملی وضع کرتی نہ کہ خالی باتوں کے پکوڑے تلتی۔

اچھا ہوتا کہ یہ پارٹی اپنے اندر پہلے سے آزمائے ہوئے لوگوں کو سمونے کی بجائے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی اور پھر اسے نکھار کر ایک قابل ٹیم کے طور پر قبول کرتی نہ کہ دوسری جماعتوں کا گند اکٹھا کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتی۔ ایک صوبے میں حکومت حاصل کرنے کے بعد اپنی بہترین کارکردگی سے عام ووٹر کو متاثر کرتی اور یوں مرکز میں حکومت بنا کر پاکستان کی بہتر خدمت کرتی اور پاکستان کے فرسودہ سیاسی نظام پر لوگوں کے عدم اعتماد کو ختم کرتی ۔ اسٹیبلشمنٹ کی نہیں بلکہ حقیقی عوامی طاقت سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتی۔ پارلیمنٹ کے اندر ایک موثر اپوزیشن کا رول ادا کرتی نہ کہ کچھ کٹھ پتلی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر پارلیمنٹ پر حملہ کرتی۔

اگر ایمانتداری سے دیکھا جائے تو درج بالا تمام کام کرنا کوئی راکٹ سائنس بھی نہیں تھی اور نہ ہی عمران خان جیسے معقول شخص کیلئے یہ کام انجام دینا ناممکنات میں سے تھا۔ بات صرف صاف نیت، مربوط حکمت عملی اور مطلوبہ قابلیت کے ہونے کی تھی۔ یہاں یہ کہنا تو غلط ہو گا کہ عمران خان کی نیت ٹھیک نہیں تھی بلکہ میری ناقص رائے میں اس کام کی انجام دہی کیلئے درکار قابلیت بہرحال خان صاحب میں نہیں تھی۔ لہٰذا نہ تو کوئی حکمت عملی بنی اور نہ ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکے۔ ایسا ہونا کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں کیونکہ سیاست ایک فل ٹائم پیشہ ہے اور اس پیشے کو اختیار کرنے والوں میں بہرحال کچھ صلاحیتوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سیاست صرف سیاستدان ہی کرتے ہیں نہ کہ اداکار، کھلاڑی اور کاروباری لوگ اور عالم۔  عمران خان چونکہ ایک کرکٹر ہیں لہٰذا ان سے زیادہ یعنی سیاسی طور پر زیادہ توقعات رکھنا بھی انصاف کے عین خلاف ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ مستقبل میں بھی عمران سیاسی طور پر کچھ حاصل ڈلیور کر سکیں گے کیونکہ آج ان کی جماعت بھی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے جس کی تمام تر توجہ اس وقت صرف اور صرف حصولِ ا قتدار پر مرکوز ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے تحریک انصاف کسی بھی طرح کی ناانصافی کرنے کو تیار نظر آتی ہے۔ چاہے یہ ناانصافی اپنے دیرینہ کارکنوں کی بے قدری کی صورت میں ہو جیسے فوزیہ قصوری جیسے لوگوں کا جانا۔ یا پھر اصل استعماری طاقتوں کا آلہ کار بننے کی صورت میں جیسے سینیٹ کے الیکشن میں ادا کیا گیا کردار۔ یا پھر دوسری جماعتوں کے لوٹوں کو اکٹھا کرنے کی صورت میں جیسے آج دوسری پارٹیوں کے روایتی سیاست دانوں کی جوق در جوق شرکت قبول کرنا یا پھر اپنے بنیادی نظریے کی قربانی کی

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے